Inquilab Logo Happiest Places to Work

میانمار میں زلزلہ کے ۵؍ دنوں بعد ملبہ سے نوجوان زندہ نکلا، اسپتال داخل

Updated: April 03, 2025, 10:42 AM IST | Yangon

مہلوکین کی تعداد ۳؍ ہزار سے تجاوز کرگئی، ملبہ سے لاشوں  کے نکلنے کا سلسلہ دراز، فوجی حکومت نے باغیوں   سے جنگ بندی کا اعلان کیا۔

A 26-year-old man was pulled alive from the rubble after 5 days. Photo: INN.
۲۶؍ سالہ نوجوان جسے ۵؍دنوں  کے بعد ملبہ سے زندہ نکالا گیا۔ تصویر: آئی این این۔

میانمار میں جمعہ کو آنے والے تباہ کن زلزلہ کے ۵؍ دن بعد بدھ کو بچاؤ کارکنوں   نے ملبے سے ایک ۲۶؍ سالہ نوجوان کو زندہ نکالنے میں  کامیابی حاصل کی ہے۔ اس کامیابی کے بعدعمارتوں  کے ملبہ میں  زندگیوں  کی تلاش کیلئے کارکنوں  کا جوش بڑھ گیا ہے جبکہ فوجی حکومت پر باغیوں   کے ساتھ جنگ بندی اور ساری توجہ بچاؤ کام پر مرکوز کرنے کا دباؤ ہے۔ اس کو قبول کرتے ہوئے فوج نے بدھ سے باغیوں  کے خلاف کارروائیاں   روکنے کافیصلہ کیا ہے۔ 
میانمار میں ۵؍ دنوں  سے جاری بچاؤ کام کے دوران جب کسی کے زندہ بچنے کی امید معدوم ہورہی تھی تبھی ملک کے دارالحکومت نیپیداو کے ایک ہوٹل میں بچاؤکام میں  مصروف میانمار اور ترکی کی مشترکہ ٹیم کے کارکن اس وقت خوشی سے چیخ اٹھے جب انہوں  نے ملبہ سے ایک ۲۶؍ سالہ نوجوان کو زندہ نکالنے میں  کامیابی حاصل کی۔ دھول مٹی سے اٹے ہوئے اس نوجوان کو جو غنودگی کے عالم میں  تھا، ملبے میں   موجود خلاء میں  سراخ کرکے نکالاگیا۔ 
اس بیچ بدھ کو خبر رساں  ایجنسی ’اے پی ‘ نے اطلاع دی ہے کہ زلزلہ میں  فوت ہونےوالوں  کی تعداد ۳؍ ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔ البتہ جب یہ خبر لکھی جارہی ہے، حکومت کی جانب سے ۲۸۸۶؍ ہلاکتوں  کی تصدیق کی گئی ہے۔ دراصل یہ ان مہلوکین کی تعداد ہے جن کی لاشیں مل چکی ہے۔ یاد رہے کہ جمعہ کو میانمار میں آنےوالے زلزلہ کی شدت ۷ء۷؍ تھی جو ملک کا اس صدی کا سب سے تباہ کن زلزلہ ثابت ہوا ہے۔ اس سے قبل زلزکی کے مرکز کے قریب منڈالے شہر میں ریسکیو عملے نے ایک خاتون کو اپنے اپارٹمنٹ بلاک کے ملبے سے زندہ نکالا، جہاں وہ۲۴؍گھنٹے سے زائد عرصے تک پھنسی رہی۔ زلزلے کے مرکز سے تقریباً ایک ہزار کلومیٹر دور پڑوسی ملک تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں کم از کم۱۱؍ اموات کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ زلزلے سے میانمار کے مختلف علاقوں میں کثیرمنزلہ عمارتیں، پل اور سڑکیں تباہ ہو کر ملبے کا ڈھیر بن گئی ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK