۱۹؍ برسوں سے تراویح پڑھا رہے ہیں۔ ان کے خاندان میں کئی حفاظ اور عالم ہیں۔ ان کے دادا گائوں کے پہلے عالم تھے۔
EPAPER
Updated: March 29, 2025, 9:36 AM IST | Shahab Ansari | Mumbai
۱۹؍ برسوں سے تراویح پڑھا رہے ہیں۔ ان کے خاندان میں کئی حفاظ اور عالم ہیں۔ ان کے دادا گائوں کے پہلے عالم تھے۔
مفتی معراج بستوی (۳۴) کا تعلق اس خانوادے سے ہے جس میں کئی حافظ اور عالم ہیں۔ لاک ڈائون کے بعد انہوں نے کپڑوں کا کاروبار شروع کیا تھا جس کی وجہ سے امامت کے فرائض سے سبکدوشی کا اعلان کرتے ہوئے ممبرا کوسہ میں واقع مسجد نور میں استعفیٰ پیش کردیا تھا لیکن منتظمین نے ان کا استعفیٰ قبول کرنے سے انکار کردیا اور اپنی خدمات جاری رکھنے کی ضد کی جس کی وجہ سے وہ اب بھی اس مسجد میں نماز جمعہ اور تراویح پڑھاتے ہیں۔ مفتی معراج کہتے ہیں کہ وہ اور ان کے بھائیوں نے جو دینی تعلیم حاصل کی ہے وہ ان کے دادا کمال الدین مرحوم اور دادی کی محنتوں، کاوشوں اور قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے ۵؍ میں سے ۳؍ بھائی حافظ اور عالم ہیں۔ بچپن میں تعلیم کے نظم کے تعلق سے وہ بتاتے ہیں کہ گھر کے تمام بچوں کو صبح قرآن شریف پڑھنے بیٹھا دیا جاتا تھا اور جب تک بچے آدھا یا ایک پارہ مکمل نہ پڑھ لیتے تب تک انہیں ناشتہ نہیں دیا جاتا تھا۔ ناشتہ کے بعد انہیں مکتب بھیج دیا جاتا تھا۔
وہ بتاتے ہیں کہ بچپن میں گھر والوں نے قرآن کریم کی تلاوت کی جو عادت ڈالی تھی اس کی وجہ سے سال بھر روزانہ کم از کم ایک اور کبھی ۲؍ یا ۳؍ پارے پڑھنے کا معمول رہتا ہے۔ اس کی وجہ سے رمضان میں تراویح پڑھانے کیلئے کسی خصوصی اہتمام کی ضرورت نہیں رہتی۔ مفتی معراج کے مطابق اتنے برسوں سے قرآن پڑھانے اور روزانہ تلاوت سے رمضان میں تراویح سے قبل کسی کو قرآن پڑھ کر سنانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’رمضان میں میرا یہ معمول رہتا ہے کہ میں معنی پر زیادہ غور کرتا ہوں اور کوشش یہ رہتی ہے کہ تراویح میں جو بھی آیت پڑھی جائے اس کو سمجھ کر پڑھائوں۔ بغیر سمجھے تراویح نہ پڑھائوں۔ جو قرآن تراویح میں سنانا ہوتا ہے اس کو بغور دیکھ لیتا ہوں۔ روزانہ تراویح کی نماز مکمل ہونے کے بعد جو قرآن پڑھا گیا ہوتا ہے اس کی ۱۰؍ سے ۱۵؍ منٹ تفسیر بتاتا ہوں۔‘‘
وہ تقریباً ۱۵؍ برس کی عمر سے ترایح پڑھا رہے ہیں اور ۱۹؍ برسوں سے تراویح پڑھانے کا معمول برقرار ہے۔ وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ ان کے دادا شیخ الحدیث شیخ زکریا ؒکے آخری شاگردوں میں سے تھے اور دین کی خدمت کا بہت جذبہ تھا۔ ان کے دادا ہمیشہ نصیحت کرتے تھے کہ قرآن سے تعلق بنائو، قرآن کو سمجھ کر پڑھو، قرآن کی جہاں تک ہوسکے خدمت کرو کیونکہ یہ اللہ کا کلام ہے، جو اس کی خدمت کرے گا اللہ اس کو دنیا میں بھی کامیاب کرے گا اور آخرت میں بھی کامیاب کرے گا۔ آج بھی ان کے گائوں میں ۶۰؍ سے ۶۵؍ برس کی عمر کے جو لوگ ہیں وہ ان کے دادا کے پڑھائے ہوئے ہیں۔ ان کی دادی بالکل ان پڑھ تھیں لیکن دادا نے محنت کرکے انہیں اتنا پڑھنا لکھنا سکھادیا تھا کہ وہ گائوں کی خواتین کو قرآن پڑھانے لگی تھیں۔
مفتی معراج نے اپنا ایک واقعہ بتایا کہ قرآن سے تعلق کی بنا پر یہ ہوا کہ جب ابتداء میں انہوں نے مسجد نور میں امامت شروع کی تھی تو وہاں کے ایک مصلی ایڈوکیٹ فیروز خان نے خواہش ظاہر کی تھی کہ وہ اپنی بچیوں کو حفظ کرانا چاہتے ہیں لیکن کوئی حفظ کرانے والا نہیں مل رہا۔ مفتی معراج کے مطابق اس وقت اس علاقہ میں لڑکیوں کو قرآن شریف حفظ کرانے کا کوئی انتظام نہیں تھا اس لئے انہوں نے خود انہیں حفظ کرانا شروع کیا۔ وہ کہتے ہیں ’’یہ بچیاں ذہین تھیں اور انہوں نے قرآن پڑھنے میں دلچسپی لی جس کی وجہ سے ان دونوں نے ۲؍ سال میں قرآن حفظ مکمل کرلیا۔ اللہ ان بچیوں کو جزائے خیر دے ۔حفظ مکمل کرنے کے بعد بچیوں نے اپنے گھر میں محلہ کی لڑکیوں کو بلا کر ان پر محنت شروع کی اور اپنے گھر میں قرآن پڑھانے کا نظام قائم کیا اور پھر ان کے ذریعہ کئی بچیوں نے حفظ کیا۔ اب تو ان بچیوںکی شادی ہوگئی ہیں اور امید کرتا ہوں کہ اپنی سسرال میں بھی دین کی خدمت انجام دے رہی ہوں گی۔‘‘