کئی کسان لیڈر حراست میں لے لئے گئے۔یہ کسانوں کیخلاف مرکز اور پنجاب حکومت کی سازش ہے : کانگریس
EPAPER
Updated: March 21, 2025, 11:00 AM IST | Chandigarh
کئی کسان لیڈر حراست میں لے لئے گئے۔یہ کسانوں کیخلاف مرکز اور پنجاب حکومت کی سازش ہے : کانگریس
گزشتہ روز چندی گڑھ میں مرکزی وفد کے ساتھ میٹنگ کے بعد واپس آتے ہوئے کئی کسان لیڈروں بشمول سرون سنگھ پنڈھیر اور جگجیت سنگھ ڈلیوال کو موہالی میں حراست میں لے لیا گیا۔ اس دوران پنجاب پولیس نے احتجاج کرنے والے کسانوں کو شمبھو اور کھنوری بارڈر سے ہٹانا شروع کر دیا ہے۔ پولیس نے احتجاج کرنے والے کسانوں کے اسٹیج اور خیمے اکھاڑکر وہاں بلڈوزر چلادیا ہے۔ واضح رہے کہ کسانوں کے احتجاج کی وجہ سے یہ دونوں بارڈر گزشتہ ایک سال سے بند تھی۔ پولس نے کئی کسان لیڈروں کو حراست میں لے لیا جن میں سرون سنگھ پنڈھر اور جگجیت سنگھ ڈلیوال شامل ہیں۔شمبھو بارڈر اور کھنوری بارڈر پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ احتجاجی مقام پر ایمبولینس، بسیں اور فائر بریگیڈ کی گاڑیاں تعینات کر دی گئی ہیں۔
نیوز پورٹل ’اے بی پی‘ پر شائع خبر کے مطابق پٹیالہ رینج کے ڈی آئی جی مندیپ سنگھ سندھو کی قیادت میں تقریباً ۳؍ہزار پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔پنجاب کے وزیر خزانہ ہرپال سنگھ چیمہ نے پولیس کی کارروائی کو درست قرار دیا ۔ انہوں نے کہاکہ `بارڈر بلاک کی وجہ سے ریاست کی معیشت کو کافی نقصان پہنچ رہا تھا ۔ دونوں شاہراہیں پنجاب کی لائف لائن ہیں اس لئے یہاں سے کسانوں کو ہٹایا گیا ہے۔ انہوں نےکہا کہ `کسانوں کو دہلی جا کر احتجاج کرنا چا ہئے۔اس تعلق سے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ امریندر سنگھ راجہ وڈنگ نے مرکز اور پنجاب حکومتوں پر کسانوں کے خلاف سازش کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ `کسانوں کو مذاکرات کی یقین دہانی کرائی گئی تھی لیکن اب انہیں کھدیڑا جارہا ہے۔ یہ مرکز اور پنجاب حکومت کی سازش ہے۔