کلیان:ندی کے خستہ حال پل سےگزرنےوالے افراد کوحادثے کا خطرہ

Updated: January 22, 2022, 8:12 AM IST | Ajaz Abdul ghani | Mumbai

ٹوٹے ہوئے پل پر چل کرلوگ الہاس ندی پار کرنے پر مجبور ۔ اطراف کے گاؤں والوں کی جانب سے بریج کی مرمت کا مطالبہ

A man and a woman pass by this dangerous bridge of Alhas river.
الہاس ندی کے اس خطرناک پل سے ایک شخص اور خاتون بچے کے ہمراہ گزررہے ہیں۔ (تصویر: انقلاب)

یہاں  الہاس ندی پر خستہ حال پل  سےاس سے گزرنے والے افراد کی جان کو ہروقت خطرہ لاحق ہے ۔ تاہم وقت بچانے کیلئے وہ  اس کا استعمال کرنے پر مجبور ہیں کیونکہ  سیکڑوں غر یب  افراد روزانہ۲۶؍ کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے کام پر جانے کی استطاعت نہیں رکھتے ہیں لہٰذا وہ ندی پر بنائے گئے  تنگ پُل  پر عارضی طورپر ڈالے گئے  لوہے کے پائپ  پر چلتے ہیں۔ اسی لئے  ندی کے دونوں کنارے پر بسے گاؤں والوں نے انتظامیہ سے ٹوٹے ہوئے اس پُل کی مر مت کا مطالبہ کیا ہے۔ 
  کلیان اور ٹٹوالا کے در میان واقع آپٹی مانجرلی گاؤں سے وسر گاؤں بے حد کم فاصلہ پر ہے تاہم دونوں گاؤں کے در میان سے الہاس ندی بہتی ہے ۔ اس مقام پر ایم آئی ڈی سی کا پلانٹ ہونے کے سبب ایم آئی ڈی سی انتظامیہ نے دوگاؤں کو جوڑ نے کیلئے ۴؍ فٹ چوڑا ایک پُل تعمیر کیا تھا لیکن امسال موسلا دھار بارش کے سبب الہاس ندی میںپانی کے تیزبہاؤ کے باعث پُل کا کچھ حصہ بہہ گیا تھا۔  مقامی باشندوں نے اپنی جیب ِ خاص سے پل پر لوہے کے چوڑے پائپ ڈال کر راستہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ ۱۰؍ انچ کے تین لوہے کے پائپ سے گزر کر لوگوں کو آنا جانا پڑ رہا ہے جبکہ ندی کافی گہری اور پانی کا بہاؤ تیز رہتا ہے ۔ چونکہ وسر گاؤں سے امبر ناتھ-   بدلا پور ہائی وے اور ایم آئی ڈی سی کافی قریب ہے   اس لئے ٹٹوالا سمیت متعدد گاؤں کے ۳؍ سے ۴؍ ہزار مزدور روزانہ اس خطرناک پُل سے گزر کر ایم آئی ڈی سی میں واقع کمپنیوں میں کام کرنے  جاتے ہیں۔ ان مزدوروں کیلئے یہ راستہ نہ صرف سستا بلکہ وقت بچانے والا بھی ہے کیونکہ اگر سڑ ک کے راستے سے الہاس ند ی کے دوسرے کنارے جانا ہو تو ۲۶؍ کلو میٹر کا فاصلہ طے کر نا پڑ تا ہے۔  وقت اور پیسہ ضائع نہ ہواس لئے دونوں گاؤں کی خواتین اور بچے سمیت سیکڑوں  افراد بھی اس خستہ حال پل سے آمدورفت کرتے ہیں۔ وہیں کچھ منچلے نوجوان اسی پُل پر بائیک بھی چلاتے ہیں ۔اگر ذرا سا بھی توازن بگڑ گیا تو ندی   میںگرکرڈوب سکتے ہیں۔ 
 یہاں کے مقامی باشندوں کا مطالبہ ہے کہ انتظامیہ نے شہر یوں کی سہولت کیلئے  اس پُل کی فوری طور پر مر مت کر نی چاہئے۔
  اس ضمن میں ایم آئی ڈی سی کے ذمہ داران سے رابطہ قائم کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ پُل خستہ حال ہو چکا ہے لہٰذا شہر یوں  سے آمدورفت کرنا خطر نا ک ہے۔ اس کے باوجود ایم آئی ڈی سی میں کام کر نے والے بیشتر مزدور اور شہر ی اس پُل سے  آجارہے ہیں۔ ایم آئی ڈی  سی انتظامیہ کے مطابق پُل کی مرمت کیلئے متعلقہ حکام سے بات چیت جاری ہے ۔ 

kalyan Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK