آسام پولیس کی ’بلڈوزر کارروائی‘ پر ہائی کورٹ برہم

Updated: November 20, 2022, 11:36 AM IST | guwahati

اسے گینگ وار سے تعبیر کیا، سخت الفاظ میں پوچھا کہ کون سا قانون اس کی اجازت دیتاہے، یاددہانی کرائی کہ عدالتی حکم کے بغیر پولیس کسی کے گھر کی تلاشی بھی نہیں لے سکتی

In May, the police bulldozed the houses of 6 Muslim families in Nogaon district of Assam. (file photo)
مئی میں آسام کے نوگاؤں ضلع میں پولیس نے ۶؍ مسلم خاندانوں کے گھروں پر بلڈوزر چلادیاتھا۔ (فائل فوٹو)

آسام پولیس کی ’بلڈوزر کارروائی‘ پر گوہاٹی ہائی کورٹ نے   سخت سرزنش کرتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس  سے سوال کیا ہے کہ کونسا قانون انہیں یہ اختیار دیتا ہے۔اس کے ساتھ ہی کورٹ نے  قانون کی   اس  صریح خلاف ورزی اور پولیس اسٹیشن کو نذرآتش کرنے کے ملزمین کے گھروں کو منہدم کرنے  کی کارروائی  کا موازنہ گینگ وار سے کیا۔ چیف جسٹس آر ایم چھایا کی سربراہی والی ۲؍رکنی بنچ نے  سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کی حرکت کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ’’مجھے ضابطہ فوجداری کی ایک مثال دکھا دو جس  میں جانچ  کے نام پر پولیس کو کسی عدالتی حکم کے بغیر کسی کا گھر منہدم کرنے یا بلڈوزر چلانے کا اختیار موجود ہو۔‘‘
معاملہ کیا ہے؟ 
  مئی میں آسام کے نوگاؤں ضلع میں ایک مسلم تاجر کی پولیس حراست میں موت کےخلاف احتجاج کرتے ہوئے مقامی مسلمانوں نے پولیس اسٹیشن کے ایک حصہ کو نذر آتش کردیا تھا۔اس واقعہ کے بعدپولیس نے ۶؍ مسلم خاندان کے گھروں کو بلڈوزر کے ذریعہ منہدم کردیا تھا۔ ریاستی پولیس کی اس کارروائی کی بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی تھی ۔تاہم،  آسام کے ڈی جی پی نے دعویٰ کیا تھا کہ جن افراد کے گھروں کو مسمار کیا گیا وہ غیر قانونی رہائشی تھے۔
قانون کے دائرہ میں رہ کر کام کرنا ہوگا
 عدالت نے کہا ہے کہ کسی بھی فوجداری قانون کے تحت مکان پر بلڈوز نہیں چلایا جاسکتا، چاہےتفتیشی ایجنسی سنگین ترین معاملہ کی بھی جانچ کررہی ہو۔ عدالت نے اعلیٰ افسران کی بھی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ چاہے آپ ایس پی ہوں،آئی جی ،ڈی آئی جی یا اس سے بھی اعلیٰ ترین اتھاریٹی ہوں،لیکن آپ کو قانون کے دائرہ میں رہ کر کام کرنا ہوگااور اس کیلئے جازت لینی ہوگی۔‘‘ کورٹ نے کہا کہ ’’صرف اس لیے کہ آپ  محکمہ پولیس کا حصہ ہیں، کسی کا گھر نہیں توڑ سکتے اور اگر ایسا کرنے دیا گیا تو اس  اس سے ملک میں کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔‘‘
 پولیس کو  اس کا دائرہ اختیار یاد دلایا
 ریاستی پولیس کی نمائندگی کرنے والے وکیل سے چیف جسٹس نے نوگاؤن کے  سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے بارے میں استفسار کرتے ہوئے  کہا کہ ان کی نمائندگی کون کرے گا؟  عدالت نے اس بات پر برہمی کااظہار کیا کہ گھروں کے انہدام  کے بعد اب ایک اتھاریٹی دوسری کو اس  کیلئے ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش کررہی ہے۔‘‘  کورٹ نے پولیس کو اس کا دائرہ اختیار یاد دلاتے ہوئے کہا کہ ’’ عدالت کی پیشگی اجازت کے بغیر آپ کسی کے گھر میں گھس کر تلاشی بھی نہیں  لے سکتے۔‘‘جب وکیل نے عدالت سے کہا کہ تلاشی کیلئے اجازت لی گئی تھی تو چیف جسٹس نے  برہم ہوکر کہا کہ ’’میں نے اپنے محدود کیریئر میں کسی  پولیس افسر کو تلاشی کیلئے گھروں پر بلڈوزر چلاتے نہیں  دیکھا۔‘‘وکیل نےدفاعی انداز میں کہا کہ یہ ارادہ نہیں تھا،اس پر چیف جسٹس نے جواب دیا کہ ’’نیت کچھ بھی ہو سکتی ہے، اپنے ایس پی سے کہیں کہ اس کے لیے کوئی راستہ نکالیں۔امن وقانون، یہ دونوں الفاظ ایک مقصد کے ساتھ استعمال ہوتے ہیں۔ ہم ایک جمہوری نظام میں ہیں۔ یہ بتانے کے لیے کافی ہے۔ آپ کے ڈی جی کو اس کا علم بھی نہیں ہوگا۔‘‘
ہندی فلموں میں بھی ایسا نہیں ہوتا
  کورٹ نے پولیس کی حرکت پر مزید کہا کہ ’’ایسا تو  ہندی فلموں میں بھی نہیں  ہوتا،  یہ کہانی بھیج دو، روہت شیٹی اس پر فلم بناسکتے ہیں۔ ‘‘ کورٹ نے سوال کیا کہ ’’یہ کیا ہورہاہے،پولیس کارروائی ہے یا کوئی گینگ وار۔ گینگ وار میں ہی یہ ہوتا ہے کہ ایک گینگ کا کوئی فریق دوسرے گینگ  ممبروں  کے گھروں پر بلڈوزر چلادیتا ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK