شہرومضافات کے دینی مدارس میں جشن یوم آزادی جوش وخروش سے منایا گیا

Updated: August 16, 2022, 9:09 AM IST | saeed Ahmed | Mumbai

پرچم کشائی، ریلی اور خصوصی نشست کا بھی اہتمام۔ملک کی آزادی کیلئے اسلاف کی عظیم قربانیوں سے طلبہ اور عوام الناس کو آگاہ کروایا گیا

The participants of the program held at Jamia Arabia Minhaj Sunnah Maloni can be seen
جامعہ عربیہ منہاج السنۃ مالونی میں منعقدہ پروگرام کے شرکاء کو دیکھا جاسکتا ہے

:  شہرومضافات میں جشن آزادی جوش وخروش سے  منایا گیا۔ گھر گھر ترنگا ، ہر گھر ترنگا مہم میں بھی شہریوں نے بھرپور انداز میں حصہ لیا اور قومی پرچم کے تئیں اپنی عقیدت کا اظہار کیا۔ اس مہم اور جشن‌آزادی منانے میں دینی مدارس کے ذمہ داران اور طلباء بھی پیش پیش رہے‌۔  پیر کو مدارس میں پرچم کشائی کے ساتھ کچھ مدرسوں میں قومی پرچم کے ساتھ ریلی نکالی گئی جبکہ کئی اداروں میں خصوصی نشستوں کا اہتمام کیا گیاجن میں ملک کی آزادی کیلئے اسلاف کی قربانیوں سے طلباء اور عوام کو آگاہ کروایا گیا۔ اس موقع پر یہ عہد بھی کیا گیا کہ ہم تاریخ آزادی کو خود بھی یاد رکھیں اور نئی نسل کو بھی اس سے آگاہ کروائیں گے کیونکہ یہ امانت ہے اور اسے منتقل کرنا اس لئے بھی ضروری ہے تاکہ نئی نسل اسلاف کے عظیم کارناموں اور ان کی قربانیوں پر بجا طور پر فخر کرسکے۔ 
 شہر کی قدیم ترین اور مرکزی درسگاہ مدرسہ دارالعلوم امدادیہ مرکز، چونا بھٹی  ، محمدعلی روڈ میں آزادی کی   ۷۵ ؍ویں سالگرہ کے جشن میں طلباء نے اردو اور انگریزی میں تقریریں کیں جن میں ملک کی آزادی کیلئے علماء کرام کی قربانیوں اور انگریزوں کے خلاف اسلاف کے مجاہدانہ جذبات کی عکاسی کی گئی تھی نیز حب الوطنی پر مشتمل نظمیں اور ترانے بھی پیش کئے گئے۔ـ ادارے کے صدر مدرس مولانا بدرالدین قاسمی کی صدارت میں منعقد ہونے والے اس پروگرام میں مدرسہ کے اساتذہ کے علاوہ دیگر عمائدین شہر موجود تھے۔ مدرسہ کے ٹرسٹی  مولانا محمود دریابادی کے ہاتھوں پرچم کشائی کی رسم انجام پائی۔ 
  مفتی شبیر احمد قاسمی دہلی نے جامعہ عربیہ منہاج السنۃ مالونی میں منعقدہ جشن یوم آزادی  پر صبح ۹؍بجے مفصل اور مدلل خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’  انگریز بغرض تجارت ہندوستان میں داخل ہوئے اور آہستہ آہستہ ہندوستان کی ریاستوں پر قبضہ کرنا شروع کیا ۔ اس وقت کے علمائے کرام نے انگریزوں کا مقصد بھانپ لیا تھا اور اسی وقت سے جدوجہد میں مصروف ہوگئے تھے ۔  شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے تحریک آزادی کا آغازکیا اور آخری دم تک جدوجہد کرتے رہے ۔  افسوس! آج ہماری نسلیں اپنے اسلاف کی قربانیوں سے ناآشنا ہیں ۔ 
   قرآن کریم کی تلاوت سے پروگرام کا آغاز ہوا ۔ راشٹریہ گیت کے ساتھ  پرچم کشائی کی گئی ۔  اس کے بعد طلبہ نے پروگرام پیش کیا جس میں مالونی کے ائمہ مساجد ، علمائے کرام اورعوام الناس نے بھی شرکت کی ۔مولانا ایوب ندوی نے ملک کی آزادی میں علماء کی قربانیوںاور جدوجہد پر مختصر روشنی ڈالی ۔ مولانا نوشاد احمد صدیقی نے علماء کے علاوہ حاضرین کا شکریہ ادا کیا اور مجاہدین آزادی کو خراج عقیدت پیش کیا گیا ۔ 
  مدرسہ انوار الاسلام محمدی مسجد ،کامراج نگر ،گھاٹکوپر   میں ۷۶؍ویں یومِ آزادی کے موقع پر  مولانا حقیق اللہ قاسمی نے جنگ آزادی میں علماء کے کردار پر   جامع گفتگو کی۔  اس کے  بعد  مولانا مفتی حبیب الرحمٰن ندوی نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے  اس پرفتن دور میں کیا حکمت عملی اپنائی جائے اس حوالے سے بہت جامع گفتگو کی ۔ پروگرام کی شروعات میں  بچوں نے حمد، نعت ،تقریر اور قومی یکجہتی کے گیت  پیش کئے۔  اس موقع پر شاعر اسلام  اسعد بستوی  نے بھی جشن آزادی کے تعلق سے کلام پیش کیا۔ اخیر میں امام مسجد حافظ محمد سعید نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا ۔اس موقع پر مسجد کے ذمہ داران مولانا جوہر علی خان ،حاجی سعیداللہ خان  ، پرویز عالم چودھری ،  اللہ بخش پٹھان اور مشیر احمد صدیقی  موجود تھے۔
 چیتا کیمپ کے ادارہ الجامعۃ العربیہ معراج العلوم  میں جشن یوم آزادی کے موقع پر بڑے تزک واحتشام کے ساتھ ترنگا لہرایا گیا۔ ا  س موقع پر جامعہ معراج العلوم کے اساتذہ کرام میں مفتی آزادبیگ اور مولانا محمد زاہد خان نے  خصوصی طور پر خطاب کیا اور مجاہدین آزادی کو خراج عقیدت پیش کیا ۔ اس کے بعد جامعہ کے بانی ومہتمم قاری محمد صادق خان نے آزادی کی ۷۵؍ویں سالگرہ پر مزید روشنی ڈالی اور ان کی دعا پرپروگرام کا اختتام ہوا ۔ 
  اسی طرح دار العلوم عزیزیہ ،میراروڈ کے صدر مدرس مولانا شرافت حسین مظاہری نے پرچم کشائی کی اور جملہ اساتذہ اور طلباء نے قومی ترانہ پڑھ کر یوم آزادی کے پروگرام کا آغاز کیا۔   مدرسہ کےطالب علم احرار الحسن نے جنگ آزادی میں علماء کے کردار پر تقریر کی، دیگر ۲؍ طلباء نے ڈاکٹر محمد اقبال کے ترانہ ہندی کو بڑی عمدگی سے پڑھا ۔ دار العلوم عزیزیہ کے استاد حدیث وتفسیر مولانا محمد عارف عمری  نے  خطاب کرتے ہوئے آزادیٔ وطن کے تعلق سے قربانی پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ آئین ہند تمام ہندوستانیوں کے حقوق کی ضمانت کے تئیں کاغذی دستاویز تو ہے لیکن ہم کو ملک میں ترقی اور وقار کے حصول کیلئے تعلیم کو اپنا ہتھیار بنانا ہوگا جس کیلئے ہر ممکن‌  اورمنصوبہ بند طریقے سے کوشش کرنی ہوگی۔
   جامعہ مدینہ المعارف جوگیشوری،    دارالعلوم الاسلامیہ جوگیشوری، دارالعلوم قاسمیہ گوکل دھام ملاڈ، جامعہ فاروقیہ گوونڈوی، مدرسہ اصلاح العلوم گوونڈوی، مدرسہ ندائے اسلام مالونی، مدرسہ تعلیم القرآن کینا مارکیٹ گوونڈی،  مدرسہ تعلیم القرآن دین بندھونگر وڈالا، مدرسہ احیاء سنت تربھے، جامعہ عوارف المعارف کاندیولی،  دارالعلوم محمدیہ مینارہ مسجد، دارالعلوم حنفیہ رضویہ قلابہ، جامعہ رحمانیہ کاندیولی،  جامعہ قادریہ اشرفیہ دوٹانکی اور دیگر اداروں میں بھی آزادی کی ۵۷؍ویں سالگرہ دھوم دھام سے منائی گئی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK