Inquilab Logo Happiest Places to Work

دہلی فساد کیس میں ۸؍ افراد کے خلاف الزامات طے، ۱۱؍ کو بری کردیا گیا

Updated: March 21, 2025, 9:58 AM IST | New Delhi

کڑکڑ ڈوما کورٹ نے۲۰۲۰ء میں شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات کے دوران آٹو ڈرائیور ببو کے قتل کے معاملے میں ۸؍ غیر مسلموں کو کوملزم بنایا۔

Karkardooma Court. Photo: INN.
کڑکڑڈوما عدالت۔ تصویر: آئی این این۔

کڑ کڑ ڈوما کورٹ نے ۲۰۲۰ء کے شمال مشرقی دہلی فسادات کے دور ان ایک آٹو ڈرائیور ببو کے قتل کے معاملے میں ۸؍ افرادکے خلاف الزامات طے کردئیے۔ کڑ کڑ ڈوما عدالت نے کیس کے دیگر۱۱؍ ملزموں کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کردیا۔ کڑ کڑ ڈوما عدالت نے راہل عرف اجے، سندیپ عرف سنجیو، ہرجیت سنگھ عرف ہیپی، کلدیپ، بھارت بھوشن عرف لکی، دھرمیندر عرف دھام، سچن گپتا عرف موپی اور سچن رستوگی کے خلاف الزامات طے کئے ہیں ۔ اس معاملے میں عدالت نے مذکورہ ملزموں کے خلاف دفعہ۱۴۸؍ (مہلک ہتھیار کے ساتھ فسادات)، ۱۵۳؍اے (گروپوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینا)، ۳۰۲؍ آئی پی سی کے ساتھ۱۴۹؍ (غیر قانونی اجتماع کے ذریعے قتل) اور۱۸۸؍ ( پولیس کے احکامات کی خلاف ورزی) کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔ آئی پی سی کی دفعہ ۱۲۰؍ بی اور مقدمہ میں آئی پی سی کی دفعہ ۵۰۵؍ کے تحت اشتعال انگیز تقریریں کرنا۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ غیر مسلم ہجوم کا مشترکہ مقصد تشدد بھڑکانا تھا اور ملزمین ببو پر قاتلانہ حملے کے ذمہ دار تھے۔ عدالت نے کہا کہ کئی گواہوں کے بیانات، فارنسک رپورٹس اور موبائل فون ڈیٹا نے دہلی پولیس کے دعوؤں کی تائید کی۔ عدالت نے کہا کہ گواہوں کی گواہی اور ویڈیو فوٹیج سے پتہ چلتا ہے کہ غیر مسلم ہجوم کےنے ببو کو خاص طور پر نشانہ بنایا اور مارا پیٹا۔ عدالت نے کہا کہ کئی عوامی گواہوں اور پولیس افسران نے ڈوزئیر کی تصاویر اور ویڈیو کلپ میں ملزم کی شناخت کی ہے۔ عدالت نے کہا کہ اگر تفتیشی افسر نے ویڈیو میں موجود تمام افراد کو گواہوں کے ذریعہ شناخت نہیں کیا تو اسے تفتیشی افسر کی کوتاہی سمجھا جا سکتا ہے تاہم تفتیشی افسر کی جانب سے اس طرح کی کوتاہی گواہوں کے شواہد کو ختم نہیں کرتی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK