• Fri, 28 February, 2025
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نائل برغوتی: دنیا کے سب سے طویل عرصے تک قید سیاسی قیدی اسرائیلی جیل سے رہا

Updated: February 27, 2025, 10:04 PM IST | Jerusalem

نائل برغوتی کو ۲۰؍ سال کی عمر میں اسرائیلی فورسیز نے گرفتار کیا تھا۔ مسلسل ۳۴؍ سال تک جیل میں ہرنے کے بعد انہیں ۲۰۱۱ء میں رہا کیا گیا لیکن ۲۰۱۴ء میں دوبارہ گرفتار کرلیا گیا۔ انہیں جیل میں ’’ابو النور‘‘ اور ’’قیدیوں کا سربراہ‘‘ کہا جاتا تھا۔

Nael Barghouti. Photo: INN
نائل برغوتی۔ تصویر: آئی این این

دنیا کے سب سے طویل عرصے تک قید رہنے والے سیاسی قیدی اور فلسطینی نظربندوں کے ’’سربراہ‘‘ (ڈین) کہلائے جانے والے نائل برغوتی نے اپنی زندگی کا تقریباً دو تہائی جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارا ہے، اور اب انہیں اسرائیلی جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔ ۶۷؍ سال برغوتی کو آج اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تحت رہا کیا گیا۔ ۲۰۰۹ء کے گنیز ورلڈ ریکارڈ کے مطابق برغوتی نے ۴۵؍ سال (مسلسل ۳۴؍ سال) اسرائیلی حراست میں گزارے۔ اس طرح وہ دنیا کے سب سے طویل عرصہ تک قید رہنے والے سیاسی قیدی بن گئے۔ برغوتی فلسطینی قیدیوں میں ’’ابو النور‘‘ کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ برغوتی اسرائیلی جیلوں میں سب سے طویل عرصے تک قید فلسطینی قیدی ہیں۔ انہیں حماس نے ۲۰۱۱ء میں گیلاد شالیت قیدیوں کے تبادلے میں رہا کروایا تھا اور وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں راملہ کے قریب اپنے آبائی شہر کوبر میں رہنے کیلئے واپس آئے تھے۔ تاہم، ۲۰۱۴ء میں اسرائیل نے معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انہیں دوبارہ گرفتار کر لیا، اور ان کی سابقہ ​​عمر قید کی سزا بحال کر دی۔

نائل برغوتی کون ہیں؟
برغوتی ۲۳؍ اکتوبر ۱۹۵۷ء کو راملہ کے شمال میں واقع فلسطینی گاؤں کوبر میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان فلسطین پر برطانوی اور اسرائیلی قبضوں کے خلاف تحریکوں میں ہمیشہ پیش پیش رہا ہے۔ ان کے والد کو برطانوی افواج نے حراست میں لیا تھا اور ان کے چچا ۱۹۳۶ء میں عظیم عرب بغاوت کے دوران فوت ہوگئے تھے۔ برغوتی کی اسرائیلی جارحیت کے خلاف تحریک ۱۰؍ سال کی عمر (۱۹۶۷ء) ہی میں شروع ہوگئی تھی۔ انہیں پہلی بار دسمبر ۱۹۷۷ء میں گرفتار کیا گیا اور ۳؍ ماہ کی جیل ہوئی۔ رہائی کے چند ماہ بعد، جب وہ اپنے ہائی اسکول کے امتحانات کی تیاری کررہے تھے تو انہیں اسرائیلی فورسیز نے گرفتار کر لیا اور ۳۴؍ سال تک جیل میں رکھا۔ انہیں ایک اسرائیلی افسر کو قتل کرنے کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: استنبول: آمد رمضان سے قبل تمام تاریخی مساجد پرصدیوں پرانی المحیا بتیاں روشن

قیدیوں کا سربراہ (ڈین)
جیل میں برغوتی نے دوسرے قیدیوں کے درمیان اپنی علاحدہ شناخت بنالی۔ انہوں نے سلاخوں کے پیچھے عبرانی اور انگریزی سیکھی۔ ان کے تجربات اور مقبولیت کی وجہ سے انہیں ’’قیدیوں کا سربراہ‘‘ قرار دیا گیا۔ وہ جیل ہی میں تھے جب ان کے والدین کا انتقال ہوگیا۔

۱۸؍ اکتوبر ۲۰۱۱ء کو انہیں گیلاد شالیت قیدیوں کے تبادلے کے ایک حصے کے طور پر رہا کیا گیا۔ برغوتی نے القدس اوپن یونیورسٹی میں تاریخ کا مطالعہ کیا۔ رہائی کے ایک ماہ بعد انہوں نے نکاح کیا۔ ۱۸؍ جون ۲۰۱۴ء کو انہیں اسرائیلی فورسیز نے ایک کریک ڈاؤن کے دوران گرفتار کیا۔ انہیں ۳۰؍ ماہ قید کی سزا سنائی گئی لیکن وہ اپنے مقررہ وقت سے زیادہ اسرائیلی حراست میں رہے۔کچھ عرصہ بعد اسرائیلی حکام نے ایک ’’خفیہ فائل‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے، ان کی ​​عمر قید کی سابقہ سزا کو بحال کر دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وہ رہائی کے بعد آج مصر پہنچے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK