کووڈ کا اثر:ملازمین کی کمی مسئلہ بن سکتی ہے، ۲۱؍ سیکٹر متاثر ہونگے

Updated: January 13, 2022, 12:17 PM IST | Agency | New Delhi

ٹیم لیز کے سروے میں متذکرہ خدشہ اُبھرکر سامنے آیا ہے، کووڈ معاملات کے بڑھنے اوراس باعث پابندیوں کے سبب مسائل بڑھ سکتے ہیں

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

 کورونا وباء کی تیسری لہر کے درمیان ملک بھر میں ملازمین کی کمی کا چیلنج اُبھر سکتا ہے۔ کاروبار کے ۲۱؍ سیکٹرز میں کئے جانے والے سروے میں یہ اندیشہ سامنے آیا ہے ۔وباء کے بڑھتے معاملات کے سبب معاشی سرگرمیاں متاثر ہونے اورکاروبارکو نقصان پہنچنے کے خدشات بھی برقرار ہیں۔
’بلیوکالر ورک فورس‘کی کمی ہوسکتی ہے!
 روزگار کے میدان کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ’بلیو کالر ورکس فورس‘ کی کمی جلد ہی مختلف سیکٹرز کیلئے  چیلنج بن سکتی ہے۔ پہلےسے ہی کورونا کے معاملات میں تیزی  اور ریاستوں میں نافذ  پابندیوں اور سختیوں سے صنعتوں کو ملازمین کی کمی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ اسٹافنگ ریسورس فرم’ٹیم لِیزسروسیز‘ کے ایک سروے کے مطابق کاروبار کے ۲۱؍ شعبوں میں ۸۵۰؍ کمپنیوں میں سے لگ بھگ نصف کمپنیوں نے  اگلے ۳؍ ماہ میں ’بلیو کالر مین پاور‘کی خدمات حاصل کرنے کا ارادہ ظاہرکیا ہے ۔
کئی سیکٹرملازمین کی کمی کے مسئلہ سے جوجھ رہے ہیں
 حالانکہ کئی سیکٹر جن میں خاص طور سے مینوفیکچرنگ،  انجینئرنگ ، تعمیرات، ریئل اسٹیٹ، ہیلتھ کیئر اور فارما سیوٹیکل سیکٹر کو مزدوروں کی کمی کے دور سے گزرنا پڑرہا ہے۔ ٹیم لیز اور صنعت کے اندازوں کے مطابق کاروباروں  میں مزدوروں کی موجودہ کمی ۱۵؍ سے ۲۵؍ فیصد تک ہے۔ اگلے کچھ ماہ میں یہ فرق مزید بڑھ سکتا ہے کیونکہ کووڈ کی تازہ لہر ملک بھر میں پھیل گئی ہے ۔ 
ملازمین جٹانا ایک چیلنج بھرا کام
 ٹیم لیز سروسیز کے اسسٹنٹ وائس پریسڈنٹ امیت وڈیرا نے کہا کہ آنے والے مہینے میں مزدوروں کو جٹانا ایک چیلنج بھرا کام ہوسکتا ہے۔ مہاجر مزدور اپنے گھروں کو لوٹنے کے لئے پہلے سے ہی تیار بیٹھے ہیں۔ اس  سے موجودہ وقت میں ملازمین کی کمی کا سامنا ہورہا ہے۔ بڑے بڑے شہروں میں جس تیزی سے کورونا انفیکشن کے معاملات پھیل رہے ہیں اس سے یہ بحران اور گہرا ہوسکتا ہے۔ وڈیرا نے کہا کہ یہاں تک کہ فاسٹ موونگ کنزیومر گڈس(ایف سی جی) ، ای کامرس اور لاجسٹک جیسے سیکٹرز جہاں مزدوروں کی فراہمی مانگ کے موازنہ میں معمولی زیادہ ہے ، وہاں انفیکشن کی تعداد بڑھنے اور بین ریاستی پابندیوں کے سبب معاملہ بگڑسکتا ہے۔ حالانکہ کمپنی کے کچھ اعلیٰ افسر اور ماہرین معاشیات اب بھی پُرامید ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سبھی لوگ اور حکومتیں اس بار دو پچھلی لہروں کے موازنہ میں بہترطریقے سے تیار ہیں اور کئی موجودہ مین پاور کو برقرار رکھنے کے لئے کوششیں کررہے ہیں۔
بہتر طریقے سے تیار ہورہی ہیں کمپنیاں
 مہندرا گروپ کے چیف اکنامسٹ سچتانند شکلا نے کہا کہ اس بار حکومت، کمپنیاں بہترطریقے سے تیار ہیں۔ لیکن معیشت اور آبادی کو دیکھتے ہوئے ہزاروں  سیکٹر خاص طور سے غیر منظم سیکٹر میں ابھی بھی کچھ وقت کے لئے اس کا اثر دیکھنے کو ملے گا۔ اس  کے علاوہ شہروں میں جس طرح سے سپورٹ اور نوکریاں دستیاب ہیں وہ گاؤں میں نہیں ہیں اور اس کے باعث مزدوروں کو شہروں میں پھر سے لوٹنا ہی ہوگا۔ شکلا نے کہا کہ ہم نے اپنے گروپ میں بھی دیکھا ہے کہ مقامی طور سے دستیاب متبادل(مزدور) زیادہ لمبے وقت تک کارگر ثابت نہیں ہوتے ہیں۔ تھرمیکس، جے ایس ڈبلیو اسٹیل اور فوربز مارشل سمیت کئی کمپنیاں لیبر فورس کو بنائے رکھنے کے لئے اجرت، ہیلتھ کوریجا ور روزگار بیمہ کے علاوہ حاضری الاؤنس ، موبیلائزیشن کوسٹ، مزدوری کو بڑھانے سے جڑے ترغیبی اقدامات پر دھیان رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK