دہلی فساد کےملزمین بری ، کورٹ کو پولیس کی جانچ پر شبہ، انکوائری کا حکم

Updated: November 25, 2021, 9:28 AM IST | new Delhi

ثبوت نہ ہونے پرڈی سی پی کو حکم دیا ہے کہ پتہ لگائیں کہ کیا جان بوجھ کر ملزمین کو بچانے کی کوشش کی گئی ہے

Court suspects police probe.
کورٹ کو پولیس کی جانچ پر شبہ

: دہلی میں فساد کے ایک کیس میں ثبوت کی عدم دستیابی کی بنا پر تمام ۵؍ ملزمین  کے بری کردیئے جانے کے معاملے میں  پولیس کی جانچ پر شبہ ظاہر کرتے ہوئے دہلی کی عدالت  نے ڈی سی پی (نارتھ ایسٹ دہلی ) کو یہ معلوم کرنے کی ذمہ  داری سونپی ہے کہ کیا تفتیش کاروں  نے جان بوجھ کر ملزمین کو بچانے کی کوشش کی ہے۔ 
 یاد رہے کہ ایڈیشنل سیشن جج وریندر بھٹ نے ۵؍ افراد کو فسادی گروہ کا حصہ ہونے، ۲۵؍ فروری ۲۰۲۰ء کو شکایت کنندہ فیروز خان کی میڈیکل شاپ اور مکان   میں توڑ پھوڑ اور ۲۲؍ سے ۲۳؍ لاکھ کی دوائیں اور کاسمیٹک کا سامان لوٹ کر لے جانے   کے ۵؍ ملزمین کوخاطر خواہ  ثبوت  نہ ہونے کی وجہ سے بری کردیا ہے۔ 
 جج نے جانچ کی جانچ کرنےکا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملزمین کو اس لئے بری نہیں کیاگیا کہ مذکورہ واردات نہیں ہوئی ہے  یا انہیں جھوٹے کیس میں پھنسایاگیا ہے بلکہ انہیں اس لئے بری کیا گیا ہے کہ ان کے خلاف ضروری ثبوت پیش ہی نہیں کیاگیا۔ 
 کورٹ نے حکم دیا ہے کہ ’’نارتھ ایسٹ دہلی کے ڈی سی پی اس معاملے میں کی گئی انکوائری  کے طریقہ کار کی جانچ کریں  اور پتہ لگائیں کہ کیا ملزمین کو بچانے کی دانستہ کوشش ہوئی ہے؟‘‘ کورٹ نے  ڈی سی پی کو معاملے کی اگلی شنوائی میں اپنی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔  کورٹ نے نشاندہی کی کہ اس معاملے میں فیروز خان واحد چشم دید گواہ ہے جس نے ملزمین کی شناخت  پولیس اسٹیشن  میں دکھائی گئی تصویروں سے کی تھی۔ ۲۲؍ نومبر  کے اپنے فیصلے میں جج وریندر بھٹ نے ملزمین کو بری کرتے ہوئے کہاہے کہ ’’ملزمین کے خلاف خاطر خواہ اور قانونی طور پر قابل قبول شواہد ہونے چاہئیں جن کی بنیاد پر فرد جرم عائد کی جاسکے مگر اس کیس میں  اس کی کمی ہے۔‘‘ جج نے کہا کہ چارج شیٹ میں یہ نہیں بتایاگیا کہ تفتیشی افسر نے دیگر گواہوں کو جمع کرنے کی کوشش کی یا نہیں۔ جج کے مطابق’’یہ واضح نہیں ہے کہ تفتیشی افسر نے ہی مزید کسی گواہ کو تلاش کرنے کی ضرورت نہیںسمجھی یا کوئی اور گواہ اس معاملے میں  آگے  آیا ہی نہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK