Inquilab Logo Happiest Places to Work

’بچوں کے والدین بنیں دوست نہیں ، والدین کی ذمہ داریاں کون نبھائے گا؟‘

Updated: September 11, 2023, 11:27 AM IST | Shahab Ansari | Mumbai

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اور شاہین انسٹی ٹیوٹ کے پروگرام میں علما ءاور ماہرین تعلیم کا اظہار خیال۔

From right, Dr. Kaleem Khan, Dr. Abdul Qadeer, Maulana Mehdi Hasan Aini Qasmi and Maulana Yahya Khan are sitting on the Naqshbandi stage while Tanveer Shaikhis giving a speech.Photo: Inquilab
دائیں سے ڈاکٹر کلیم خان، ڈاکٹر عبدالقدیر، مولانا مہدی حسن عینی قاسمی اود مولانا یحییٰ خان نقشبندی اسٹیج پر بیٹھے ہوئے ہیں جبکہ تنویر شیخ ممبئی تقریر کرتے ہوئے۔( تصویر :انقلاب)

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے شعبۂ اصلاح معاشرہ کے زیر اہتمام شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے ’فکری و تہذیبی ارتداد، اسباب و حل‘ کے عنوان سے انجمن اسلام سی ایس ٹی، ممبئی میں ایک اجتماع عام منعقد کیا گیا تھا تاکہ موجودہ حالات کے پیش نظر اولاد کی صحیح تربیت کی جاسکے اور مرتد ہونے سے بچانے کی تدابیر سے عوام کو آگاہ کیا جاسکے ۔ اس پروگرام میں علماءاور ماہرین تعلیم نے اپنی تقاریر میں قوم و ملت کو درپیش مختلف مسائل کے حل پیش کئے۔چیئرمین شاہین ادارہ جات بیدر و رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ ڈاکٹر عبدالقدیر نے انقلاب کو بتایا کہ ’’علما ئےکرام کی جانب سے سماج میں پھیلی برائیوں کو ختم کرنےکی کوششیں ہورہی ہیں لیکن عوام میں ان برائیوں کو ختم کرنے کی غرض سے عملی کوشش نہیں دیکھنے کو مل رہی تھی جس کی وجہ سے اس ذمہ داری کو نبھانے کا خیال آنے پر ہم نے عوام میں جاکر مختلف مقامات کا دورہ کیا اور ان مسائل کا پتہ لگانے کی کوشش کی جس سے قوم اور دین کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ اس کے بعد اس تعلق سےآل انڈیا پرسنل لاءبورڈ کے صدر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کو تفصیل بتائی اور یہ بھی بتایا کہ ’فکری و تہذیبی ارتداد، اسباب و حل‘ کے عنوان سے پروگرام کرکے عوام میں بیداری پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ خالد سیف اللہ رحمانی نے اس کو پسند کیا اور اجازت دے دی جس کے بعد ضلع بِیدر میں ایسے ۶؍ پروگرام کئے گئے، مہاراشٹر میں ۴؍ اور اب ممبئی میں کیا گیا اور پورے ملک میں کیا جائے گا۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان پروگراموں کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں لوگوں سے عہد بھی لیا جارہا ہے کہ وہ مقررین کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز پر عمل کی کوشش کریں گے۔
 مولانا یحییٰ خان نقشبندی (ماہر اسلامیات و بانی خانقاہ رحمانیہ نقشبندی) نے کہا کہ ہر دور میں نظر اور عقل کی سوچ پر چلنے والے اور انبیاءؑ کی خبر پر یقین کرکے چلنے والے موجود رہے اور کامیاب وہی ہوئے جنہوں نے خبر کا راستہ اختیار کیا۔
 انہوں مثال کیلئے قرآن میں موجود حضرت موسیٰؑ کا واقعہ بیان کیا کہ فرعون نے جب اپنی موت کے خوف سے نومولود بچوں کا قتل شروع کیا اور حضرت موسیٰؑ کی پیدائش ہوئی تو اللہ نے موسیٰؑ کی والدہ کے دل میں بات ڈالی کہ اپنے بچے کو دریا میں ڈال دو۔ مولانا یحییٰ نے کہا کہ یہاں نظر اور عقل سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ بچے کو دریا میں ڈالنے سے اس کی موت کا خدشہ ہے لیکن خبر یہ تھی کہ بچے کو دریا میں ڈالنا ہے اور اس پر عمل کرنے پر اللہ نے موسیٰؑ کو فرعون کے محل میں پال کر دکھایا۔ 
 انہوں نے یوسف ؑ کا واقعہ بھی بیان کرکے کہا کہ کبھی کبھی برائیوں سے بچنے کا راستہ نظر نہیں آتا لیکن ہمارے قدم اٹھانے کی دیر ہوتی ہے۔ یوسفؑ ۷؍ مقفل دروازوں میں تھے لیکن جب انہوں نے برائی سے بچنے کیلئے قدم بڑھایا تو اللہ تعالیٰ نے تمام دروازے اور تالے کھول دیئے اور یوسفؑ گناہ سے بچ گئے۔مولانا حسن عینی قاسمی (ڈائریکٹر انڈیا اسلامک اکیڈمی دیوبند، آرگنائزر اصلاح معاشرہ کمیٹی آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ) نے کہا کہ ارتداد ۳؍ مختلف زمروں میں آتا ہے۔ پہلے ارتداد فکروں میں آتا ہے پھر تہذیب میں آتا ہے اور آخر میں انسان عقیدہ سے بھی مرتد ہوجاتا ہے اس لئے دیگر برائیوں کے ساتھ مخلوط نظام تعلیمی سے بھی بچنے کی اشد ضرورت ہے۔
 انہوں نے یہ بھی کہا کہ کسی بھی برائی سے بچنے کیلئے سب سے اہم کام یہ ہے کہ اُس جگہ سے دور ہٹ جائیں ۔ اس کے علاوہ ایک دہائی قبل تک گھر کے بڑے بزرگ، ماموں ، خالہ اور پھوپھی وغیرہ بچوں کی تربیت میں شامل رہتے تھے۔ بچے کوئی غلط کام کرتے تھے تو وہ ٹوک دیتے تھے لیکن اب وہ ماحول نہیں رہا اس لئے والدین کی ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں اور انہیں یہ ذمہ داری نبھانا بھی ہے کیونکہ آخرت میں اس تعلق سے بھی سوال کیا جائے گا۔ماہر تعلیم، مینجمنٹ کنسلٹنٹ اور مصنف ڈاکٹر کلیم خان نے انتہائی سخت لہجے میں طلبہ اور والدین دونوں کو دو ٹوک انداز میں سمجھانے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ اصل پڑھائی گھر پر ہوتی ہے اور اگر کوئی طالب علم گھر پر نہیں پڑھ رہا ہے تو وہ دھوکے میں ہے۔ مزید یہ کہ تعلیم کو صرف ملازمت، ترقی، کامیابی کیلئے حاصل نہ کریں بلکہ تعلیم حاصل کریں صحیح اور غلط کے درمیان فرق سمجھنے کیلئے اور جو سیکھا ہے اس کو عمل میں لانے کیلئے۔ انہوں نے والدین سے کہا کہ وہ اپنے بچوں کے دوست نہ بنیں کیونکہ بچے دوست ہزاروں بنالیں گے لیکن والدین کی ذمہ داری کون پورا کرے گا؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK