ہندوتوا سوشل میڈیا ہینڈلز، سنگھ پریوار کے لیڈران اور دائیں بازو کے ترجمانوں کی طرف سے بڑے پیمانے پر نفرت انگیز مہم کے بعد، فلم کے پروڈیوسرز نے گجرات نسل کشی کے مناظر کو ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔
EPAPER
Updated: April 01, 2025, 6:02 PM IST | Thiruvananthapuram
ہندوتوا سوشل میڈیا ہینڈلز، سنگھ پریوار کے لیڈران اور دائیں بازو کے ترجمانوں کی طرف سے بڑے پیمانے پر نفرت انگیز مہم کے بعد، فلم کے پروڈیوسرز نے گجرات نسل کشی کے مناظر کو ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔
مالانکارا آرتھوڈوکس سیرین چرچ کے تھریسور شہری علاقہ کے اسقف یوہانون میلیٹیوس نے فلم ایل ۲: ایمپوران کے خلاف جاری نفرت انگیز مہم کے پیچھے کار فرما ہندوتوا قوتوں کی سخت مذمت کی۔ سینئر عیسائی مذہبی لیڈر نے پیر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک پر ایک پوسٹ میں ہندوتوا تنظیموں پر فلم اور اس کے بنانے والوں کے خلاف نفرت انگیز مہم چلانے کا الزام لگاتے ہوئے اِسے تشدد اور عدم رواداری کے ایک وسیع نمونے کا حصہ قرار دیا۔ ایمپوران کے خلاف مہم کو براہ راست ہندوتوا نظریے سے جوڑتے ہوئے یوہانون میلیٹیوس نے فیس بک پر لکھا: "انہوں نے گاندھی کو مارا، کندھمال کو مٹا دیا، گجرات میں ہزاروں کا قتل عام کیا، بابری مسجد کو گرایا، منی پور میں کئی لوگوں کو مارا اور اب وہ ایک فلم کو مارنا چاہتے ہیں۔ قتل کا سلسلہ جاری ہے..."
ہندوتوا تنظیمیں فلم کی مخالفت کررہی ہیں
واضح رہے کہ پرتھوی راج سکمارن کی ہدایت کاری اور موہن لال کی اداکاری سے سجی ملیالی فلم "ایل ۲: ایمپوران" اپنے سیاسی مواد کی افواہوں کے بعد ہندوتوا تنظیموں کے مسلسل نشانہ پر ہے۔ ۲۰۱۹ء کی ہٹ ملیالی فلم "لوسیفر" کے سیکوئل کے طور پر بنائی گئی اس فلم میں ہندو قوم پرستی کے بیانیوں کو چیلنج کرنے والے موضوعات اور مناظر شامل ہیں۔ فلم میں ۲۰۰۲ء کی گجرات مسلم نسل کشی (اگرچہ نام نہیں لیا گیا)، کیرلا میں ہندوتوا قوتوں کی جڑیں مضبوط کرنے کی کوششوں اور مخالفین کو خاموش کرنے کیلئے سرکاری اداروں کے غلط استعمال جیسے واقعات کے بیانیے سے ناراض ہندوتوا تنظیموں نے ایمپوران کے خلاف نفرت انگیز مہم چلائی ہے۔ اس میں فلم کے ٹکٹوں کی بڑے پیمانے پر منسوخی شامل ہے جس نے ملیالم سنیما میں ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ فلم، آن لائن ٹکٹنگ پلیٹ فارم بک مائی شو پر ۱۰ لاکھ سے زیادہ پیشگی ٹکٹیں فروخت کرنے والی پہلی فلم بن گئی ہے۔ آر ایس ایس کے ترجمان آرگنائزر نے ملیالم فلم پر تنقید کرتے ہوئے اس پر "ہندو مخالف سیاسی ایجنڈے" کو آگے بڑھانے کیلئے ۲۰۰۲ء کی گجرات نسل کشی کے پس منظر کا استعمال کرنے کا الزام لگایا۔ آرگنائزر نے مزید کہا کہ پرتھوی راج ایک انتہائی تقسیم کرنے والی شخصیت ہیں۔ بی جے پی کے یووا مورچہ نے ہدایت کار کے خلاف تازہ نفرت انگیز مہم لانچ کرتے ہوئے بین الاقوامی دہشتگرد گروپس سے روابط ہونے کا الزام لگایا ہے۔
فلم میں ابھیمنیو سنگھ کا کردار بابا بجرنگی موضوع بحث بن گیا ہے۔ بابو بجرنگی، جن کا اصل نام بابو بھائی پٹیل ہے، گجرات نسل کشی کے دوران ۲۰۰۲ء کے نرودا پتیہ قتل عام میں اپنے کردار کیلئے سزا یافتہ ایک بجرنگ دل لیڈر تھے۔ فلم میں بابا بجرنگی کو ۲۰۰۲ء کے فرقہ وارانہ تشدد میں ملوث ایک ہندو قوم پرست سیاستدان کے طور پر دکھایا گیا ہے جو گجرات نسل کشی سے ملتا جلتا ہے۔ اس کردار کی قیادت میں ایک ہجوم ایک مسلم خاندان کے قتل عام سمیت بڑے پیمانے پر خونریزی کیلئے ذمہ دار ہے جسے بہت سے ناظرین بابو بجرنگی سے منسلک حقیقی زندگی کے واقعات سے جوڑتے ہیں۔
فلم سے متنازع مناظر نکال دیئے جائیں گے
فلم میں گجرات مسلم نسل کشی اور نرودا پتیہ قتل عام کے بیانیے کی شمولیت پر برہم ہندوتوا سوشل میڈیا ہینڈلز، سنگھ پریوار کے لیڈران اور دائیں بازو کے ترجمانوں کی طرف سے بڑے پیمانے پر نفرت انگیز مہم کے بعد، فلم کے پروڈیوسرز نے گجرات نسل کشی کے مناظر کو ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اداکار موہن لال نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ فلم کے بعض پہلوؤں نے ان کے کچھ مداحوں کو پریشان کیا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ٹیم نے ایسے حوالوں کو ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔ موہن لال نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کئے گئے بیان میں لکھا: "ایک آرٹسٹ کے طور پر میرا فرض ہے کہ میں یقینی بناؤں کہ میری کوئی بھی فلم کسی سیاسی تحریک، نظریہ یا مذہبی برادری کے خلاف نفرت کو فروغ نہ دے۔ اس ذہن کے ساتھ، میں اور ایمپوران ٹیم اس بات پر اخلاص سے افسوس کا اظہار کرتے ہیں کہ اس نے میرے پیارے خیرخواہوں کو کسی بھی طرح کی تکلیف پہنچائی ہو۔"
رپورٹس کے مطابق، فلم کے پروڈیوسروں نے ۱۷ مناظر کاٹنے اور کچھ مکالموں کو خاموش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مزید برآں، ولن کے کردار بابا بجرنگی کا نام بھی تبدیل کیا جائے گا۔ توقع ہے کہ ایڈٹنگ کچھ دنوں میں مکمل ہو جائے گی، جبکہ اس دوران فلم کا موجودہ ورژن تھیٹر میں چلتا رہے گا۔ نفرت انگیز مہم کے جواب میں، آشیرواد سنیما سمیت فلم سازوں نے رضاکارانہ طور پر فلم کا نظر ثانی شدہ ورژن دوبارہ سنسر شپ کیلئے جمع کرایا ہے۔ دریں اثنا، پروڈیوسرز کے دعوے کے مطابق فلم نے صرف ۵ دنوں میں ۲۰۰ کروڑ روپے کا کاروبار کر لیا ہے۔