کانگریس نے جلد از جلد مردم شماری کا مطالبہ کیا اور حکمراں جماعت پرکسانوں کے اثاثوں کو کارپوریٹ گھرانوں کے حوالے کرنے کی سازش کا الزام بھی لگایا۔
EPAPER
Updated: April 02, 2025, 9:52 AM IST | New Delhi
کانگریس نے جلد از جلد مردم شماری کا مطالبہ کیا اور حکمراں جماعت پرکسانوں کے اثاثوں کو کارپوریٹ گھرانوں کے حوالے کرنے کی سازش کا الزام بھی لگایا۔
بجٹ سیشن کے دوسرے مرحلے کے دوران پہلے دن سے ہنگامہ آرائی جاری ہے۔ مختلف موضوعات پر اپوزیشن کے اراکین جہاں اپنی بات رکھنے اور اس پر بحث کا مطالبہ کررہے ہیں، وہیں دوسری جانب حکمراں جماعت کا من مانی کا سلسلہ جاری ہے،جس کی وجہ سےپارلیمنٹ کے دونوں ہی ایوانوں میں کارروائیاں متاثر ہورہی ہیں۔منگل کو بھی کچھ اسی طرح کی صورتحال دکھائی دی۔
وقفہ صفر کیلئے لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے جیسے ہی ایوان کی کارروائی شروع کی، سماج وادی پارٹی کے اراکین نے پارٹی لیڈر رام جی لال سمن کے گھر کے باہر ہنگامہ آرائی کے خلاف احتجاج شروع کردیا۔اس دوران اراکین کے ہاتھوںمیں نعرے لکھے ہوئے پلے کارڈس تھے۔ اس کی وجہ سے اسپیکر نے ایوان کی کارروائی دوپہر۲؍ بجے تک ملتوی کر دی۔اسپیکر نے انہیں پلے کارڈز اٹھانے اور نعرے لگانے سے منع کیا اور اراکین کو خبردار کیا کہ اگر ہنگامہ آرائی جاری رہی تو وہ ایوان کی کارروائی ملتوی کر دیں گے۔اس دوران اسپیکر نےسماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو کو یقین دلایا کہ اگر ایوان کی کارروائی جاری رہی تو انہیں بعد میں اپنا مسئلہ اٹھانے کا موقع دیا جائے گا۔
دوسری طرف راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر اور کانگریس کے سربراہ ملکارجن کھرگے نے جلد از جلد مردم شماری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کی اقتصادی اور سماجی صحت کیلئے ضروری ہے۔ایوان میں ’چیئرمین کی اجازت سے اٹھائے گئے معاملے‘ کے تحت انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت مردم شماری کے انعقاد میں غیر معمولی تاخیر کا سبب بن رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ۱۰؍ سال بعد مردم شماری کرانے کا انتظام ہے لیکن حکومت کا رویہ ظاہر کررہا ہے کہ اس کا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ مہاتما گاندھی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کی معیشت کیلئے مردم شماری ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مردم شماری کا انعقاد ایک بہت بڑا کام ہے لیکن حکومت نے اس تعلق سے مناسب رقم ہی مختص نہیں کی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس معاملے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ہی ذات پر مبنی مردم شماری بھی کرائی جانی چاہئے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ کورونا وبا کے باوجود دنیا کے۸۱؍ فیصد ممالک نے اپنے اپنے ملکوں میں کامیابی کے ساتھ مردم شماری کرائی ہے، لیکن ہندوستان میں حکومت نے اس حوالے سے ابھی تک کوئی واضح بیان تک جاری نہیں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مردم شماری نہ کرانے کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے کیونکہ درست اور اپ ڈیٹ اعداد و شمار کے بغیر پالیسیاں بنانا مشکل ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس دوران پالیسیاں بنائی بھی گئیں تو وہ من مانی ہوں گی اور ان پالیسیوں کا لوگوں کی زندگیوں پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔ کھرگے کے مطابق کئی اہم سروے اور عوامی بہبود کی اسکیمیں مردم شماری پر مبنی ہیں جیسے کنزیومر سروے، نیشنل فیملی ہیلتھ سروے، لیبر فورس سروے، نیشنل فوڈ سیکوریٹی ایکٹ اور نیشنل سوشل اسسٹنس پروگرام کا سارا دارومدار مردم شماری کے اعداد وشمار پر انحصار ہوتا ہے۔
راجیہ سبھا میںکانگریس نےکسانوں کے موضوع پر بھی مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور الزام عائد کیا کہ وہ کسانوں کے اثاثوں کوکارپوریٹ گھرانوں کے حوالے کرنے کی سازش رچ رہی ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر دگ وجے سنگھ نے اس موضوع پر اپنی بات رکھتے ہوئے کہاکہ کوآپریٹیو کے بارے میں مودی حکومت کے ارادے ٹھیک نہیں ہیں۔تریبھون کوآپریٹیو یونیورسٹی ایکٹ۲۰۲۵ء پر بحث شروع کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کوآپریٹو تحریک۱۹۴۰ء میں شروع ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو اپنی پیداوار کا صرف۴۰؍ فیصد حصہ ہی ملتا ہے لیکن کوآپریٹیو میں کسانوں کا حصہ۸۰؍ فیصدتک ہے۔انہوں نے کہا کہ کوآپریٹیو ڈپارٹمنٹ بنانے میں حکومت کی نیت ٹھیک نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ’ کوآپریٹیو‘ کو ’کارپوریٹائز‘ کیا جا رہا ہےجس کے تحت کسانوں کے اثاثوں کو کمپنیوں کے حوالے کرنے کی سازش ہو رہی ہے۔ انہوں نے مدھیہ پردیش میں کوآپریٹیو اداروں میں بے ضابطگیوں کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ذاتی مفاد کیلئے ضابطوں کو تبدیل کیا جا رہا ہے۔
اپنی حکومت کا دفاع کرتے ہوئے بی جے پی رکن نرہری امین نے کہا کہ گجرات میں کوآپریٹیو کی ایک طویل روایت ہے۔ اس میں سب نے اپنا حصہ ڈالا ہے۔ اس سے کسانوں کو اپنی پیداوار کی بہتر قیمت حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے اور وہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کیلئے ہمیں پارٹی سیاست کے مفادات سے اوپر اٹھنا چاہئے کیونکہ یہ کسانوں کیلئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بل سے کوآپریٹیو سیکٹر کیلئے ماہرین اور باشعور افراد کی دستیابی میں اضافہ ہوگا۔
اس دوران پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں کئی دیگر موضوعات پربھی اپوزیشن نے مودی حکومت پر تنقید کی اور اس کے خلاف احتجاج کیا۔