لوک سبھا میں بل کی حمایت کرتے ہوئے پارٹی ایم پی کرشنا پرساد نے کہا کہ ہم یہ ترمیم چاہتے ہیں کہ ریاستوں کو اپنے طور پر وقف بورڈ کی تشکیل کی آزادی دی جائے
EPAPER
Updated: April 02, 2025, 11:18 PM IST | New Delhi
لوک سبھا میں بل کی حمایت کرتے ہوئے پارٹی ایم پی کرشنا پرساد نے کہا کہ ہم یہ ترمیم چاہتے ہیں کہ ریاستوں کو اپنے طور پر وقف بورڈ کی تشکیل کی آزادی دی جائے
وقف بل پیش کرنے کے دوران لوک سبھا میں مودی حکومت کی اہم اتحادی پارٹیوں تیلگو دیشم اور جنتادل یونائٹیڈ کے موقف پر سبھی کی نظریں ہیں۔ لوک سبھا میں بل پر بحث کے دوران تیلگو دیشم کے رکن پارلیمنٹ کرشنا پرسادٹینیٹی نے پارٹی کی جانب سے کہا کہ ہم وقف بورڈس میں اصلاحات کے خلاف نہیں ہیں اور نہ یہ چاہتے ہیں کہ اس بل کو پوری طرح مسترد کردیا جائے بلکہ ہمارا مطالبہ ہے کہ اس بل میں صرف ایک ترمیم کی جائے جو ہم نے اسپیکر کو پیش کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہ ترمیم چاہتے ہیں کہ مرکز ریاستی وقف بورڈس کے کام کاج میں بلاوجہ مداخلت نہ کرے اور ریاستوں کو اپنے اپنے طور پر وقف بورڈس کی تشکیل کی اجازت دے۔ اس سے مسلمانوں کا وقف جائیدادوں پر قبضے کا ڈر بھی ختم ہو گا اور وہ اصلاحات کو قبول بھی کریں گے ۔
ٹی ڈی پی رکن پارلیمنٹ کرشنا پرساد نے اپنے خطاب میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ ان کی پارٹی نے جے پی سی میں اس بل پر غور کے دوران کئی اہم ترامیم کی تجویز پیش کی ہے جن میں سے ایک ضلع کلکٹر کو ہٹاکر اس سے بڑا کوئی آفیسر نامزد کرنا تاکہ وقف پراپرٹی پر تنازع کا حل تیزی کے ساتھ نکالا جاسکے۔انہوں نے یہ دہرایا کہ ہم نے وقف بورڈس کی تشکیل میں جو آزادی فراہم کرنے کی بات کہی ہے وہ جے پی سی میں بھی پیش کرچکے ہیں اور اب چاہتے ہیں کہ مرکزی حکومت اس معاملے میں ایکشن لے اور اس ترمیم کو قبول کرتے ہوئے بل منظور کروائے۔ واضح رہے کہ ٹی ڈی پی کی جانب سے جو ترمیم پیش کی گئی ہے وہ مسلمانوں کو رام کرنے کی کوشش نظر آرہی ہے کیوں کہ ریاستی حکومتوں کو اگر یہ آزادی ملی تو ممکنہ طور پر سیکولر حکومتوں میںوقف بورڈ کے ممبران مسلمان ہی ہوں گے۔