عہدِ حاضر کے منفرد اور کہنہ مشق بزرگ شاعر فہمی بدایونی کا اتوار کو انتقال ہو گیا۔ فہمی بدایونی گزشتہ تقریباً دو تین ماہ سے صاحب فراش تھے۔
EPAPER
Updated: October 21, 2024, 12:26 PM IST | Inquilab News Network | Badayuni
عہدِ حاضر کے منفرد اور کہنہ مشق بزرگ شاعر فہمی بدایونی کا اتوار کو انتقال ہو گیا۔ فہمی بدایونی گزشتہ تقریباً دو تین ماہ سے صاحب فراش تھے۔
عہدِ حاضر کے منفرد اور کہنہ مشق بزرگ شاعر فہمی بدایونی کا اتوار کو انتقال ہو گیا۔ فہمی بدایونی گزشتہ تقریباً دو تین ماہ سے صاحب فراش تھے۔ اتوار کی شام ۵؍ بجے انہوں نے ۷۲؍ سال کی عمر میں بسولی میں اپنے گھر پر ہی آخری سانس لی۔ پسماندگان میں اہلیہ، دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ وہ مردم خیز خطہ بدایوں کے ان چنندہ شاعروں میں تھے جنہوں نے عالمی سطح پر اپنی شناخت قائم کی۔ اپنی شاعری اور اپنے خاص انداز کے ذریعہ مداحوں کے دلوں پر راج کرنے والے شاعر فہمی بدایونی کا انتقال نہ صرف بدایوں بلکہ اردو دنیا کے لئے بڑا خسارہ ہے۔ مشہور شاعر خالد ندیم بدایونی کی اطلاع کے مطابق ان کی تدفین پیر کو بسولی ( بدایوں) میں ہوگی۔ فہمی بدایونی کا اصل نام زماں شیر خان عرف پتن خان ہے۔ ان کی پیدائش۴؍ جنوری۱۹۵۲ء کو بدایوں ضلع کے قصبہ بسولی میں ہوئی تھی۔ شعر و ادب کی دنیا میں وہ ’فہمی بدایونی‘ کے نام سے مشہور تھے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد زندگی کی ضرورتوں کے سبب کم عمری میں ہی لیکھ پال کی ملازمت شروع کر دی۔ کچھ عرصے بعد جب یہ ملازمت نہ رہی تو ریاضی اور سائنس کی کوچنگ کرنے لگے۔ فہمی بدایونی کی شاعری میں جدیدیت، سنجیدہ فکر و خیال اور نئے نئے زاویے نظر آتے ہیں، مثلاً، تیرے جیسا کوئی ملا ہی نہیں/کیسے ملتا کہیں پہ تھا ہی نہیں/۔ نئے طرز میں گفتگو کرتے ہوئے ان کے اشعار سیدھے دل میں اترتے ہیں۔ ان میں درد بھی ہے تڑپ بھی اور طلب بھی ہے۔ عمر کے آخری پڑاؤ تک سوشل میڈیا پر بھی سرگرم رہے اور سب سے زیادہ پسند کئے جانے والے شعراء میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ ان کی شاعری کے تین مجموعے ’پانچویں سمت‘ ، ’دستکیں نگاہوں کی‘ اور ’ہجر کی دوسری دوا‘ منظر عام پر آ چکے ہیں۔ جس میں ان کا ایک شعری مجموعہ دیو نگری رسم الخط میں ’ہجر کی دوسری دوا‘ ریختہ کی جانب سے شائع کیا گیا تھا۔ صاحب فراش ہونے سے پہلے تک فہمی بدایونی کثرت کے ساتھ نشستوں اور مشاعروں میں اپنے کلام پڑھتے رہے۔