عید الفطر کی نماز کی ادائیگی کے دوران مالونی میں انجمن جامع مسجد گیٹ نمبر۷؍ کے ٹرسٹیان کی جانب سے امسال از خود ایک طرف کی سڑک ٹریفک اور ایمبولنس وغیرہ کے لئے خالی رکھ کر مثبت پیغام دینے کی کوشش کی گئی۔
EPAPER
Updated: April 02, 2025, 9:58 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
عید الفطر کی نماز کی ادائیگی کے دوران مالونی میں انجمن جامع مسجد گیٹ نمبر۷؍ کے ٹرسٹیان کی جانب سے امسال از خود ایک طرف کی سڑک ٹریفک اور ایمبولنس وغیرہ کے لئے خالی رکھ کر مثبت پیغام دینے کی کوشش کی گئی۔
عید الفطر کی نماز کی ادائیگی کے دوران مالونی میں انجمن جامع مسجد گیٹ نمبر۷؍ کے ٹرسٹیان کی جانب سے امسال از خود ایک طرف کی سڑک ٹریفک اور ایمبولنس وغیرہ کے لئے خالی رکھ کر مثبت پیغام دینے کی کوشش کی گئی۔ یہاں۶۰؍ سال سے زائد وقت سے سڑک پر نماز ادا کی جاتی ہے اور اس کے لئے تمام شعبوں بی ایم سی، بیسٹ، فائر بریگیڈ اور پولیس سے باقاعدہ اجازت لی جاتی ہے۔ عیدالفطر کے موقع پرایڈیشنل سی پی، ڈی سی پی اور اے سی پی نے جامع مسجد پہنچ کرجائزہ لیا اورنظم دیکھ کر اطمینان کا اظہار کیا۔
انجمن جامع مسجد کے صدر اجمل خان سے استفسار کرنے پرانہوںنے نمائندۂ انقلا ب کوبتایاکہ ’’ ریکارڈ کے مطابق ۶۰؍سال سےزائدوقت سے مسجد بھرجانے اورمصلیان کی کثرت کے سبب روڈ پرنماز ادا کی جاتی رہی ہے۔امسال ہم ٹرسٹیان نےکسی کے دباؤ یا زورزبردستی کے بغیراپنے طور پر یہ فیصلہ کیا کہ ایک جانب سڑک خالی رکھی جائے تاکہ ٹریفک اورخاص طور پرایمبولنس وغیرہ جانے کامسئلہ نہ ہو، چنانچہ اس پرپولیس کے اعلیٰ افسران نے ستائش کی۔‘‘
انہوں نےیہ بھی بتایاکہ’’ایک جانب روڈ خالی رکھنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ مصلیان کی صفیں دائیںجانب شہید عبدالحمیدروڈ پر ۶؍نمبرنالے کے قریب تک اور دوسری جانب سبزی مارکیٹ کے قریب تک پہنچ گئیں۔ اس دورا ن۴۰؍تا ۴۵؍منٹ کے اندر نماز اوردعا وغیرہ ختم کرکے چٹائیاں اوردیگر سامان فوری طور پرہٹالیا گیا اور ٹریفک معمول کے مطابق شروع ہوگیا۔‘‘
اجمل خان نے یہ بھی کہاکہ ’’ کسی کے اعتراض یا ڈر خوف کی بات نہیںہے اور نہ ہی کسی کے بیان بازی کی پروا، ہم سب خود ہی مفاد عامہ کے تعلق سے فکر مند رہتے ہیںاورمذہبِ اسلام کی تعلیم بھی یہی ہےکہ اپنےہر عمل سےدوسروں کوسہولت پہنچائی جائے۔اسی کے پیش نظربرسوں سے جاری روایت کو امسال ختم کردیا گیا۔اس سے فائدہ یہ ہوا کہ لوگوں نے پہلے کی طرح اطمینان سےنمازبھی ادا کی اورٹریفک نظام بھی جاری رہا ،کسی کوپریشانی نہیںہوئی۔ مالونی میں بھائی چاراکی فضا مستحکم ہے اوروہ طاقتیں ہمیشہ ناکام رہتی ہیں جواپنے سیاسی فائدہ کے لئے زہرگھولنے کی کوشش کرتی ہیں۔‘‘