Inquilab Logo Happiest Places to Work

دھاراوی: ہاکروں کو ہٹانے کیلئے بی ایم سی کا عملہ تعینات رہےگا

Updated: April 04, 2025, 11:05 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai

ٹریفک جام کے مسئلہ کو حل کرنے کیلئے پولیس کی درخواست پر بی ایم سی کی کارروائی

The closure of the sign bridge has increased the number of hawkers in Dharavi.
سائن بریج بند ہونے سے دھاراوی میں ہاکروں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔

سائن بریج بند ہونے سے پیدا ہونے والے ٹریفک جام کے مسائل کو حل کرنے کیلئے پولیس کی درخواست پر بی ایم سی دھاراوی کے ۹۰؍ فٹ اور ۶۰؍ فٹ روڈ پر سے ہاکروں کو ہٹانے کیلئے اپنی ٹیم تعینات رکھے گی۔
 اطلاع کے مطابق بی ایم سی مزدوروں اور لائسنس ڈپارٹمنٹ کے افسران سمیت اپنے ۱۰؍ افراد پر مشتمل عملہ کو شاہو نگر پولیس اسٹیشن میں تعینات رکھے گی تاکہ ہاکروں کو راستوں پر کاروبار کا موقع نہ مل سکے اور گاڑیوں کی آمدورفت بغیر رکاوٹ سہولت سے جاری رہے۔
 سائن مشرق کو سائن مغرب سے جوڑنے والے اہم ترین سائن بریج کو از سر نو تعمیر کیلئے بند کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے گاڑیوں کی آمدورفت بُری طرح متاثر ہوئی ہے اور سائن اسٹیشن (مغرب) اور دھاراوی کے کئی علاقوں میں گاڑیوں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔ اس دوران سڑکوں کے کنارے ہاکروں کی موجودگی کی وجہ سے گاڑیوں کی آمدورفت میں رخنہ پڑتا ہے اور خاص طور پر شام کو اور رات میں ٹریفک جام رہتا ہے۔ ان باتوں کے پیش نظر خود پولیس نے بی ایم سی سے درخواست کی تھی کہ ہاکروں کو دھاراوی کے ۹۰؍ فٹ اور ۶۰؍ فٹ روڈ سے ہٹایا جائے۔
 شاہو نگر پولیس کی درخواست پر بی ایم سی کے ’جی ۔نارتھ‘ وارڈ نے ہاکروں کو ہٹانے میں مدد کی یقین دہانی کرائی ہے۔ شاہو نگر پولیس اسٹیشن کے ایک افسر نے بی ایم سی سے ہاکروں کو ہٹانے کی درخواست دینے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی ہائوکنگ زون نہیں ہے اور ہاکروں کی وجہ سے ٹریفک جام کے مسئلہ میں اضافہ ہوجاتا ہے۔
 اس سلسلے میں بی ایم سی کے ڈپٹی میونسپل کمشنر پرشانت سپکالے نے شہری انتظامیہ کے ذریعہ ہر طرح کی مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
 دھاراوی کے لوگوں کے مطابق چاہے انہیں شہر جانا ہو یا مضافات میں جانا ہو، پہلے انہیں سائن اسٹیشن تک آنا پڑتا ہے اس کے بعد وہ ٹیکسی یا رکشا لے کر آگے کا سفر طے کرتے ہیں۔ مغربی مضافات میں جانے کیلئے سائن بریج سب سے بہتر راستہ ہوا کرتا تھا لیکن اس کے بند ہونے سے گاڑیوں کا پورا بوجھ سائن اسپتال کے بریج پر آگیا ہے۔ لوگوں کا یہاں تک کہنا ہے کہ دھاراوی میں راستے اتنے زیادہ تنگ ہوگئے ہیں کہ صرف دھاراوی سے باہر نکلنے میں ہی دو گھنٹے صرف ہوجاتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK