ملک کو ۲۰۴۷ء تک ترقی یافتہ بنانے کا عزم ، عوام کو ۵؍ عہد کرنے کی تلقین

Updated: August 16, 2022, 9:12 AM IST | new Delhi

لال قلعہ سے ۸۲؍ منٹ طویل تقریر میں  وزیراعظم نے خاندانی سیاست اوربدعنوانی کے خاتمے پر زور دیا، خواتین کے احترام کی نصیحت کی اور جے جوان ،جے کسان کی طرز پر تحقیق کو فروغ دینے کیلئے ’جے انوسندھان ‘ کا نعرہ دیا

Prime Minister Narendra Modi addressing the Red Fort for the 9th consecutive time. In the 82-minute speech, he presented the plan for the next 25 years. (PTI)
وزیراعظم نریندر مودی لال قلعہ سے لگاتار۹؍ ویں بار خطاب کرتے ہوئے۔ ۸۲؍ منٹ کے خطاب میں انہوں نے آئندہ ۲۵؍ برسوں کی منصوبہ بندی پیش کی۔ (پی ٹی آئی)

آزادی کی ۷۵؍ ویں  سالگرہ کا جشن پیر کو ملک بھر میں جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا۔ا س دوران  وزیر اعظم نریندر مودی  اور  مختلف ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ نیز سیاسی جماعتوں کے لیڈروں نے دہلی اور   ریاستوں  کے  دارالحکومتوں میں قومی پرچم لہرایا اور ہم وطنوںکیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا نیز ان سے متحد ہونے اور  ملک کی ترقی  کے عزم کا اعادہ کرنے پر زور دیا۔
لال قلعہ  سے مودی کا ۹؍ واں خطاب
  دہلی میں لال قلعہ کی فصیل  سے وزیراعظم   مودی نے لگاتار ۹؍ ویں بار ہم وطنوں سے خطاب کیا ۔اس دوران انہوں نے ۲۰۴۷ءتک کا منصوبہ پیش کیااور اس عزم کااظہار کیا کہ ۲۰۴۷ء تک  ہندوستان کو پوری طرح ترقی یافتہ ملک بنا دینا ہے۔    انہوں نے   بدعنوانی اور خاندانی سیاست پر بھی نکیر کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ہندوستان بدعنوانی کے خلاف فیصلہ کن لڑائی کے دور میں داخل ہو گیا ہے۔‘‘ اس لڑائی میں انہوں نے ملک کے ہر شہری سے تعاون مانگتے ہوئے کہا کہ ’’ بدعنوانوں کے ساتھ کسی بھی قسم کی نرمی کرنا کسی بھی ملک کو زیب نہیں دیتا۔‘‘
 مکمل ترقی یافتہ ہندوستان کا ہدف
 لال قلعہ کی فصیل سے۸۲؍ منٹ طویل خطاب میں  وزیراعظم نے نوجوان نسل سے ملک کی ترقی کی راہ میں بدعنوانی، اقرباء پروری  اور نسل پرستی سے چھٹکارا حاصل کرتے ہوئے  اگلے۲۵؍ برسوں میں یعنی ۲۰۴۷ء تک (جب ہندوستان آزادی کی صد سالہ تقریب منا رہا ہوگا) ایک ترقی یافتہ ملک کے ہدف کو پورا کرنے کی اپیل کی۔  انہوں  نے کہا کہ  اس  ہدف کی راہ میں بدعنوانی اور اقرباء پروری  دو بڑے چیلنج  ہیں۔ انہوں  نے کہا  کہ بدعنوانی نے ملک میں عام لوگوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے، یہ ملک کو دیمک کی طرح کھوکھلا کر رہی ہے، اس کو ختم کر کے ہمیں اپنی قابلیت کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔
’ہم فیصلہ کن دور میں داخل ہوگئے ہیں‘
  مودی نے اعلان کیا کہ ’’اب میں واضح طور پر دیکھ سکتا ہوں کہ ہم بدعنوانی کے خلاف ایک اہم دور میں داخل ہو رہے ہیں۔ بڑے بڑے بھی بچ نہیں سکیں گے۔ جب ہم امرت کال کے ان  ۲۵؍  سالہ اہداف  پر گفتگو کرتے ہیں تو مجھے  احساس   ہوتا ہے کہ چیلنجز بہت ہیں، رکاوٹیں بہت ہیں، مشکلات بھی بہت ہیں، ہم اسے کم نہیں سمجھتے، لیکن دو موضوعات ایک بدعنوانی اور  دوسری  اقرباء پروری کلیدی ہیں۔‘‘ وزیراعظم نے کہا کہ ’’مجھے یقین ہے کہ ان تمام چیلنجوں ، خرابیوں  اوربیماریوں  سے اگر ہم  نے  ۲۵؍ سال کے  امرت کال میں   بروقت  نہ نمٹا تو یہ ایک زبردست شکل اختیار کر سکتا ہے۔ ‘‘    
بدعنوانی کے خلاف جنگ 
 وزیراعظم نے کہا کہ’’بدعنوانی ملک کو دیمک کی طرح کھوکھلا کر رہی ہے۔ مجھے اس کے خلاف لڑائی  لڑنی ہے، میرے۱۳۰؍ کروڑ ہم وطنو! آپ مجھے آشیر واد دیں، آپ میرا ساتھ دیں، میں آج آپ سے تعاون مانگنے آیا ہوں  تاکہ میں یہ جنگ لڑ سکوں۔ ملک یہ جنگ جیتنے میں کامیاب ہو کیونکہ کرپشن نے عام شہری کی زندگی تباہ کر دی ہے۔ ‘‘
جے انوسندھان کا نعرہ دیا
 وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی تقریر کے دوران ’’جے انوسندھان‘‘ کا  نیا نعرہ دیا جس کا مقصدریسرچ اور تحقیق کوفروغ دے کر ملک کو خود کفیل بنانا اور مختلف شعبوں میں درآمدات پر انحصار کم کرناہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو خود کفیل بنانے اور دیسی مصنوعات کو فروغ دینے کیلئے تحقیق پر زور دینا ضروری ہو گیا ہے۔
 وزیراعظم نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ ملک کے نوجوانوں کو  خلا سے لے کر سمندر کی گہرائیوں تک تحقیق کیلئے بھرپور مدد ملے۔ اسی لئے ہم خلائی مشن، ڈیپ اوشین مشن کو بڑھا رہے ہیں۔ خلا اور سمندر کی گہرائیوں میں ہمارے مستقبل کا لازمی حل ہے۔  انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ’جے جوان، جے کسان، جے  وگیان‘ کے بعد ہمیں ’جئے انوسندھان‘ بھی کریں۔    مودی نے کہاکہ ’’جے جوان، جے کسان کا لال بہادر شاستری جی کا منتر آج بھی ملک کے لیے متاثر کن ہے۔ اٹل جی نے ’جے وگیان ‘ کہہ کر اس میں ایک کڑی جوڑی تھی لیکن اب امرت دور کیلئے  جے  انوسندھان کو اس میں جوڑنا ضروری ہے۔ ‘‘اس دوران سیکوریٹی کے غیر معمولی انتظامات تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK