• Sat, 09 December, 2023
  • EPAPER

ملک میں جمہوریت کو بچانے کیلئے بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کرنا ضروری ہے

Updated: May 25, 2023, 9:44 AM IST | Mumbai

اُدھوٹھاکرے نے بھی مرکز کے خلاف ’آپ‘ کی مکمل حمایت کا وعدہ کیا، کہا کہ آرڈیننس جاری کرکے مودی سرکار نےظاہر کردیا کہ اسے سپریم کورٹ پر اعتماد نہیں ہے

Arvind Kejriwal and Bhagwant Mann meet Uddhav Thackeray in Matushree (PTI)
 اروند کیجریوال اور بھگونت مان نے اُدھو ٹھاکرے سے ماتوشری میں ملاقات کی۔( پی ٹی آئی)

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ملک  میں  جمہوریت کو بچانے کیلئے بی جےپی کو اقتدار سے بے دخل کرنا ضروری ہے،اُدھو ٹھاکرے نے بدھ کو عام آدمی پارٹی  کے سربراہ اروند کیجریوال کو یقین دلایا کہ مرکز کے خلاف ان کی لڑائی میں مکمل  شیوسینا اُدھو بالاصاحب ٹھاکرے پوری قوت کے ساتھ رہے گی۔
  دہلی کے وزیراعلیٰ اور عام آدمی پارٹی (آپ) کے سربراہ اروند کیجریوال نے بدھ کو پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگونت مان کے ساتھ بدھ کو اُدھو ٹھاکرے سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔  وہ دہلی حکومت سے   افسران کی تقرری اور تبادلے کے ساتھ ہی دیگر کئی اختیارات چھین لینے والے مرکزی حکومت کے آرڈیننس کو راجیہ سبھا میں ناکام کرنے کیلئے اپوزیشن پارٹیوں کی حمایت حاصل کرنے کی مہم پر نکلے ہوئے ہیں۔ منگل کو انہیں ممتا بنرجی سے بھی ملاقات کرکے راجیہ سبھا میں حمایت کا وعدہ حاصل کیا ہے۔ ادھو ٹھاکرے ،کیجریوال  اور بھگونت مان نے ماتوشری میں ملاقات کرنے کے بعدان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے بھی خطاب کیا۔ انہوں  نے  آرڈیننس جاری کرنے پر مودی سرکار کو تنقید کانشانہ بناتے ہوئے کہا کہ  اس سے ظاہر ہے کہ وہ   وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو بھی نہیں مان رہی ہےاور  اپنی من مانی کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ’’ملک کی جمہوریت کو بچانا ہےتو اگلے لوک سبھا کے الیکشن میں بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھنا  ضروری ہے۔‘‘اروند کیجروال اور بھگونت مان  جمعرات کو شرد پوار سے ملاقات کریں گے ۔
  ادھو ٹھاکرے کہاکہ’’ گزشتہ چند دنو ں میں اروند کیجریوال دوسری مرتبہ ماتوشری آئے ہیں۔آنے والا سال انتخابات کا سال  ہے، اگر اس بار ٹرین چھوٹ گئی تو ہمارے ملک سے جمہوریت ختم ہو جائے گی۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ اپوزیشن ہم نہیں بلکہ وہ لوگ ہیں جو ملک سے جمہوریت کو ختم کرنا چاہتے ہیں ۔ ملک کی جمہوریت کی بقا کیلئے ہم سبھی ملک سے محبت کرنے والے متحد ہوئے ہیں۔‘‘

 ادھو  نے کہا کہ عدالت نے  ۲؍ اہم فیصلہ دیئے ہیںایک شیو سینا کے تعلق سے اور دوسرا دہلی کے بارے میں۔جمہوریت میں سب سے زیادہ اہمیت منتخب حکومت کو دی گئی ہے لیکن  عوام کے ذریعے چنی ہوئی دہلی حکومت کے خلاف مرکز  آرڈیننس لایا  ہے۔ یہی چلتا رہا ہےتو ملک میں جمہوریت ختم ہو جائے گی  اور اسی لئے ہم ایک ساتھ آئے ہیں۔‘‘کیجریوال  نےا س موقع پر  بتایا کہ ’’۸؍ سال سپریم کورٹ میں لڑائی لڑی اور جب کورٹ نے دہلی حکومت کے حق میں فیصلہ سنایا  تو ۸؍ دن  بعد مرکزی حکومت نے آرڈیننس   جاری کر کے ہماری حکومت کی ساری طاقت چھین لی۔‘‘ انہوں منتخب حکومتوں کیساتھ  مرکز کے رویے کا حوالہ دیتے ہوئے  بتایا کہ ’’ پنجاب میں بجٹ اجلاس منعقد کرنے کیلئے گورنر نے اجازت نہیں دی جسکی وجہ سے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑا۔بھگونت مان  نے کہا کہ جمہوریت میں عوام کے منتخب کردہ افراد حکومت چلاتے ہیں لیکن بی جےپی کے دور میں سلیکٹیڈ لوگوں کے ذریعے نظام چلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ’ ’نظریاتی اختلافات کے باوجود ہمیں ملک کو بچانے کیلئے متحد ہونا پڑے گا اور بی جےپی کو اقتدار سے دور کرنا پڑےگا۔ جب دیش ہی نہیں بچے گا تو سیاسی پارٹیاں کیا کریں گی۔‘‘ انہوں  نے   اندیشہ ظاہر کیا کہ اگر اس مرتبہ بھی بی جے پی اقتدار میں آگئی تو آئین بدل دے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK