شیو سینا کی دھمکیوں کے بعد بُک مائے شو نےکامراکو فنکاروں کی اپنی فہرست سے خارج کردیا،گرفتاری کیخلاف اپیل پر پیر کو مدراس ہائی کورٹ میں دوبارہ سماعت
EPAPER
Updated: April 05, 2025, 10:08 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai
شیو سینا کی دھمکیوں کے بعد بُک مائے شو نےکامراکو فنکاروں کی اپنی فہرست سے خارج کردیا،گرفتاری کیخلاف اپیل پر پیر کو مدراس ہائی کورٹ میں دوبارہ سماعت
نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے پر تنقید کے کیس میں کامیڈین کنال کامرا تیسرے سمن پر بھی سنیچر کو پولیس کے سامنے حاضر نہیں ہوئے۔ اس دوران فلموں اور شو کی ٹکٹوں کی آن لائن بُکنگ کی خدمات فراہم کرنے والی ویب سائٹ ’بُک مائے شو‘ نے کنال کامرا کو فنکاروں کی اپنی فہرست سے خارج کردیا ہے اور ان کے شو کیلئے ٹکٹیں بُک کرنا بند کردی ہیں۔واضح رہے کہ کنال کامرا نے فروی میں اپنے ایک شو میں بغیر کسی کا نام لئے ’غدار‘، ’دل بدلُو‘ اور ’جس تھالی میں کھاتا ہے اسی میں چھید کرتا ہے‘ جیسے الفاظ استعمال کئے تھے۔ البتہ شیوسینا (شندے) کا دعویٰ ہے کہ کنال نے یہ باتیں نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کے تئیں کہی ہیں۔ اس وجہ سے شیوسینکوں نے اس ہوٹل اور اسٹوڈیو میں توڑ پھوڑ کی تھی جس میں متنازع شو ہوا تھا۔ اس کے بعد سے ہی کنال کامرا کے خلاف جم کر طومار باندھا جارہا ہے اور انہیں گرفتار کرنے کی کوششیں بھی ہو رہی ہیں۔
اس سلسلے میں کنال کے خلاف ممبئی کے کھار پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر بھی درج کی گئی ہے اور اسی سلسلے میں پوچھ تاچھ کیلئے پولیس انہیں ۳؍ مرتبہ سمن بھیج چکی ہے لیکن کنال ایک مرتبہ بھی کھار پولیس اسٹیشن میں حاضر نہیں ہوئے ہیں۔ مدراس ہائی کورٹ نے ۲۸؍ مارچ کو کنال کامرا کو ممبئی کے کھار پولیس اسٹیشن میں درج کیس میں گرفتاری سے ۷؍ اپریل تک عبوری راحت دی ہے اس لئے پیر تک پولیس انہیں اس سلسلے میں گرفتار نہیں کرسکتی ہے۔
مدراس ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ سپریم کورٹ کے رہنما خطوط کے مطابق اگر کسی شخص کے خلاف کیس درج ہے تب بھی کسی دیگر ریاست میں واقع عدالت اس شخص کو چنندہ حالات میں گرفتاری سے عبوری راحت دے سکتی ہے۔ ان رہنما خطوط میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اگر کسی شخص کو متعلقہ ریاست میں جانے پر جسمانی ایذا پہنچنے کا خدشہ ہو، یا جان کا خطرہ ہوتب بھی اسے گرفتاری سے راحت مل سکتی ہے۔ مدراس ہائی کورٹ کے مطابق اخبارات میں شائع خبروں سے پتہ چلتا ہے کہ کنال کامرا کو سیاسی پارٹی کے رضاکاروں کے علاوہ ایک ریاستی وزیر نے بھی دھمکی دی ہے اس لئے ان کے خلاف مہاراشٹر میں کیس درج ہونے کے باوجود مدراس میں واقع عدالت سے راحت دی جاسکتی ہے۔
پیر، ۷؍ اپریل کو مدراس ہائی کورٹ کنال کامرا کی ضمانت قبل از گرفتاری کی عرضی پر دوبارہ سماعت کرے گی۔ البتہ گرفتاری سے راحت دیتے ہوئے ہائی کورٹ نے یہ بھی ہدایت دی تھی کہ اس پٹیشن کی اطلاع کھار پولیس کو دی جائے تاکہ وہ آئندہ سماعت پر اپنی بات رکھ سکے۔ موجودہ صورتحال میں پیر کو پتہ چلے گا کہ کنال کامراکو گرفتاری سے مزید راحت ملتی ہے یا نہیں۔
اس دوران آن لائن ٹکٹنگ پلیٹ فارم ’بُک مائی شو‘ نے کنال کامرا کے تمام شو کا مکمل مواد اپنے پلیٹ فارم سے ہٹا دیا ہے اور فنکاروں کی اپنی فہرست میں سے بھی ان کا نام خارج کردیا ہے۔ بُک مائی شو کی اس کارروائی پر کنال کامرا نے اپنے ایکس اکائونٹ سے کمپنی کو مخاطب کرکے ٹویٹ کیا ہے کہ ’’ہیلو بُک مائے شو، برائے مہربانی کیا آپ یہ بتاسکتے ہیں کہ میں آپ کے پلیٹ فارم پر اپنا شو لِسٹ کرسکتا ہوں یا نہیں؟ اگر نہیں، تب بھی ٹھیک ہے، میں سمجھ سکتا ہوں۔‘‘
شیوسینا (شندے) کے لیڈر راہل کنال نے جمعہ کوبک مائے شو کو تحریری درخواست دی تھی کہ وہ کنال کامرا کے اگلے شو کی ٹکٹیں فروخت کرنے کیلئے اپنی خدمات فراہم نہ کریں۔ راہل نے اپنے خط میں کہا تھا کہ کنال کے شو کیلئے ٹکٹیں فروخت کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ کمپنی اس کے تفرقہ انگیز بیان کی توثیق کرتی ہے جس سے عوامی جذبات اور شہر کے نظم و نسق پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ راہل نے اس کمپنی کو طویل خط لکھا تھا اور جب کمپنی نے اپنی فہرست سے کنال کا نام خارج کردیا تو شیوسینا لیڈر نے ان کے اس اقدام کی ستائش کی ۔