Inquilab Logo Happiest Places to Work

کولمبیا یونیورسٹی: محمود خلیل کی رہائی کیلئے یہودی طلبہ کا انوکھا احتجاج

Updated: April 03, 2025, 3:35 PM IST | New York

کولمبیا یونیورسٹی کے فلسطین حامی طالب علم محمود خلیل کیلئے بدھ کو یہودی طلبہ نے زبردست احتجاج کیا۔ انہوں نے ۴۵؍ منٹ کیلئے کیمپس کی باڑ اور گیٹ سے اپنے آپ کو زنجیر اور ہتھکڑیوں سے باندھ لیا۔ طلبہ نے کہا کہ اس وقت غالباً ہم ہی ہیں جو مظاہرہ کرلینے کا خطرہ مول لے سکتے ہیں۔

Jewish student protest. Photo: X
یہودی طلبہ کا احتجاج۔ تصویر: ایکس

کولمبیا یونیورسٹی کے درجنوں یہودی طلبہ نے بدھ کو ۴۵؍ منٹ کیلئے کیمپس کی باڑ اور گیٹ سے زنجیر اور ہتھکڑیوں کی مدد سے اپنے آپ کو جکڑ کر محمود خلیل کی رہائی کیلئے احتجاج کیا۔ شیعہ نامی ایک طالبہ، جس نے تربوز کے ڈیزائن والا لباس اور کیفی پہن رکھا تھا، نے صحافی میگھناد بوس کو بتایا کہ یونیورسٹی کے ٹرسٹیز امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کو نشانہ بنانے میں براہ راست ملوث ہیں، جو محمود خلیل کی قیادت میں ہونے والے احتجاج میں شامل طلبہ کو نشانہ بنا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ٹرسٹیز نے کولمبیا میں خلیل اور دیگر فلسطینی حامی طلبہ کے نام حکومت کے حوالے کر دیئے ہیں۔ ہم یہاں اس کے خلاف احتجاج کے طور پر یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ یونیورسٹی ہمیں بتائے کہ کون سے ٹرسٹیز، یونیورسٹی انتظامیہ کے کون سے ممبران اس کے ذمہ دار ہیں، تاکہ ہم ان کیلئے فوری کارروائی کا مطالبہ کر سکیں اور انہیں جوابدہ ٹھہرائیں۔‘‘

شیعہ نے مزید کہا کہ یہودی طلبہ اس احتجاج کی قیادت کر رہے ہیں کیونکہ ہمارے بین الاقوامی طلبہ پر حملے اتنے شدید، اتنے خطرناک، اتنے غیر متناسب تھے کہ صرف ہم ہی ہیں جو اس وقت احتجاج کرنے کا خطرہ مول سکتے ہیں۔‘‘ یہودیوں کے زیر قیادت گروپ ’’اِف ناٹ ناؤ‘‘ کے شریک بانی، سیمون زیمرمین نے کہا، ’’ان بہادر یہودی طلبہ کے ساتھ ہماری محبت اور یکجہتی ہے۔ انہوں نے یونیورسٹی کے اپنے دوست محمود خلیل کو فسطائی انتظامیہ کے حوالے کرنے کے خلاف احتجاج میں خود کو کولمبیا کے دروازوں سے جکڑ لیا ہے۔ طلبہ یہ خطرہ اس لئے مول لے رہے ہیں کہ وہ جانتے ہیں کہ ان کے بیشترساتھی ایسا نہیں کر سکتے۔‘‘

israel Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK