جیل انتظامیہ کے مطابق وزیر اعلیٰ کا شوگر لیول لگاتار بڑھ رہا تھا اور ۳۲۰؍ تک پہنچ گیا تھا ، اسی لئے انسولین دینے کا فیصلہ کیا گیا۔
EPAPER
Updated: April 23, 2024, 10:59 PM IST | Agency | New Delhi
جیل انتظامیہ کے مطابق وزیر اعلیٰ کا شوگر لیول لگاتار بڑھ رہا تھا اور ۳۲۰؍ تک پہنچ گیا تھا ، اسی لئے انسولین دینے کا فیصلہ کیا گیا۔
شراب پالیسی معاملہ میں جیل میں قید دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کی بیماری اور انسولین پر تنازع لگاتار جاری ہے اور عام آدمی پارٹی اور بی جے پی کے درمیان بیان بازی بھی جاری ہے۔ دریں اثنا، نیوز پورٹل ’آج تک‘ نے خبر دی ہے کہ تہاڑ جیل میں کیجریوال کو پہلی بار انسولین دیا گیا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق جیل میں کیجریوال کا شوگر لیول لگاتار بڑھ رہا تھا۔ ان کا شوگر لیول ۳۲۰؍ تک پہنچ گیا تھا۔ جس کے بعد انہیں انسولین دینے کا فیصلہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: پولنگ فیصد بڑھانے کی فکر، اعلیٰ سطحی میٹنگ
تہاڑ ذرائع نے بتایا کہ پیر کی رات کے کھانے کے بعد کیجریوال کو انسولین دی گئی۔ ایمس کے ڈاکٹروں نے مشورہ دیا تھا کہ بالکل ضروری ہونے پر ہی انسولین دیا جائے جس کے بعد پیر کی شام کیجریوال کو انسولین دیا گیا۔خیال رہے کہ اس سے پہلے عام آدمی پارٹی کے کئی لیڈروں نے کیجریوال کو انسولین نہ دینے کے معاملے پر تہاڑ جیل کے سامنے مظاہرہ کیا تھا۔ عام آدمی پارٹی نے الزام لگایا تھا کہ دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کو تہاڑ جیل کے اندر ’رفتہ رفتہ موت‘ کی طرف ڈھکیلا جا رہا ہے۔ پارٹی نے سوال اٹھایا تھا کہ عہدیدار انہیں انسولین دینے سے کیوں انکار کر رہے ہیں۔