• Fri, 28 February, 2025
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

"پاکستان ایک ’’ناکام ملک‘‘ ہے جس کی بیان بازی سے منافقت جنم لیتی ہے": یو این میں ہندوستان کی تنقید

Updated: February 27, 2025, 9:37 PM IST | Inquilab News Network | New Delhi / Geneva

ہندوستانی سفیر تیاگی نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ اپنی توجہ ہندوستان سے ہٹائے اور اس کے بجائے اپنے اندرونی چیلنجوں سے نمٹنے پر مرکوز کرے۔

Indian Diplomat Kshitij Tyagi. Photo: INN
ہندوستانی سفیر کشتیج تیاگی۔ تصویر: آئی این این

جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے ۵۸ ویں اجلاس کے ساتویں میٹنگ میں ہندوستان نے کشمیر کے متعلق تبصرہ کرنے پر پاکستان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل مشن کے نمائندہ کشتیج تیاگی نے کہا کہ یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ پاکستانی لیڈران اپنے "فوجی-دہشت گرد کمپلیکس" کے ذریعے پروپیگنڈے پر مبنی "جھوٹ" پھیلاتے رہے ہیں۔ ہندوستان نے دو ٹوک لہجہ میں کہا کہ جموں و کشمیر اور لداخ کے مرکز کے زیر انتظام علاقے ہمیشہ ہندوستان کا اٹوٹ اور ناقابل تنسیخ حصہ رہیں گے۔ تیاگی نے مزید کہا کہ حالیہ برسوں میں جموں و کشمیر میں قابل ذکر پیش رفت، خطہ میں معمول کی بحالی کیلئے حکومت کے عزم پر لوگوں کے اعتماد کا ثبوت ہے جو طویل عرصے سے پاکستان کے زیر اہتمام دہشت گردی سے متاثر رہا ہے۔ 

اپنے بیان میں تیاگی نے پاکستان پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک "ناکام ریاست" ہے جس کی بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر بیان بازی سے منافقت جنم لیتی ہے۔ انہوں نے اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کیلئے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا "غلط استعمال" کرنے کیلئے پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ تیاگی نے کہا، "یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ پاکستان او آئی سی کو اپنے "ماؤتھ پیس" کے طور پر استعمال کرتا ہے اور اس کے فوجی دہشت گرد کمپلیکس کے بیان کردہ بے بنیاد بیانیے کو پھیلانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کونسل کا وقت "ایک ناکام ریاست" کے ذریعہ ضائع کیا جا رہا ہے جو عدم استحکام پر پروان چڑھتی ہے اور بین الاقوامی امداد پر زندہ رہتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: معدنی ذخائر کا معاہدہ، امریکہ نے یوکرین کو راضی کرلیا

ہندوستانی سفیر نے نوٹ کیا کہ دہشت گردی کے ذریعے جموں و کشمیر کو غیر مستحکم کرنے کی پاکستان کی مسلسل کوششیں کامیاب نہیں ہوئیں اور خطے کے لوگوں کا ہندوستان کے جمہوری نظام پر اعتماد بڑھتا جا رہا ہے۔ تیاگی نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ اپنی توجہ ہندوستان سے ہٹائے اور اس کے بجائے اپنے اندرونی چیلنجوں سے نمٹنے پر مرکوز کرے۔ انہوں نے کہا کہ "ایک ایسے ملک کے طور پر جہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، اقلیتوں پر ظلم اور جمہوری اقدار کا منظم کٹاؤ ریاستی پالیسیوں کی تشکیل میں شامل ہے اور جو اقوام متحدہ کی فہرست میں شامل دہشت گردوں کو ڈھٹائی سے پناہ دیتا ہے، پاکستان کسی کو لیکچر دینے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ ہندوستان کے ساتھ اپنے غیر صحت بخش جنون کے بجائے، پاکستان کو اپنی عوام کو حقیقی حکمرانی اور انصاف فراہم کرنے پر توجہ دینا چاہئے۔"

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس کے دوران، پاکستان کے وزیر قانون، اعظم نذیر تارڑ نے جموں و کشمیر پر ہندوستان کے "غیر قانونی قبضہ" اور کشمیری عوام کے حق خود ارادیت سے مسلسل انکار کی مذمت کی۔ وزیر نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کے دفتر سے مطالبہ کیا کہ وہ صورتحال کی نگرانی جاری رکھے اور کشمیر کی رپورٹس کو اپ ڈیٹ کرے۔ پاکستان نے ہندوستان مقبوضہ جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیوں کی تحقیقات کیلئے ایک انکوائری کمیشن کے قیام پر زور دیا۔ پاکستان نے ۵۷ رکنی اسلامی تعاون تنظیم اور اس کے ہمہ وقت اتحادی چین کی حمایت کے ساتھ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں ایک "مشترکہ بیان" بھی پیش کیا۔

یہ بھی پڑھئے: ملک کی معیشت کا برا حال ، ۱۰۰؍ کروڑ لوگوں کےپاس خرچ کیلئے پیسہ نہیں ہے!

 اس سے قبل، `یوم یکجہتی کشمیر` کے موقع پر جاری کردہ ایک بیان میں، پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا، "۵ اگست ۲۰۱۹ء کو کئے گئے ہندوستان کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات اقوام متحدہ کے چارٹر، چوتھے جنیوا کنونشن، اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں سمیت بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں۔" انہوں نے ہندوستان پر الزام لگایا کہ وہ، ہندوستان مقبوضہ جموں و کشمیر میں حراست، جائیداد کی ضبطی اور انسانی حقوق کے محافظوں کو دبانے کے ذریعے خوف و ہراس کا ماحول پیدا کر رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK