رمضان المبارک کی آمد کے پیش نظر استنبول کی مساجد میں المحیا لٹکائے جانے لگے ہیں۔ ماہیا عثمانی دور سے رمضان کی آمد کے ساتھ لگائے جاتے ہیں جس میں استقبالی جملے اور آیات آویزاں کئے جاتے ہیں۔
EPAPER
Updated: February 27, 2025, 6:58 PM IST | İstanbul
رمضان المبارک کی آمد کے پیش نظر استنبول کی مساجد میں المحیا لٹکائے جانے لگے ہیں۔ ماہیا عثمانی دور سے رمضان کی آمد کے ساتھ لگائے جاتے ہیں جس میں استقبالی جملے اور آیات آویزاں کئے جاتے ہیں۔
المحیا کی عثمانی دور کی روایت جو۱۶؍ویں صدی کا ایک فن ہے، منگل کو استنبول میں اس کا نمونہ دیکھنےکو ملا جب رمضان المبارک کیلئے شہر کی تاریخی مساجد کے میناروں کے درمیان روشنیاں جل رہی تھیں۔ المحیا ڈسپلے، خطوط اور علامتوں کی شکل میں روشنیوں سے بنائے گئے پیغامات یا نمونوں کو نمایاں کرتے ہوئے، بڑی مساجد میں نصب کئے گئے ہیں، جن میں آیاصوفیہ گرینڈ مسجد، ایمینو نیو مسجد اور سلیمانی مسجد شامل ہیں۔ سلطان احمد مسجدجس میں ۱۶۱۷ء سے المحیا ڈسپلے موجود ہیں، اس سال تعمیراتی کام کی وجہ سے وہاں نہیں لگائی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھئے: معدنی ذخائر کا معاہدہ، امریکہ نے یوکرین کو راضی کرلیا
استنبول کے مفتی پروفیسر صافی ارپاگوش نے کہا کہ یہ روایت جو شہر کے اسکائی لائن کا ایک لازمی حصہ ہے، کو صرف چند ہنر مند کاریگر ہی برقرار رکھتے ہیں۔ اس سال یہ ڈسپلے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف فاؤنڈیشنز کے تعاون سے لگائے گئے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ المحیاکےذریعے عام طور پر مختصر مذہبی اور سماجی پیغامات پہنچائے جاتے ہیں۔ اگرچہ ماضی میں ماہیا کے موضوعات مختلف رہے ہیں تاہم، رمضان کی نمائشیں عام طور پر بھائی چارے، عید کی تقریبات، خاندان، عبادت، روزہ، نماز اور صدقہ جیسے موضوعات پر زور دیتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: جنگ بندی معاہدہ پر رکاوٹ ختم، اسرائیل ۶۲۰؍ فلسطینی قیدی رہا کرنے پر تیار
اس سال کے پیغامات میں رمضان، قرآن اور روزے کے تقدس کو اجاگر کیا گیا ہے، خاص طور پر زیادہ سے زیادہ نیکی کرنے پر توجہ دی گئی ہے۔ اپنے پیغامات کے علاوہ المحیا رمضان کی راتوں کی خوبصورتی میں بھی اضافہ کرتے ہیں۔ روایتی طور پر، المحیا کو تیل کے لیمپ کا استعمال کرتے ہوئے تیار کیا جاتا تھا۔ آج وہ الیکٹرک بلب یا ایل ای ڈی لائٹس کے ذریعے روشن ہیں۔ پیغامات عام طور پر ترکی زبان میں، ہوا میں تیرتے ہوئے چمکدار متن یا ڈیزائن کے طور پر ظاہر ہوتے ہیں جو استنبول میں رمضان کی رونق کو ظاہر کرتے ہیں۔