فرانس میں ایک اورمسجد کو بند کرنےکا حکم، یہودی مخالف تقاریراورممنوعہ تنظیموں کی حمایت کرنےکا الزام

Updated: January 14, 2022, 8:37 AM IST | Paris

فرانس میں ایک کے بعد ایک مساجد پر تالے لگانے کا سلسلہ جاری ہے۔

Mosques continue to be targeted in France (file photo)
فرانس میں مساجد کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے ( فائل فوٹو)

 فرانس میں ایک کے بعد ایک مساجد پر تالے لگانے کا سلسلہ جاری ہے۔  اب فرانس کے شہر کین میں  واقع ایک مسجد کو  حکام نے یہ کہہ کر بند کردینے کا حکم دیا ہے کہ یہاں یہودیوں کے خلاف تقاریر ہوتی ہیں۔  یاد رہے کہ محض ۱۵؍ دنوں کے اندر یہ دوسری مسجد ہے جہاں فرانسیسی حکام نے تالا لگا دیا ہے۔ اس سے قبل ۲۸؍ دسمبر کو خبر آئی تھی کہ فرانس کے دارالحکومت پیرس کے قریب ایک مسجد کو بند کر دیا  گیا ہے کیونکہ یہاں جہاد کا دفاع کیا جاتا ہے۔ 
  کین شہر میں بند کی گئی مسجد کے تعلق سے فرانس کے  وزیر داخلہ جیرالڈ ڈرمینن نے بیان جاری کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس  مسجد کو یہود مخالف بیانات دینے کی پاداش  میں بند کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ  مسجد نے حکومت کی جانب سے کالعدم کی گئی دو تنظیموں کی حمایت کرکے سرکاری احکامات کی خلاف ورزی بھی کی ہے۔ جیرالڈ ڈرمینن کے مطابق ’’  ہم نے کین شہر کی مسجد کو بند کرنے کا حکم دیا ہے کیونکہ ہم نے اسے  یہودی مخالف فقرے کسنے اور  نفرت پھیلانے کا ذمہ دار پایا ہے۔‘‘  انہوں نے کہا کہ’’  ہم نے مسجد کو  ۲؍ ممنوعہ تنظیموں کلیکٹیو  اگینسٹ اسلاموفوبیا ان فرانس اور بارکا سٹی کی حمایت کرنے کا مجرم بھی پایا ہے۔‘‘ واضح رہے کہ گزشتہ سال پیغمبر اسلام ؐ کا اہانت آمیز خاکہ اسکول میں دکھائے جانے پر اسکول ٹیچر کے قتل  کے بعد ان دونوں تنظیموں  پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ 
  کین شہر کی میونسپلٹی  نے دعویٰ کیا ہے کہ مذکورہ مسجد کو بند کرنے کا فیصلہ  اسٹیٹ سروس کی جانب سے مکمل تحقیقات کے بعد  کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی کین میونسپلٹی نے ایک تفصیلی رپورٹ بھی حکام کو پیش کی ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ رپورٹ ۲۰۱۵ء سے مسلسل اس مسجد پر نظر رکھنے  کے بعد تیار کی گئی ہے۔  ساتھ ہی یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس مسجد میں آنے والی مسلمانوں کی کثیر آبادی  نے اس فیصلے کی مخالفت نہیں کی ہے بلکہ ان میں سے بیشتر نے مسجد انتظامیہ کی سرگرمیوںکے تعلق سے ہمیں وقتاً فوقتاً آگاہ بھی کیا تھا۔  یاد رہے کہ یہ مسجد کافی قدیم ہے اور یہاں مسلمانوں کی ایک بڑی آبادی نماز پڑھنے اور دیگر مذہبی امور کی غرض سے آیا کرتی تھی۔ 
  جیسا کہ گزشتہ سال فرانس کے صدر ایمانویل میکرون نے ایک قانون منظور کیا تھا جس کے تحت ’مشتبہ سرگرمیوں‘ والی مساجد کو تالا لگانےکا حکم دیا گیا تھا ۔ اسی قانون کے تحت کین کی مسجد کو بھی کم از کم ۶؍ ماہ کیلئے بند رکھا جائے گا۔ اس کے بعد مزید معائنے اور مشاہدے کی بنیاد پر کی رپورٹ پیش کی جائے گی  جس کی رو سے یہ فیصلے ہوگا کہ اس مسجد کودوبارہ کھولا جائے یا نہیں۔   فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ فرانس میں کسی بھی مسجد کو بندکئے جانے کی صورت میں نمازیوں کیلئے دیگر کیا انتظامات ہیں۔  یاد رہے کہ ایمانویل میکرون نےگزشتہ سال یہ متنازع بیان دیا تھا کہ’’ اسلام  ایک ایسا مذہب ہے جو اس وقت دنیا بھر میں  بحران کا شکار ہے۔‘‘ اس کے بعد انہوں نے مسلمانوں کی فرانس  میں بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کو روکنے کیلئے  نیا قانون پیش کیا تھا ۔ اس قانون کے منظور ہونےکے بعد مسلمانوں پر کئی طرح کی پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔ساتھ ہی مساجد کے تعلق سے شبہ  ہونے پر انہیں بند کرنے کا حکم بھی دیا گیا تھا۔  تب سے اب تک درجنوں مساجد پر تالا لگایا جا چکا ہے۔ جبکہ اس قانون کے غلط استعمال کی شکایت کرنے والوں کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔  مقامی مسلمانوں کی شکایت ہے کہ اسلامی کتابوں میں درج تعلیمات کو بیان کرنے پر بھی حکام    کارروائی کرنے کا حکم دیدیتے ہیں۔  یاد رہے کہ اس طرح کے قانون کے خلاف  جہاں فرانس میں مسلمانوں نے احتجاج کیا تھا وہیں عالمی سطح پر بھی اس پر تنقیدیں ہوئی تھیں۔ 

france Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK