• Thu, 27 February, 2025
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

غیر قانونی طورپر نندور بار میں مقیم یمنی جوڑے کیخلاف معاملہ درج

Updated: February 13, 2025, 11:35 AM IST | Inquilab News Network | Nandurbar

۹؍ سال قبل بزنس ویز ا پر آئے خالد ابراہیم اور خدیجہ ابراہیم ویزا ختم ہونے پر بھی تعلیمی ادارے کے ہاسٹل میں مقیم تھے۔

Action by Akkalkuva Police. Photo: INN
اکل کوا پولیس کی کارروائی۔ تصویر: آئی این این

 نندور بار کے مشہور جامعہ  اشاعت العلوم  اکل کوا میں رہنے والے یمنی جوڑے  خالد ابراہیم صالح الخادمی اور اسکی اہلیہ خدیجہ ابراہیم قاسم النشیری کے خلاف پولیس نے معاملہ درج کیا ہے۔ ساتھ ہی انہیں غیر قانونی طور پر پناہ دینے کے معاملے میں جامعہ اشاعت العلوم کے ٹرسٹیان کے خلاف بھی معاملہ درج کیا گیا ہے۔  اطلاع کے مطابق یہ دونوں میاں بیوی ۹؍ سال سے ہندوستان میں رہ رہے ہیں اور یہیں ان کے ۲؍ بچے بھی پیدا ہوئے ہیں  جن  کے برتھ سرٹیفکیٹ بھی انہوں نے گرام پنچایت سے بنوا لئے ہیں۔ 
  پولیس ذرائع کے مطابق خالد ابراہیم  اور خدیجہ یمن کے شہر صنعاء سے ۲۲؍ نومبر ۲۰۱۵ء کو بزنس ویزا پر ہندوستان آئے تھے۔ یہاں ان کا قیام نندور بار کے شہر نواپور میں تھا۔ خدیجہ نے اپنے بچے کے علاج کی خاطر اپنا ویزا بڑھا لیا تھا  اور نندور بار کے اکل کوا علاقے میں واقع اسلام اسپتال چلی آئی تھی۔  اس طرح خالد کا ویزا  ۶؍ دسمبر ۲۰۱۵ء اور خدیجہ کا ویزا ۱۱؍ دسمبر ۲۰۱۵ء کو ختم ہونے والا تھا۔ مگر پولیس کا الزام ہے کہ ویزا ختم ہونے کے بعد اپنے وطن جانے کے بجائے وہ اکلو کوا کے جامعہ اشاعت العلوم کے ہاسٹل میں رہنے لگے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اسی دوران دونوں کے ۲؍ بچے بھی ہوئے جن کا برتھ سرٹیفکیٹ انہوں نے مقامی گرام پنچایت سے بنوا لیا۔ اس دوران وہ مدھیہ پردیش ایک پروگرام میں شرکت کیلئے گئے جہاں پولیس نے  انہیں غیر قانونی طریقے سے رہنے کے جرم میں گرفتار کر لیا۔ عدالت نے انہیں یا تو واپس چلے جانے یا ویزا کی توسیع تک یمن قونصلیٹ میں رہنے کا حکم دیا لیکن وہ نندور بار چلے آئے اور جامعہ اشاعت العلوم میں رہنے لگے۔ گزشتہ دنوں کسی نے پولیس کو اطلاع دی اور پولیس نے پوچھ تاچھ کے بعد دونوں میاں بیوی کے خلاف معاملہ درج کر لیا۔ جبکہ انہیں غیر قانونی  پناہ دینے کے معاملے میں جامعہ اشاعت العلوم کے بانی غلام محمد رندھیرا (وستانوی) ،حذیفہ محمد رندھیرا (وستانوی) اور اسٹاف کے کچھ لوگوں پر بھی معاملہ درج کیا۔ فی الحال کسی کی گرفتاری کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
انقلاب نے جامعہ اشاعت العلوم کے ایک ذمہ دار شیخ اخلاق سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ جامعہ نے اس معاملے میں اب تک اپنا بیان جاری نہیں کیا ہے ۔ انتظامیہ جب اس پر کچھ کہے گا  تو آپ کو اطلاع دی جائے گی۔ البتہ بی جے پی کی مقامی اکائی نے شور مچانا شروع کر دیا ہے۔  پارٹی لیڈر وجے چودھری نے پریس کانفرنس منعقد کرکے  جامعہ کی جانچ کرنے اور اس طرح کے مزید معاملات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK