امریکی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ یوکرینی صدر زیلنسکی معدنیات کے معاہدے پر دستخط کیلئے تیار ہیں اور واشنگٹن آرہے ہیں۔
EPAPER
Updated: February 27, 2025, 1:44 PM IST | Agency | Washington
امریکی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ یوکرینی صدر زیلنسکی معدنیات کے معاہدے پر دستخط کیلئے تیار ہیں اور واشنگٹن آرہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین کے صدر ولاد میر زیلنسکی معدنیات کے معاہدے پر دستخط کے لیے تیار ہو گئے ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق ڈونالڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ اور یوکرین یورپی ملک کے زمینی معدنیات اور دیگر قدرتی وسائل تک رسائی فراہم کرنے کے معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی ہے جب یوکرین، روس کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لئے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ تعلقات کی بحالی اور مزید امداد کی امید کر رہا ہے۔
’’ہم جنگ پر اربوں ڈالر خرچ کرچکے ہیں‘‘
امریکی صدر کا کہنا ہے کہ یوکرینی صدر واشنگٹن آکر معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، یوکرین کے ساتھ ایک ٹریلین ڈالر کا معاہدہ ہو سکتا ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ امریکی ٹیکس دہندگان کو ان کی رقم واپس مل جائے۔ انہوں نے کہا کہ `ہم روس اور یوکرین کے درمیان جنگ پر اربوں ڈالر خرچ کر چکے ہیں جو کبھی نہیں ہونی چاہیے تھی۔
اس معاہدے سے یوکرین کو بدلے میں کیا ملے گا؟ کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈونالڈ ٹرمپ نے۳۵۰؍ بلین ڈالر کی امداد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ پہلے ہی بہت بڑی رقم یوکرین کو فراہم کر چکا ہے جس میں فوجی ساز و سامان بھی شامل ہے۔
اس معاہدے کی تجارتی اہمیت کیا ہے؟
ایک اندازے کے مطابق دنیا کے `خام مال کا تقریباً ۵؍ فیصد یوکرین میں ہے۔ یوکرین میں گریفائٹ کے۱۹؍ ملین ٹن ثابت شدہ ذخائر موجود ہیں جو الیکٹرک گاڑیوں کی بیٹریاں بنانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
زیلنسکی واشنگٹن آتے ہیں توانہیں کوئی دقت نہیں: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا کہ اگر یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی واشنگٹن میں ان سے ملنے آتے ہیں تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ ٹرمپ نے کہا، ’’میں نے سنا ہے کہ وہ جمعہ کو آرہے ہیں، اس لئے اگر وہ آنا چاہتے ہیں تو یقیناً مجھے اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔‘‘ اس سے قبل منگل کے روز، فاکس نیوز نے اطلاع دی تھی کہ زیلنسکی اس جمعہ کو ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کے لئے واشنگٹن کا سفر کرنے والے ہیں، ان اطلاعات کے درمیان کہ کیف نے اہم معدنیات اور نایاب زمینوں سے متعلق معاہدے کے نظر ثانی شدہ ورژن پر دستخط کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا، ’’ہم کہہ رہے ہیں کہ دیکھو... ہم وہ رقم واپس لینا چاہتے ہیں ۔‘‘ منگل کو بلومبرگ نے اطلاع دی کہ یوکرین کی حکومت۲۶؍ فروری کو امریکہ کے ساتھ معاہدے پر دستخط دوبارہ شروع کر سکتی ہے۔ مجوزہ معاہدہ واشنگٹن کو یوکرین کے وسائل کی آمدنی کا حصہ دے گا۔ تازہ ترین مسودے میں ایک اہم ترمیم یوکرین کے لیے تیل، گیس اور معدنیات کی فروخت سے۵۰۰؍ ارب امریکی ڈالر کی آمدنی دینے کی سابقہ ضرورت کو ختم کرتی ہے۔ ذرائع نے اخبار کو بتایا کہ مذاکرات جاری ہیں اور حتمی شرائط اب بھی تبدیل ہو سکتی ہیں۔