امریکی صدر نےکسی کو نہیں بخشا ، تھوک کے بھائو میں ٹیریف لگادیا،کمبوڈیا پر سب سے زیادہ ۴۹؍ فیصد جبکہ یوکے ، سنگاپور اور برازیل پر سب سے کم ۱۰؍ فیصد
EPAPER
Updated: April 03, 2025, 11:01 PM IST | Washington
امریکی صدر نےکسی کو نہیں بخشا ، تھوک کے بھائو میں ٹیریف لگادیا،کمبوڈیا پر سب سے زیادہ ۴۹؍ فیصد جبکہ یوکے ، سنگاپور اور برازیل پر سب سے کم ۱۰؍ فیصد
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے بے سر پیر کے اقدامات کے ذریعے پوری دنیا کو دہلانے کا سلسلہ جاری رکھتے ’ڈسکاؤنٹ ریسی پروکل ٹیریف‘ کا اعلان کر دیا ہے۔ ان کے اعلان کا پوری دنیا بہت بے صبری سے انتظار کررہی تھی ۔ انہوں نے اس موقع کو ’لبریشن ڈے تقریر ‘ قرار دیا اور کہا کہ ۲؍ اپریل ہمیشہ کے لئےلبریشن ڈے کے طور پر جانا جائے گا جب امریکہ نے اپنی صنعتی آزادی دوبارہ حاصل کی تھی۔ ہم دنیا بھر کے ممالک پر وہی ٹیریف لگائیں گے جو وہ ہم پر لگاتے ہیں۔ ریسی پروکل کا مطلب ہے کہ جیسا وہ کرتے ہیں، ویسا ہی ہم بھی کریں گے۔ یہ اتنا ہی آسان ہے۔
اس کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے اپنا ٹیریف کارڈ نکال کر میڈیا کو دکھایا او ر اس کے حساب سے تھوک کے بھائو میں ٹیریف کا اعلان کرنے لگے۔ انہوں نے ہندوستان کا نمبر آنے پر کہا کہ ہندوستان امریکہ سے مختلف درآمدات پر ۵۲؍ فیصد ڈیوٹی وصول کرتا ہے۔ حالانکہ ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی حال ہی میں یہاں سے گئے ہیں۔ وہ میرے بہت اچھے دوست بھی ہیں لیکن ہم ان سے بھی ٹیریف وصول کریں گے ۔ چونکہ ہندوستان ہم سے ۵۲؍ فیصد ٹیریف وصول کرتا ہے اس لئے ہم ان سے اس کا آدھا یعنی ۲۶؍ فیصد ٹیریف وصول کریں گے۔
ہندوستان کے علاوہ ٹرمپ نے چین کے خلاف ۳۴؍ فیصد ٹیریف لگایا ہے جبکہ سب سے زیادہ ٹیریف کمبوڈیا پر عائد کیا گیا ہے۔ وہاں سے درآمد ہونے والی اشیاء پر امریکہ اب ۴۹؍ فیصد ٹیریف وصول کرے گا۔ ساتھ ہی ٹرمپ انتظامیہ نے ویتنام سے درآمد ہونے والی اشیاء پر ۴۶؍ فیصد، سوئٹزرلینڈ پر ۳۱؍ فیصد ، تائیوان پر ۳۲؍ فیصد،یورپی یونین پر ۲۰؍ فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان کیا ہے۔ اس معاملے میں صرف برطانیہ ، برازیل اور سنگاپور کو معمولی راحت دی گئی ہے۔ ان ممالک سے درآمد ہونے والی اشیاء پر صرف ۱۰؍ فیصد ٹیریف وصول کیا جائے گا۔ ان ممالک کے علاوہ امریکی صدر نے پاکستان پر ۲۹؍ فیصد، بنگلہ دیش پر ۳۷؍ فیصد، جنوبی افریقہ پر ۳۰؍ فیصد، انڈونیشیا پر ۳۲؍ فیصد اور جاپان پر ۲۴؍ فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان کیا ہے۔