Inquilab Logo Happiest Places to Work

وقف بل پر راجیہ سبھا میں بحث ،حکومت اور اپوزیشن کے اپنے اپنے دلائل

Updated: April 03, 2025, 11:13 PM IST | New Delhi

جے پی نڈانے ترکی کی مثال دی، کہا’’ وہاں حکومت نے ۱۹۲۴ء میںہی وقف املاک کو کنٹرول میں لے لیا تھا ، میں نے دیکھا ہےکہ ۷۰؍ سال میںوہاں کیسےترقی ہوئی ‘‘،کانگریس کی پُر زور مخالفت

Congress leader Syed Naseer Hussain
کانگریس لیڈر سید نصیر حسین

  وقف ترمیمی بل بدھ کو لوک سبھا میں منظور ہونے کے بعد جمعرات کو راجیہ سبھا میں پیش کیا گیاجس پر خبر لکھے جانے تک بحث جاری تھی ۔ بیجو جنتا دل (بی جے ڈی) نے وقف بل پر کہا کہ پارٹی نے اپنے ممبران  پارلیمنٹ کو کوئی وہپ جاری نہیں کیا ہے۔ اراکین پارلیمنٹ اپنے ضمیر کی بات سنیں اور وقف بل پر فیصلہ کریں۔اسی دوران مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا نے وقف بل پر اپوزیشن کے موقف کو نشانہ بنایا۔ نڈا نے کہا ’’ ہم نے وقف بل کے تعلق سے کانگریس کی قیادت والی یو پی اے حکومت سے کہیں زیادہ سنجیدگی دکھائی۔ یہ بل پارٹی مفاد کا نہیں، قومی مفاد کا معاملہ ہے۔ اس لیے اس مسئلے پر بحث ہونی چاہئے۔
نڈا نے مسلم ممالک کا حوالہ دیا 
 عراق، شام سمیت مسلم ممالک کی مثالیں دیتے ہوئے جے پی  نڈا نے کہا کہ تین طلاق کو وہاں پہلے ہی ختم کر دیا گیا تھا۔ ہندوستان میں اسے ختم کرنے اور مسلم بہنوں کو قومی دھارے میں لانے کا کام  مودی نے کیا۔ کانگریس نے مسلم بہنوں کو قومی دھارے میں آنے سے روکا۔ انہوں نے وقف کے حوالے سے مسلم ممالک میں کی گئی اصلاحات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ترکی میں ۱۹۲۴ء  میں ہی وقف املاک کو حکومت کے کنٹرول میں لے لیا گیا تھا ۔  میں نے دیکھا ہے کہ۷۰؍ برسوں میں کیسے ترقی ہوئی ہے۔ کانگریس نے مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری  بنا کررکھا۔ ہماری کوشش صرف یہ ہے کہ اسے(وقف پراپرٹی کو) قواعد کے دائرے میں لایا جائے۔ ہم ۲۰۱۳ء کی ترمیم کے حامی تھے لیکن اس کا غلط استعمال ہوا۔
 بی جے پی کے صدر نے کہا کہ یہ آئین کے محافظ ہیں، اسے  جیب میں رکھتے ہیں لیکن ہم  استعمال کرتے ہیں۔ وقف کے فیصلے کو سول کورٹ میں چیلنج نہیں کر سکتے، کیا ہم اکیسویں صدی میں رہ رہے ہیں؟ کیا وقف کا قانون اوور پاور تھا یا نہیں؟ کیا یہ آئین کی بنیادی روح کو چیلنج نہیں کرنے والا ہے؟ انہوں نے وقف ایکٹ کی ہر دفعہ پر تفصیل سے اپنی بات رکھی۔ نڈا نے پانچ سال پریکٹسنگ اسلام کے التزام پر کہا ’’میں مذہب سے متعلق معاملات میں زیادہ گہرائی میں نہیں جانا چاہتا جو شخص چندہ دے رہا ہے وہ مستند ہونا چاہئے۔ آپ صرف یہ کہتے ہیں کہ میں پانچ سال سے نماز پڑھ رہا ہوں، میں اسلام کی پیروی کر رہا ہوں، مولوی کہتے ہیں کہ یہ ہو جائے گا۔ وقف بورڈ بغیر دستاویزات کے کسی بھی جائیداد پر دعویٰ کردیتا تھا۔‘‘
کانگریس لیڈر سید نصیر حسین کا اعتراض 
 اس پر اعتراض کرتے ہوئے کانگریس لیڈر سید نصیر حسین نےاس کی تصدیق کا مطالبہ کیاتو تمل ناڈو کے ایک گاؤں کو وقف جائیداد قرار دیے جانے کا ذکر کرتے ہوئے  نڈا نے کہا کہ جے پی سی کے سامنے آنے والے دستاویزات ہی اگر پیش کردئے جائیں تو اس کی تصدیق ہو جائے گی۔ اس پر نصیرحسین نے کہا کہ اس گاؤں کی ۲۰؍ فیصد اراضی وقف جائیداد تھی۔۲۰۰۰ءمیں ڈیجیٹلا ئزیشن کے وقت، ریوینیو حکام نے غلطی سے اسے وقف جائیداد کے طور پر درج کر دیا تھا۔ وقف نے ریکارڈ پر کہا ہے کہ وہ اس جائیداد کا مالک نہیں ہے۔
 کانگریس کے سید نصیر حسین نے  بی جے پی پر ملک میں پولرائزیشن کی سیاست کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ حکومت  یہ بل صرف وقف املاک پر قبضہ کرنے کیلئے لائی ہے  جبکہ بی جے پی کے رادھا موہن داس اگروال نے کہا کہ اس کا مقصد وقف کو کسی کی جائیداد پر دعویٰ کرنے سے روکنا اور غریب مسلمانوں کی فلاح وبہبود کیلئے  وقف املاک کوااستعمال کرنا ہے۔ حسین نے وقف (ترمیمی)بل۲۰۲۵ء اور مسلم وقف (منسوخی) بل۲۰۲۵ء پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ جب متعلقہ بل۱۹۹۵ء اور۲۰۱۳ء میں پیش کئے گئے تھے تو بی جے پی نے ان کی حمایت کی تھی۔ انہوں نے سوال کیا کہ بی جے پی نے اس کی حمایت کیوں کی تھی اور اسے اتفاق رائے سے کیوں منظور کیا تھا۔۲۰۰۹ء میں بی جے پی نے اپنے انتخابی منشور میں اس سے متعلق ایک کمیٹی کی رپورٹ کا ذکر کرتے ہوئے اسے نافذ کرنے کی بات کہی تھی۔ ۲۰۱۳ء  میں کانگریس حکومت نے اس کمیٹی اور سچر کمیٹی کی رپورٹس کو ملا کر ترمیم کی تھی اور  بی جے پی نے اس کی حمایت کی تھی ۔  ۲۰۲۴ء میں جب بی جے پی لوک سبھا انتخابات  میں ۴۰۰؍سیٹیں نہیں جیت سکی تھی اور اسے۲۴۰؍ سیٹیں ملیں تھیں، تب وہ یہ ترمیم لے کر آئی تھی تاکہ پولرائزیشن کی جا سکے اور مذہب کی سیاست کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل مسلم کمیونٹی کو بدنام کرنے والا ہے اور وقف ایکٹ کے حوالہ سے گمراہ کن پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔
 اقلیتی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ راجیہ سبھا میں کہا کہ ترمیم شدہ بل کے تحت کوئی بھی غیر مسلم کسی بھی طرح سے مسلمانوں کی مذہبی سرگرمیوں میں مداخلت نہیں کرے گا۔ ہم نے شفافیت، جوابدہی اور درستگی پر مرکوز تبدیلیاں کی ہیں۔ ہم یہاں کسی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے لیے نہیں ہیں۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ غریب مسلمانوں کو انصاف ملے۔
کھرگے  نے انوراگ ٹھاکر کو چیلنج 
 ۲؍ اپریل کو لوک سبھا میں وقف ترمیمی بل پر بحث کے دوران مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر نے کانگریس صدر ملکارجن کھرگے پر کرناٹک میں وقف کی زمین قبضہ کرنے کا سنگین الزام عائد کیا تھا۔ اس معاملے میں جمعرات کو کھرگے نے راجیہ سبھا میں سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔  انہوں نے جواب دیا کہ  ’’یہ بی جے پی والے جو الزام لگا رہے ہیں، ثابت کر دیں۔ میں ٹوٹ جاؤں گا، لیکن  جھکوں گا نہیں۔ اگر آپ ثابت کر دیں گے تو میں استعفیٰ دے دوں گا۔‘‘انہوں نے کہا میرے پاس ایک انچ بھی وقف کی زمین نہیںہے،انوراگ ٹھاکر نے غلط کہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK