سڑک سے سپریم کورٹ تک صدائے احتجاج بلند کرنے کا اعلان۔صدر جمہوریہ سے ملاقات کا وقت مانگا گیا ،مسلم علاقوں میںجمعہ کوپولیس کاپہرہ نظرآیا
EPAPER
Updated: April 04, 2025, 11:12 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
سڑک سے سپریم کورٹ تک صدائے احتجاج بلند کرنے کا اعلان۔صدر جمہوریہ سے ملاقات کا وقت مانگا گیا ،مسلم علاقوں میںجمعہ کوپولیس کاپہرہ نظرآیا
وقف بل پاس ہونے پر مسلمانوں میں شدید ناراضگی پائی جارہی ہے۔اس تعلق سےشہر ومضافات کی بیشتر مساجد میں دعائیںکی گئیں اور ائمہ مساجد نے وقف کی اہمیت پر روشنی بھی ڈالی۔ مسلم علاقوں میںاورخاص طور پر حسّاس سمجھے جانے والے علاقوں میں مساجد کے قریب جمعہ کوپولیس کا خصوصی پہرہ نظر آیا۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ کہیں وقف بل پاس کرانے کےخلاف مسلمان احتجا ج کرنے کے لئے سڑکوں پرنہ اترآئیں۔
ائمہ مساجد نے بطور خاص یہ بات سمجھائی کہ وقف کی املاک کا حقیقی مالک رب العالمین ہوتا ہے، وقف املاک کی خرید و فروخت نہیں کی جاسکتی۔ جو بل لایا گیا ہے ،وہ مذہبی معاملے میں مداخلت ہے ، حکومت کو اس سے باز رہنا چاہئے تھا مگرایسا نہیں ہوا ۔
سیاہ پٹی باندھ کرسنّی بڑی مسجد مدن پورہ کےصحن میںمصلیان نے اس بل کی مخالفت کی۔ بڑی مسجد کے خطیب وامام مفتی زبیراحمد برکاتی نےکہا کہ’’ حکومت نے وقف بل پاس کرایا ہے مگر ہم سب اس کو مسترد کرتے ہیں۔ اسکے خلاف آئینی، جمہوری اور قانونی طریقے سےاپنی آوازبلند کرتے ہوئے حکومت کو مجبور کرینگے کہ وہ بل واپس لے ۔‘‘ اس موقع پریہاں موجودرضا اکیڈمی کے سربراہ محمد سعید نوری نے کہاکہ ’’جس طرح سے کسانوں کے سیاہ قوانین اور دیگر قوانین حکومت کوواپس لینے پڑے ہیں، اسی طرح ہم بھی حکومت کومجبور کریں گے کہ وہ وقف بل واپس لے۔اس کی وجہ یہ ہےکہ ہم سب روزِ اول سے اس کی مخالفت کررہے ہیں، جان بوجھ کر حکومت نے ہمارے مذہبی معاملے میں مداخلت کی اور یہ بل مسلمانوں پر تھوپا گیا ہے۔‘‘ سنّی جمعیۃ علماء کے صدر مولانا سید معین الدین اشرف عرف معین میاں کی جانب سے صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کو ایک مکتوب لکھ کر ان سے ملاقات کے لئے وقت مانگا گیا ہے تاکہ اس خطرناک بل کے تعلق سے ان سے بات چیت کی جائے اور ان سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ حکومت کو حکم دیںکہ اس بل کو واپس لیا جائے۔‘‘