Inquilab Logo Happiest Places to Work

منوج کمار:جہد مسلسل سے بے پناہ مقبولیت حاصل کرنے والا فنکار

Updated: April 04, 2025, 11:08 PM IST | Mumbai

بالی ووڈمیں منوج کمار کا نام ایسے عظیم فنکاروں کی فہرست میں شامل ہے جنہوںنے بے مثال اداکاری سےناظرین کے دلوں میں اپنا ایک مخصوص مقام بنایا ہے۔

Manoj Kumar
منوج کمار

بالی ووڈمیں منوج کمار کا نام ایسے عظیم   فنکاروں کی فہرست میں شامل ہے جنہوںنے بے مثال اداکاری سےناظرین کے دلوں میں اپنا ایک مخصوص مقام بنایا ہے۔ منوج کمار کی پیدائش ۲۴؍ جولائی ۱۹۳۷ء کو پاکستان کے ایبٹ آباد شہر میں ہوئی تھی۔ان کااصل نام ہر ی کرشن گوسوامی ہے۔ انہوں نے نہ صرف فلم سازی بلکہ ہدایت کاری، اسٹوری رائٹر اور مکالمہ نگاری سے  ناظرین کے دلوںمیں اپنی ایک خاص شناخت قائم کی۔ منوج کمار نے تقریباً ۵۰؍فلموں  میں   اداکاری کے اپنے  جوہر دکھائے۔ ۱۹۵۷ءسے۱۹۶۲ء تک منو ج کمار فلمی صنعت میںاپنامقام بنانے کیلئےجدوجہد کرتے رہے اور آخر کار ان کی جدوجہد رنگ لائی۔اس کے بعد انہیں  جو بھی کردارملا اسے وہ اسے ہاتھوں ہاتھ لیتےگئے۔ ان کی متعددفلمیں ایسی ہیں جنہوں نے منوج کمار کو شہرت کی  بلندیوں تک پہنچا دیا۔ ان بہترین فلمیں اپکار،شور،روٹی کپڑااور مکان، سنتوش، پورب پچھم، کل یگ،ر امائن ،کرانتی، جئے ہند،پینٹر  بابو اورکلرک وغیرہ ہیں۔
 منوج کمار کی فنکاری کاایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ اپنی فلموں کی کہانیاں خوداردومیںقلم بندکرتےتھے۔اس کے علاوہ  وہ ایک اچھے شاعر بھی تھے۔ان کے والد پنڈت ہربنس لال گوسوامی اردو فارسی کے ایک نامورشاعر تھے۔ان کے کلام کا جلوہ اس وقت دیکھنے کو ملا جب وہ صرف پانچویں جماعت کے طالب علم تھے۔اگر ان کے ماضی کی طرف ناظر ڈالیں تو  اس بات کا احساس ہوگا کہ وہ  نہ تو کسی ہیرو کے بیٹے تھے اور نہ ہی کسی ہدایت کار کے رشتہ دار ۔ فلم انڈسٹری کاقلعہ فتح کرنا ان کیلئےتقریباً ناممکن تھا۔ پہاڑ جیسی ہمت رکھنے والے منوج کمارکے والدین نےانہیںتعلیم     دے کر قابل بنایا۔ تعلیم کے بعد وہ ممبئی آگئے۔یہاں آکر مسلسل دوڑ دھوپ میں  لگے رہے ۔
 دوسال تک جدو جہد میںچھوٹے موٹے رول کرنے اور ایک آدھ نچلے درجے کی فلمیں کرنے کے بعد ان کو فلمی صنعت میں قدم رکھنے کی جگہ مل گئی۔مگر تاحال کامیابی ان سے کوسوں دور تھی۔ ۱۹۶۱ءمیںان کی یکے بعد دیگرے ۳؍ فلمیں ’ریشمی رومال‘ ، ’کانچ کی گڑیا‘  اور ’سہاگ سندور ‘ ریلیز ہوئیں۔ان فلموں میں ان کی چاکلیٹی ہیرو کی شبیہہ پسند کی گئی لیکن کمزور اسکرین پلےکے باعث ان فلموں کو کوئی خاص کامیابی نہ مل سکی۔
 ملک کی تقسیم کےبعدمنوج کمار کا خاندان راجستھان کے ہنومان گڑھ ضلع میںبس گیا تھا۔ نہایت دشوار گزار وقت کا سامنا کرتے ہوئے بے سروسامانی کی حالت میں یہاں پہنچے۔نہ گھر، نہ ٹھکانہ اور نہ ہی کوئی دوست۔ انہوں نے ایک مہاجرکیمپ میں قیام کیا۔ ان کی معصوم بہن، جو ان کا کھلونا بھی تھا، غذائی قلت اور غیر صحت مند ماحول کے باعث بیمار پڑگئی، اسپتال پہنچے تو حالات بگڑے ہوئے تھے، ڈاکٹر کم مریض زیادہ، مسائل بےشمارتھے،ایسےمیں مہاجر اور بے شناخت مریض کو کون پوچھتا۔معصوم بہن کی چیخ و پکار نے انہیں ہلا کر رکھ دیا۔ وہ آپے سے باہر ہوگئے۔ڈنڈا اٹھاکر ڈاکٹر، نرس، پولیس اہلکار الغرض سب پر برس پڑے۔ یہ ان کی زندگی کا پہلا اور آخری تشدد ثابت ہوا۔ لیکن ان کے والد نےانہیںسمجھایا، کہ تشدد سے تشدد جنم لیتا ہے اور ہم تشدد کی ہی پیداوار ہیں، اس لیے وعدہ کرو کبھی بھی ہاتھ کا استعمال نہیں کروگے، ہمیشہ محبت اور نرمی کا مظاہرہ کروگے۔منوج کمار نے وعدہ کرلیا اور ان کی پوری زندگی اس بات کی شاہدہےکہ انہوں نے کبھی کسی سے اونچی آواز میں بات بھی نہیں کی ۔اسپتال سے جب گھر پہنچے تو  ان کی بہن  دنیا سے رخصت ہوچکی تھی۔ بہن کے صدمہ نے انہیں توڑ کر رکھ دیا۔ بقول منوج کمار ’’جب میری بہن کی آخری رسوم ادا کی جارہی تھیںتو مجھے ایسا لگا جیسے میری زندگی کا ایک بڑا حصہ ختم ہونے جارہا ہے، میرا وجود مجھے خود پر بوجھ سا لگنے لگا۔‘‘
 طویل عرصے سے صحت کے مسائل سے دوچار۸۷؍سالہ سینئراداکارمنوج کمار۴؍اپریل  ۲۰۲۵ءکی صبح ساڑھے تین بجے ممبئی کےکوکیلا بین  امبانی اسپتال میں  انتقال کرگئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK