مگر حکومت نے اکثریت کے بَل پر راجیہ سبھا سے بھی اسے منظور کروالیا، حزب اختلاف نے اعتراض کیا کہ مجوزہ قانون کی رُو سے حکومت کی نظر میں ہر غیر ملکی ممکنہ مجرم ہے۔
EPAPER
Updated: April 03, 2025, 10:52 AM IST | New Delhi
مگر حکومت نے اکثریت کے بَل پر راجیہ سبھا سے بھی اسے منظور کروالیا، حزب اختلاف نے اعتراض کیا کہ مجوزہ قانون کی رُو سے حکومت کی نظر میں ہر غیر ملکی ممکنہ مجرم ہے۔
اپوزیشن کی شدید مخالفت کے باوجود حکومت نے بدھ کو راجیہ سبھا میں امیگریشن ایند فارینرس بل ۲۰۲۵ء کو منظور کرا لیا۔ یہ بل لوک سبھا میں گزشتہ ہفتے پہلے ہی منظور ہوچکا ہے۔ اس لئے اس کے قانون بننے کیلئے اس پر اب صرف صدر جمہوریہ کی دستخط کی ضرورت رہ گئی ہے۔ کانگریس اور ٹی ایم سی نے ایوان میں اس بل کی پُرزور مخالفت کی اوراسے مزید غوروخوض کیلئے پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی میں بھیجنے کا مطالبہ کیا۔ کانگریس کے رکن پارلیمان ابھیشیک منوسنگھوی نے بطورخاص اس پر تقریر کرتے ہوئے ایوان میں متنبہ کیا کہ غیر ملکیوں کے معاملے میں یہ قانون حکومت کو غیر معمولی اختیارات سونپ دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کی رُو سے ہر غیر ملکی شہری حکومت کی نظر میں ممکنہ مجرم ہے۔
کانگریس نے راجیہ سبھا میں کہا کہ مودی حکومت ملک میں خوف کا ماحول پیدا کر رہی ہے اور افراد کے درمیان امتیازی سلوک کر رہی ہے۔ ابھیشیک منو سنگھوی نے `امیگریشن اینڈ فارنرز بل۲۰۲۵ء پر ایوان میں بحث شروع کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی اس کی مخالفت کرتی ہے، اس سے ملک میں خوف کی فضا پیدا ہوگی اور یہ آئین کی بنیادی روح کے خلاف ہوگا۔ اس سے افسران کو ہراساں کرنے کا اختیار ملتا ہے اور یہ افراد کے درمیان امتیاز کرتا ہے۔ یہ بل حکومت کو غیر ملکیوں کو من مانے طور پر ملک سے نکالنے کا اختیار دیتا ہے۔ ابھیشیک منو سنگھوی نے کہا کہ یہ بل امیگریشن افسر کو لامحدود اختیارات دیتا ہے، اس کے فیصلے کے خلاف کوئی اپیل نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ اس بل کے قانون بننے کے بعد افسر کسی بھی شخص کو بیرون ملک جانے سے روک سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل ہندوستان کے جمہوری نظام کے لیے ایک بحران ہے۔ فی الحال یہ غیر ملکیوں کے لیے ہے، لیکن جلد ہی یہ ہندوستانی شہریوں کو بھی متاثر کرے گا۔
قبل ازیں وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے اس بل کو ایوان میں بحث کے لیے پیش کیا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی ریکھا شرما نے کہا کہ ملک کے مفادات کی قیمت پر غیر ملکیوں کا استقبال نہیں ہونا چاہیے۔ کانگریس کے دور اقتدار میں قومی مفاد کے اس پہلو کو نظر انداز کیا گیا جس کی وجہ سے بنگلہ دیش سے لاکھوں لوگ ہندوستان میں آباد ہونے میں کامیاب ہوئے۔ بنگلہ دیشیوں کی وجہ سے مغربی بنگال کے حالات بہت خراب ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کوئی دھرم شالہ نہیں ہے۔ اس بل سے ہندوستان کو ہندوستانیوں کے لئے محفوظ بنانے میں مدد ملے گی۔ ملک میں امیگریشن کی وجہ سے آبادی کا مسئلہ بڑھ رہا ہے۔ تارکین وطن ملک کے وسائل پر بھی دباؤ ڈالتے ہیں۔ یہ بل ہندوستان کے مستقبل کا تعین کرے گا۔ ترنمول کانگریس کی لیڈرسشمتا دیو نے کہا کہ یہ بل ملک کی خارجہ پالیسی میں بڑی تبدیلی لائے گا، اس بل کی ضرورت نہیں ہے۔ ملک میں پہلے ہی بہت سے قوانین اور اقدامات موجود ہیں جن کے ذریعے غیر ملکیوں کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ آسام میں شہریت ترمیمی قانون کے نام پر فراڈ ہوا ہے، کسی کو شہریت نہیں دی گئی۔ این آر سی کے نام پر بھی ایک کھیل کھیلا گیا ہے، چھ سال گزر گئے کچھ نہیں ہوا۔ دراندازی کرنے والوں کو آدھار کارڈ بھی روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت انضمام اور دیانت کے نام پر لوگوں کو ہراساں کر رہی ہے۔ وہ مغربی بنگال میں ممتا حکومت کے خلاف پروپیگنڈہ پھیلاتے ہیں۔ ڈی ایم کے کے این آر ایلانگو نے کہا کہ اگر غیر ملکی ہندوستانی شہری بننا چاہتے ہیں تو انہیں قانونی راستہ اختیار کرنا چاہئے۔ اس حوالے سے سخت قوانین ہونے چاہئیں اور ان کی پاسداری کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔