Updated: April 02, 2025, 10:31 PM IST
| Gaza
اسرائیلی فوجوں نے بدھ کو جبالیہ پناہ گزین کیمپ میں اقوام متحدہ کے ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (یو این آر ڈبلیو اے) کے شفاخانے پر بمباری کی، جس میں کم از کم ۱۹؍ افرادشہید ہو گئے، جن میں۹؍ بچے بھی شامل ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت نے اس حملے کو جنگی جرم قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی مداخلت کی اپیل کی۔
جبالیہ شفاخانے پر بمباری کے فوراً بعد کا منظر۔ تصویر: ایکس
اسرائیلی فوجوں نے بدھ کو جبالیہ پناہ گزین کیمپ میں اقوام متحدہ کے ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (یو این آر ڈبلیو اے) کے شفاخانے پر بمباری کی، جس میں کم از کم ۱۹؍ افرادشہید ہو گئے، جن میں۹؍ بچے بھی شامل ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت نے اس حملے کو جنگی جرم قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی مداخلت کی اپیل کی۔ حملے کے بعد قدس نیوز نیٹ ورک کی جانب سے شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں اسرائیلی حملےکے نتیجے میں ایک شیرخوار بچے کا سر تن سے جدا ہوتے دکھایا گیا ہے۔
وزارت صحت نے ابتدائی طور پر۱۹؍ ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے، جن میں۹؍ بچے شامل ہیں۔ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ ایمرجنسی عملہ تباہ شدہ ملبے میں کام کر رہا ہے۔ طلوع آفتاب سے لے کر اب تک غزہ بھر میں اسرائیلی حملوں میں کم از کم۴۷؍ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ بچاؤ عملہ اب بھی ملبے سے لاشوں کو نکال رہا ہے۔ قتل عام کی مکمل شدت کا ابھی تعین ہونا باقی ہے۔ اسرائیل کے دو ہفتے قبل از خود جنگ بندی توڑنے کے بعد سے اب تک۱۱۰۰؍ سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اکتوبر۲۰۲۳ء سے اب تک اسرائیلی نسل کشی میں غزہ میں کم از کم۵۰۴۰۰؍ فلسطینی شہیدہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔
دریں اثنا، اسرائیلی فوج نے جنوبی شہر رفح اور خان یونس کے آس پاس رہنے والے غزہ کے لوگوں کو جبری طور پر انخلا کے احکامات جاری کیے ہیں، انہیں ساحل پر واقع الماوسی کی جانب منتقل ہونے کو کہا گیا ہے، جسے پہلے ’’انسانی زون‘‘ قرار دیا جا چکا ہے۔