رفح اور شمالی غزہ خالی کردینے کے حکم کےبعد اب وزیر دفاع نے ناپاک ارادوں کو ظاہر کیا، غزہ میں ’’سیکوریٹی زون‘‘ میں بنانے کافیصلہ۔
EPAPER
Updated: April 03, 2025, 10:39 AM IST | Gaza
رفح اور شمالی غزہ خالی کردینے کے حکم کےبعد اب وزیر دفاع نے ناپاک ارادوں کو ظاہر کیا، غزہ میں ’’سیکوریٹی زون‘‘ میں بنانے کافیصلہ۔
پہلے رفح شہر اور پھر پورا شمالی غزہ خالی کردینے کے احکامات جاری کرنے کے بعد بدھ کو اسرائیل کے وزیردفاع اسرائیل کاتزاپنے ناپاک ارادوں کو ظاہر کرتے ہوئے غزہ کے بڑے حصے پر قبضہ کرکے اسے ’’اسرائیل کے سیکوریٹی زون‘‘ میں تبدیل کردینے کا اعلان کیا ہے۔ اس مقصد کے تحت غزہ کی زمین پر قبضہ کیلئے بدھ کو زمینی حملے تیز کردیئے گئے جس میں بدھ کو طلوع فجر سے اس خبر کے لکھے جانے تک ۵۴؍افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ جنگ بندی کے بعد سے غزہ پر اسرائیلی حملوں میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد ۱۱؍ سو سے تجاوز کرگئی ہے جبکہ جنگ کے آغاز سے اب تک جام شہادت نوش کرنےوالے اہل غزہ کی تعداد ۵۰؍ ہزار ۴۲۳؍ ہوگئی ہے۔ یہ ان اموات کی تعداد ہے جن کی تصدیق ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ جو لاشیں نہیں ملیں اور جو لوگ ملبے میں دب کررہ گئے ہیں وہ تعداد اس سے الگ ہے۔ غزہ کی حکومت نے جاں بحق ہونےوالوں کی تعداد ۶۱؍ ہزار ۷۰۰؍ بتائی ہے۔
بدھ کو اسرائیل کے وزیر دفاع نے اعلان کیا کہ اسرائیل غزہ کے ’’بڑے حصے ‘‘پر قبضہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اسرائیلی فوجوں نے غزہ پر فضائی اور زمینی حملے تیز کردیئے ہیں۔ اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاتز نے حماس کے کارکنوں کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئےان کوختم کردینے کا اعلان کیا اور کہاکہ’’فوجیں غزہ کو دہشت گردوں اور ان کے انفرااسٹرکچر سے پاک کرنے کیلئے پیش رفت کریں گی اور وسیع علاقوں پر قبضہ کرکے انہیں اسرائیل کے سیکوریٹی زونس میں شامل کر لیں گی۔ ‘‘
اس کے ساتھ ہی اسرائیلی وزیر دفاع نے فلسطینی شہریوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ان علاقوں سے فوری طور پر نکل جائیں جہاں گزشتہ ماہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی ٹوٹنے کے بعد لڑائی دوبارہ شروع ہوئی ہے۔ ا س کے ساتھ ہی انہوں نے اہل غزہ کو حماس کے خلاف بھڑکانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ ’’ حماس کو اقتدار سے بے دخل کرنے اور تمام یرغمالوں کی رہائی کیلئے ابھی قدم اٹھائیں۔ ‘‘
اسرائیلی وزیر دفاع کا یہ اعلان جنوبی غزہ میں خان یونس اور رفح پر رات بھر کی شدید بمباری کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس بمباری کے بعد کم از کم ۵؍ خواتین جن میں سے ایک امید سے تھی اور دو بچوں کی لاشیں الناصر اسپتال لائی گئیں۔ حملوں میں ۵۴؍ فلسطینی شہید ہوئے ہیں۔ ۱۰؍ دنوں میں اسرائیل ۳۰۰؍ سے زائد بچوں کو شہید کرچکاہے۔
’الجزیرہ‘ نے طبی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ’’سب سے مہلک حملوں میں سے ایک میں، اسرائیلی فورسیز نے جنوبی غزہ کے خان یونس میں ایک گھر کو نشانہ بنایا جس میں کم از کم۱۲؍فلسطینی شہید ہوئے۔ ‘‘ رفح کے شمال مشرقی علاقے میں اسرائیلی حملے میں ۲؍ دیگر فلسطینی شہید ہوئے، جہاں اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ وہ ’بڑے علاقے‘ پر قبضہ کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر حملہ کر رہی ہے۔
دواؤں اور طبی آلات کی کمی، علاج مشکل
غزہ پر بمباری کے ساتھ ہی امدادی قافلوں کے داخلے پر پابندی کی وجہ سے حالات تیزی سے بگڑ رہے ہیں۔ ڈاکٹروں کی بین الاقوامی تنظیم ’ڈاکٹرس وِدآؤٹ بارڈر‘ جو غزہ میں طبی خدمات فراہم کر رہی ہے، نے بدھ کو متنبہ کیا ہے کہ ضروری دوائیں اور طبی آلات ختم ہونے کے قریب ہیں جس کی وجہ سے زخمیوں اور بیماروں کا علاج مشکل ہوتا جارہاہے۔ تنظیم نے غزہ کی ناکہ بندی کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے اسرائیل کی اس حرکت کو ’’فلسطینیوں کیلئے اجتماعی سزا‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔ ’ڈاکٹرس وِدآؤٹ بارڈر‘ کی جانب سے جاری کئے گئے بیان کے مطابق’’زائد از ایک ماہ سے امدادی یا کاروباری، کسی بھی طرح کا ٹرک غزہ میں داخل نہیں ہو ہے۔ اس طرح کی ناکہ بندی کا جنگ کے آغاز سے اب تک کا یہ سب سے بڑا دورانیہ ہے۔ الیکٹرسٹی اور امداد پر مکمل پابندی نے عوام کو انتہائی بنیادی ضروریات سے محروم کردیا ہے جو اجتماعی سزا کے مترادف ہے۔ ‘‘ بیان میں کہا گیاہے کہ آپریشن کیلئے درکارانتہائی ضروری آلات اور بے ہوش کرنے کی دوا بھی ختم ہونے لگی ہے۔ ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور دیگر امراض اور بچوں کیلئے ضروری دوائیں بھی کم پڑنے لگی ہیں۔