Inquilab Logo Happiest Places to Work

’اسمارٹ سٹی مشن‘ کے خاتمے پرمودی سرکار سے کانگریس کا سوال

Updated: April 02, 2025, 11:27 AM IST | New Delhi

سپریہ شرینیت نے پوچھا کہ اس ناکامی کیلئے کون ذمہ دار ہے؟ اس میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی کا الزام بھی عائد کیا۔

Congress spokesperson Supriya Shrinit. Photo: INN
کانگریس کی ترجمان سپریہ شرینیت۔ تصویر: آئی این این

 کانگریس نے ایک بار پھر مودی حکومت کو اپنے نشانے پر لیا ہے۔ اس بار موضوع ہے ’اسمارٹ سٹی‘۔ ۲۰۱۴ء میں مودی حکومت کے وجود میں آنے کے بعد اس نے ایک بڑ اوعدہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک میں وہ ملک میں ۱۰۰؍ اسمارٹ سٹی بنائے گی۔ اس مد میں ایک بڑی رقم خرچ بھی کی گئی لیکن ۱۰؍سال سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے بعد وعدہ مکمل نہیں ہوسکا۔کانگریس نے اسی حوالے سے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مودی سرکار کاایک اور وعدہ جملہ ثابت ہوا ہے۔
 کانگریس کی ترجمان سپریہ شرینیت نے مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ’’وزیراعظم مودی نے ملک کے عوام کو۱۰۰؍ اسمارٹ سٹی کے نام کا ایک جھنجھنا پکڑایا تھا۔ اس کی بڑے پیمانے پر تشہیر بھی کی گئی، بڑے بڑے بینر اور پوسٹر لگائے ، تقریروں میں لمبی لمبی لفاظی کی گئی، گودی میڈیا دن رات اسمارٹ سٹی کی تعریف کرنے لگا اوراس تشہیر پر عوام کی گاڑھی کمائی کا پیسہ پانی کی طرح بہایا گیا، لیکن باقی جملوں کی طرح ہی اس کا بھی ڈبہ گول ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ’’ اس طرح عوام کےہزاروں کروڑ روپے ہضم کر لئے گئے اور اسکیم بند کر دی گئی۔ یہ بہت بڑی بدعنوانی ہے جو نریندر مودی نے کی ہے۔‘‘
سپریہ شرینیت نے اس پر ایک  ویڈیو پیغام ’ایکس‘ پر جاری کیا ہے۔ اس میں انہوں نے کہا کہ ’’ایک اور جملے کا خاتمہ۔ اسمارٹ سٹی مشن ختم۔۱۰۰؍میں سے صرف۱۶؍ شہروں میں کام پورا ہونے کا دعویٰ،۸۴؍ شہروں میں۱۴؍ ہزار کروڑ روپے کے کام ادھورے،۱۰؍ سال میں۳؍ مرتبہ ڈیڈ لائن بڑھی۔۱۰۰؍ شہروں کو مارچ۲۰۲۳ء تک  اپنے پروجیکٹ پورے کرنے تھے۔‘‘
اسمارٹ سٹی مشن کے بارے میں گفتگو کے بعدانہوں نے سوال کیا کہ ’’جن شہروں میں کام پورا ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، کیا وہ واقعی میں اسمارٹ سٹی بن گئے ہیں؟ بریلی سے لے کر رانچی، سورت سے لے کر  بنارس تک اوربڑودہ سے لے کر پونے تک، جو شہر’ بنانے‘ کا دعویٰ کیا جارہا ہے، کیا اسے اسمارٹ سٹی کا نام دیا جاسکتا ہے؟ان شہروں سڑکیں اب بھی کھدی ہوئی ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’کسانوں کی دُگنی آمدنی کرنی کی بات ہو یا روپیہ اور ڈالر کو ایک ہی قیمت پر  لانے کا دعویٰ ،۱۵؍ لاکھ ہر اکاؤنٹ میں ڈالنے کی بات ہو یا پھر۲؍ کروڑ کو سالانہ روزگار دینے کا وعدہ، یا پھر اسمارٹ سٹی بنانے کا جملہ، یہ سارےمنصوبے تو خوب ڈھول نگاڑے کے ساتھ لائے گئے تھے، لیکن حقیقت میں ناکام ہو گئے۔ یہ صرف نکماپن ہی نہیں بلکہ اس میں بدعنوانی بھی ہے۔ اسمارٹ سٹی مشن کے نام پر ہزاروں کروڑ روپے پھونک دیئے گئے اور اب یہ اسکیم بند کر دی گئی۔‘‘
سپریہ شرینیت نے اسمارٹ سٹی اسکیم بند ہونے کی خبر سامنے آنے کے بعد مودی حکومت کے سامنے کچھ تلخ سوالات بھی رکھے ہیں۔ انھوں نے پوچھا ہے کہ ’’اس خرچ کیلئے جوابدہ کون ہے؟ عوام کے ہزاروں کروڑ روپے ہضم کر کے ڈکار بھی نہ لینے کیلئے ذمہ دار کون ہے؟ کون ہے اس ناکام اسکیم کا ذمہ دار؟ کیا مودی حکومت صرف اسکیم بند کر کے، کام درمیان میں چھوڑ کر اپنا پلہ جھاڑ سکتی ہے؟‘‘ ویڈیو پیغام کے آخر میں سپریا شرینیت یہ بھی کہتی ہیں کہ ’’زبانی جمع خرچ کے علاوہ یہاں تو بدعنوانی کی بھی بو آ رہی ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK