Inquilab Logo Happiest Places to Work

۶۶؍ سال سے جاری عیداسپورٹس میں بچوں نے جوش وخروش سے حصہ لیا

Updated: April 02, 2025, 10:21 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

عیداور باسی عید کو سائوٹر اسٹریٹ میںمختلف کھیلوں کےمقابلوں میں۱۲۵؍ بچوںاور نوجوانوں نےشرکت کی۔ جیتنے والوں کے ساتھ ساتھ ہارنے والوں کو بھی حوصلہ افزائی کے انعامات دیئے گئے

Boys and girls participating in running competitions at Eid Sports held in South Street.
ساؤٹراسٹریٹ میں منعقدہ عیداسپورٹس میں بچے اور بچیاں دوڑ کےمقابلوں میں حصہ لیتے ہوئے۔

یہاں کے سائوٹر اسٹریٹ میں گزشتہ روایت کےمطابق امسال بھی عید الفطر کے موقع پر ’عید اسپورٹس کمیٹی ‘  کے زیر اہتمام ۲؍روزہ کھیل کودکے مقابلے منعقد کئے گئے ۔ امسال کچھ نئے قسم کے دوڑ کے مقابلے کے ساتھ رنگ فٹ بال ، پزلزاور واٹر اسپرے رننگ مقابلے متعارف کرائے گئے  جن میں ۳؍ سال سے۱۸؍ سال کی عمر کے   بچوں اور نوجوانوں نے جوش وخر وش سے حصہ لیا۔واضح رہےکہ میگھراج شیٹی مارگ ،سائوٹر اسٹریٹ کےکچھ دور اندیش اور قوم کا درد رکھنےوالی شخصیات نے ۶۰؍ کی دہائی میں یہاں کے   بچوںکی تعلیم وتربیت اور ان میں کھیل کود کا جذبہ پیدا کرنے کیلئے ’ عیداسپورٹس کمیٹی ‘ قائم کی تھی جوگزشتہ ۶۶؍سال سے پابندی اور خوش اسلوبی سے اپنی ذمہ داری نبھا رہی ہے۔ اس کے تحت ہر سال عید کے دن کھیل کودکےمقابلے منعقدکئے جاتےہیں۔ 
 امسال عید کے علاوہ باسی عید کو بھی کھیل کود کے مقابلےمنعقد کئے گئے جن میں قرب وجوار کے چھوٹے بچوںکے علاوہ اسکولی طلبہ اور نوجوانوں نے جوش وخروش سے حصہ لیا۔ عیداسپورٹس کی مقبولیت کا اندازہ  اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہ سلسلہ ۶۶؍ سال جاری ہے۔  
 سائوٹر اسٹریٹ کی آغاخان، عمر سیٹھ، جسدون، ہری جے رام اور ہینگ والی چال کے مرحوم عبدالقدوس جہانگیر، محمد امین انصاری، محمد سعید رسول بخش، عبدالرحمٰن صوفی ( سابق میونسپل کائونسلر)، صابر بھائی ، محمد عمر انصاری اور نبی حسن ٹیلر وغیرہ نے ’عید اسپورٹس کمیٹی ‘ کی بنیاد ڈالی تھی۔اب نئی نسل نے اس مہم کی باگ ڈور سنبھال لی ہے اور وہ بھی بڑی ذمہ داری  کے ساتھ عید اسپورٹس کا انعقاد کررہی ہے۔
  مصطفیٰ نے انقلاب کو بتایاکہ ’’ امسال تقریباً ۱۲۵؍ لڑکے اور لڑکیوں نے مختلف کھیل کود کے مقابلوںمیں حصہ لے کراپنی عمدہ کاکردگی کا مظاہر ہ کیاجن میں  اوّل ،دوم اور سوم مقام حاصل کرنےوالے بچوںاور نوجوانوںکو انعامات سے نوازاگیا۔ جوبچے اور نوجوان کامیاب نہ ہوسکے، انہیں بھی حوصلہ افزائی کے انعامات دیئے گئے تاکہ مقابلہ میں شکست کھانے سے ان میں مایوسی نہ آئے ۔ انہیں بطور انعام تعلیمی اشیاء مثلاً اسکول بیگ، اسٹیشنری، پانی کی بوتل ، ٹفن باکس اور پنسل وغیرہ دی گئیں  ۔ آئندہ سال ان کھیل کود کے ساتھ بچوں کے مابین قرأت اور اسلامی بیت بازی مقابلہ منعقد کرنے کا بھی ارادہ  ہے۔‘‘ ایک سوال کے جواب میں انہوںنے بتایاکہ ’’ کھیل کود کے مقابلےمیں حصہ لینے کیلئے بچے کی عمر کم ازکم ۳؍سال ہونی چاہئے اور بڑی عمر والوںکیلئے قیدنہیں ہے ۔ مختلف قسم کی ریس (دوڑ)  کےمقابلے مثلاً چمچ گوٹی، بورا، موم بتی، الفابیٹ ، ایڈ اینڈسبسٹریکٹ، ہاکی اینڈ بال، آٹاپیپر منٹ ، غبارہ، جمپنگ جیک، کارڈ بورڈ ، جرمن بال ، کیلا، پانی اسپرے ، ون ٹوکا فوراور اسپنج اینڈ باٹل ریس شامل ہیں۔ان دوڑکے مقابلوںکے علاوہ امسال میوزیکل چیئر اور سٹی مقابلےمیں بھی بچوںنے جوش وخروش سے حصہ لیا۔ اسی طرح ہنڈی پھوڑنے والا کھیل بھی بہت دلچسپ ہوتاہے ۔ ایک رسی میں ہنڈی باندھ دی جاتی ہے ۔ مقابلہ میںحصہ لینےوالے کی آنکھ پر پٹی باندھ کر اس کے ہاتھ میں ایک ڈنڈا دے دیاجاتاہے ،ڈنڈا سے ہنڈی پھوڑنی ہوتی ہے۔ پہلے صرف عیدوالے دن کھیل کودکےمقابلے منعقدکئے جاتےتھے لیکن امسال عیدکے دوسرے  دن بھی مقابلے منعقدکئے گئے ۔ باسی عید کے دن ون ٹوکافور رننگ مقابلہ، رنگ فٹ بال کا مقابلہ اور پزلز وغیرہ کا انعقاد کیاگیا۔‘‘   

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK