ماتھیران میں ای رکشا کی اجازت ، مقامی افراد میں تجسس

Updated: May 14, 2022, 10:51 AM IST | Shahab Ansari | Mumbai

سپریم کورٹ نے تجرباتی طور پر اجازت دی۔ چند مقامی افراد کو تشویش بھی ہے کہ اس سے گھوڑے والوں اور قلیوں کا روزگار متاثر ہوگا

On the difficult passages of Mathiran, rickshaws are pulled by hand and taken to the tourists..Picture:Inquilab
ماتھیران کے دشوار گزار راستوں پر ہاتھوں سے رکشا کھینچ کر سیاحوں کو لےجایا جاتا ہے۔تصویر:انقلاب

سپریم کورٹ نے جمعرات کو اپنے فیصلے میں تجرباتی طور پر ماتھیران ہل اسٹیشن پر ای رکشا استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔ماتھیران میں برطانوی دور حکومت سے ہی موٹر گاڑیوں کا استعمال ممنوع ہے اور یہاں ہاتھ سے کھینچے جانے والے رکشے استعمال ہوتے ہیں لیکن گاڑیوں کی عدم دستیابی سے بوڑھے، بچوں اور بیمار افراد کو سفر میں پریشانی ہوتی ہےجس کی وجہ سے مقامی لوگوں کو امید ہے کہ ای رکشا آنے سے لوگوں کو فائدہ زیادہ اور نقصان کم ہوگا۔ جامع مسجد ماتھیران کے امام عبدالقدوس نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس فیصلے کا اہلِ ماتھیران کو بڑی بے صبری کا انتظار تھا۔ ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ اس سے مقامی لوگوں کے علاوہ جو سیاح یہاں آتے ہیں ان کو بھی سہولت ہوگی ساتھ ہی ٹورزم ڈپارٹمنٹ کو بھی اس کا فائدہ پہنچے گا۔ ‘‘ نعیم اڈھل نامی ایک مقامی شخص نے کہا کہ ’’یہاں بڑی تعداد میںلوگوں کا روزگار گھوڑوں اور قلی کے کام سے وابستہ ہے۔ اگر ای رکشا ’دستوری  ناکہ سےبازار‘ تک چلایا جائے اور یہاں کے پوائنٹس پر نہ جائیں تو کسی کا روزگار متاثر نہیں ہوگا اور ای رکشا کے مثبت نتائج ملیں گے اور سیاحوں کی تعداد بھی بڑھنے کی امید ہے۔‘‘ ماتھیران کے سابق میونسپل کارپوریٹر شیواجی شندے نے کہا کہ ’’فی الحال یہ پروجیکٹ ۳؍ ماہ کیلئے چلایا جائےگا جس میں  ۶۔۵؍ رکشا تجرباتی طور پر چلیں گے جس سے اس بات کا اندازہ ہوگا کہ یہاں ای رکشا کتنا کارآمد ثا بت ہوتا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’اکثر برسات میں ٹرین سروس متاثر رہتی ہے اور شام کو ۵؍ بجے کے بعد بھی ٹرین نہیں ملتی۔ ٹیکسی اسٹینڈ سے ماتھیران بازار تک تقریباً ۳؍ کلو میٹر کا راستہ طے کرنا سیاحوں کے لئے دشوار ہوتا ہے خاص طور پر جو لوگ رات کو خواتین اور بچوں کے ساتھ یہاں پہنچتے ہیں انہیں مزید دشواری ہوتی ہے۔ اگر ہر وقت یہاں ای رکشا کی سہولت دستیاب ہوگی تو سیاحوں کی تعداد میں اضافہ کا امکان ہے۔‘‘
 ماتھیران ہل اسٹیشن پر ای رکشا لانے کیلئے سپریم کورٹ میں پٹیشن داخل کرنے والے سنیل شندے نے انقلاب سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’انسان کو انسان رکشےمیں مزدور کی طرح کھینچ کر لے جائے یہ ایک بُری روایت ہے لیکن ’ایکو سینسٹیوزون‘ ہونے کی وجہ سے یہاں گاڑیوں کا داخلہ ممنوع ہے۔ اس کے علاوہ گائوں سے اسکول تقریباً ۳؍ کلو میٹر دور  ہے اور ٹیکسی اسٹینڈ سے بھی گائوں تقریباً اتنا ہی دور ہے اس لئے چھوٹے بچوں کو بھی اسکول کے بھاری بیگ کے ساتھ پیدل جانا پڑتا ہے، بزرگوں اور بیماروں کو کہیں بھی آنے جانے میں کافی تکلیف ہوتی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ان تمام باتوں کے مد نظر ۲۰۱۲ء میں یہ کوشش شروع کی گئی تھی کہ یہاں ای رکشاشروع کیا جائے لیکن یہاں پہاڑی راستوں کی وجہ سے پہلے تجرباتی طور پر گاڑیاں چلانا ضروری تھا تاکہ معلوم ہوسکے کہ کس طرح کی گاڑی یہاں چل سکتی ہے اس لئے سپریم کورٹ کا فیصلہ بالکل مثبت ہے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ رکشااگر ماتھیران کے اندرونی علاقوں میں نہ جائیں تب بھی اس سہولت کا مقصد فوت ہوجائے گا البتہ اس بات کا خیال رکھا جانا چاہئے کہ مقامی لوگوں کا روزگار متاثر نہ ہو۔ حکومت کو چاہئے کہ رکشا آنے سے جو لوگ متاثر ہوں گے ان کیلئے روزگار کا مناسب انتظام کرے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK