دونوں جانب کے طلبہ کی ایک دوسرے پر الزام تراشیاں ، ۷؍ ایف آئی آر کے بعد بھی بائیں محاذ کے طلبہ پُرعزم، طلبہ تنظیم کے انتخابات تک تحریک جاری رکھنے کااعلان۔
EPAPER
Updated: March 04, 2025, 10:10 AM IST | Agency | Kolkata
دونوں جانب کے طلبہ کی ایک دوسرے پر الزام تراشیاں ، ۷؍ ایف آئی آر کے بعد بھی بائیں محاذ کے طلبہ پُرعزم، طلبہ تنظیم کے انتخابات تک تحریک جاری رکھنے کااعلان۔
پیر کو کولکاتاکی جادو پور یونیورسٹی میں ترنمول کانگریس پارٹی کی طلبہ تنظیم اور سی پی ایم کی طلبہ تنظیم (ایس ایف آئی) کے درمیان طلبہ یونین کے انتخابات کے مطالبات پر زبردست تصادم ہوا۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر گشت کرنےوالے کچھ ویڈیوز بھی منظر عام پر آئے ہیں جن میں لڑکے اور لڑکیاں آپس میں متصادم ہیں۔
خیال رہے کہ جادو پور یونیورسٹی میں گزشتہ۵؍ سال سے طلبہ یونین کے انتخابات نہیں ہوئے ہیں۔ اسٹوڈنٹ فیڈریشن آف انڈیا (ایس ایف آئی) اور دیگر طلبہ تنظیمیں گزشتہ کئی دنوں سے یونیورسٹی میں احتجاج کر رہی ہیں اور ممتا حکومت سے انتخابات کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ طلبہ تنظیموں کا کہنا ہے کہ آئندہ سال ہونے والےمغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات سے قبل طلبہ تنظیم کاالیکشن ہوجا نا چاہئے۔
اسی احتجاج، مظاہرے اور ہنگامہ آرائی کے دوران یکم مارچ کو ریاستی وزیر تعلیم برتیہ باسو ایک پروگرام میں شرکت کیلئے یونیورسٹی آئے تھے۔ جب طلبہ کو اس بات کا علم ہوا تو وہ اُن سے ملنے گئے اور انہیں اپنے مطالبات کی یادداشت پیش کی۔ طلبہ ان سے کچھ بات کرنا چاہتے تھے، اسلئے انہوں نے وزیر کے قافلے کو روک دیا اور کچھ طلبہ ان کی گاڑی میں سوار ہو گئے۔ کہا جاتا ہے کہ ہجوم اور ہنگامے کو دیکھ کر باسو کی طبیعت بگڑ گئی۔ اس پر ٹی ایم سی کے طلبہ وِنگ نے الزام لگایا کہ وزیر کے ساتھ بدتمیزی کی گئی۔ یہ بھی کہا گیا کہ طلبہ نے انہیں ۲؍ گھنٹے تک یرغمال بنائے رکھا۔ ٹی ایم سی کی طلبہ تنظیم کی شکایت پر پولیس نے۷؍ ایف آئی آر درج کی ہیں اور ایک کو گرفتار بھی کیا ہے۔
دریں اثنا ایس ایف آئی کے طلبہ نے الزام عائد کیا ہے کہ یکم مارچ کو یونیورسٹی میں ٹی ایم سی کی طلبہ تنظیم نے اُن کے دفتر شکشا بندھو کو آگ لگا دی تھی۔ اسی کے ساتھ ایس ایف آئی کے طلبہ کا کہنا ہے کہ کیمپس میں تشدد اور توڑ پھوڑ کے جو واقعات ہوئے ہیں، ان میں ان کی تنظیم کا کوئی کردار نہیں ہے۔
جادو پور تشددکا معاملہ ہائی کورٹ پہنچا
جادو پور یونیورسٹی میں جاری ہنگامہ آرائی کے مسئلے کو کلکتہ ہائی کورٹ میں پیش کیا گیا ہے۔ چیف جسٹس ٹی ایس شیوگنم اور جسٹس چیتالی چٹوپادھیائے کی بنچ نے کئی مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے اس کیس کی طرف توجہ مبذول کرائی۔ چیف جسٹس نے پہلے درخواست گزاروں کو یونیورسٹی ایڈمنسٹریٹر کے پاس جانے کیلئے کہاالبتہ مدعی کے وکیل کی بات سننے کے بعد مقدمہ درج کرنے کی اجازت بھی دے دی۔ وکلاء نے اس واقعہ کی جانب ہائی کورٹ کی توجہ مبذول کرائی اور پولیس پر حد سے زیادہ سرگرمی کے الزامات بھی عائد کئے۔
پیر کو درخواست گزار کے وکیل شبھم داس نے درخواست کی کہ جادو پور میں طلبہ کیلئے حفاظتی انتظامات کئے جائیں۔ اتنا ہی نہیں جادو پور یونیورسٹی میں سی آئی ایس ایف یا پھر خصوصی پولیس کی ٹیمیں تعینات کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ وکیل کے مطابق وائس چانسلر طلبہ کو سیکوریٹی فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ علاوہ ازیں انہوں نے سپریم کورٹ یا کلکتہ ہائی کورٹ کے سابق جج کی نگرانی میں جادو پور میں ایک کمیٹی تشکیل دینے کا بھی مطالبہ کیا۔