فساد کے الزام میں گرفتار افراد کی پیشی کے سبب منگل کو رات ۳؍بجے تک کورٹ کی کارروائی جاری رہی۔ ملزمین کی شناخت کیلئے ۲۰۰؍ سی سی ٹی وی کیمروں کی جانچ کی جارہی ہے۔
EPAPER
Updated: March 20, 2025, 9:58 AM IST | Ali Imran | Nagpur
فساد کے الزام میں گرفتار افراد کی پیشی کے سبب منگل کو رات ۳؍بجے تک کورٹ کی کارروائی جاری رہی۔ ملزمین کی شناخت کیلئے ۲۰۰؍ سی سی ٹی وی کیمروں کی جانچ کی جارہی ہے۔
پیر ۱۷؍ مارچ کو پھوٹ پڑنے والےفرقہ وارانہ تشدد کے بعد شہر میں مکمل امن و امان ہے اور پولیس نے سخت انتظامات کرتے ہوئے حالات پر مکمل قابو پالیا ہے۔ تشدد کے دوران آتش زنی اور پتھراؤ اور فساد برپا کرنے کے معاملے میں درج ایف آئی آر نمبر ۱۱۵؍ میں نامزد ۵۱؍ افراد میں سے فہیم خان شمیم خان نامی ایک شخص کو پولیس نے گرفتار کیا ہے۔ پولیس نے فہیم پر فساد کا ماسٹر مائنڈ ہونے کا الزام لگایا ہے۔ بتادیں کہ فہیم خان مائناریٹی ڈیموکریٹک پارٹی کے شہر صدر ہیں اور ۲۰۲۴ء کے پارلیمانی انتخاب میں فہیم خان نے ناگپور حلقہ سے انتخاب لڑا تھا۔ تاہم، وہ یہ انتخاب بی جے پی لیڈر اور مرکزی وزیر نتن گڈکری کے خلاف۶ء۵؍ لاکھ سے زیادہ ووٹوں کے بڑے فرق سے ہار گئے تھے۔ ۳۸؍ سالہ فہیم ناگپور کے یوشدھرا نگر کے سنجے باغ کالونی کے رہنے والے ہیں۔ پولیس نے فہیم خان کو حراست میں لے کر کورٹ میں پیش کیا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ایف آئی آر میں کہیں بھی یہ درج نہیں ہے کہ علاقے میں جو بھیڑ جمع ہوئی تھی، اور اسکے بعد جو تشدد پھوٹ پڑا تھا اسکے پیچھے فہیم خان کس طرح ملوث ہیں۔ جبکہ کورٹ میں پولیس نے فہیم خان کو بھیڑ کو جمع کرکے اور تشدد بھڑکانے کا ملزم بتایا ہے۔
’’میں شکایت درج کرانے کیلئے گیا تھا لیکن پولیس نے مجھے ہی ملزم بنا دیا‘‘
ملزم فہیم خان کے وکیل آصف قریشی نے بتایا کہ کورٹ میں پیشی کے دوران خود فہیم خان نے کورٹ کو بتایا کہ’’ چادر پر لکھی قرآنی آیات کی مبینہ بے حرمتی کے خلاف شکایت درج کروانے کے لئے میں خود پولیس تھانے پہنچا تھا لیکن پولیس نے مجھے ہی ملزم بنا دیا ہے۔ ‘‘ اس بات کی اب تصدیق ہوئی ہے کہ فہیم خان کی شکایت پر پولیس نے وشوہندو پریشد اور بجرنگ دل کے ۸؍ عہدیداروں اور کارکنوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔
۵۱؍ ملزمین میں سے۲۷؍کی جوڈیشل مجسٹریٹ فرسٹ کلاس کورٹ میں پیشی
ناگپور تشدد کیس میں پولیس نے مشتبہ ملزمین کو گرفتار کر کے پولیس کسٹڈی حاصل کرنے کے لیے عدالت میں پیش کیا۔ منگل کو عدالتی کارروائی رات ۳؍بجے تک جاری رہی۔ ایسا ناگپور کی عدلیہ کی تاریخ میں پہلی بار دیکھنے کو ملا ہے کہ رات تقریباً ۳؍بجے تک فرسٹ کلاس مجسٹریٹ سلطانہ میمونہ کی عدالت میں سماعت جاری رہی۔ حاصل کردہ اطلاعات کے مطابق گنیش پیٹھ پولیس نے منگل کو محل علاقے میں فساد برپا کرنے کے الزام میں ۵۱؍میں سے ۲۷؍ملزمین کو جوڈیشل مجسٹریٹ فرسٹ کلاس کورٹ کے سامنے پیش کیا۔ اس سماعت کے لیے سیکوریٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے۔ اس دوران استغاثہ نے ملزمین سے جَرح کی ہے۔ دفاعی وکیل نے الزام لگایا ہے کہ بہت سے ملزمین کا فسادات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
’’تشدد مقامی نہیں بلکہ باہر سے آئے لوگوں نے کیا ‘‘
وکیل دفاع رفیق اکبانی اور دیگر وکلاء نے بتایا کہ پولیس نے حراست مین کچھ ملزمین کو بری طرح مارا پیٹا جس کی وجہ سے وہ شدید زخمی ہوئے ہیں۔ سرکاری وکیل میگھا بورنگے نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ملزم کو پولیس کی تحویل کی ضرورت ہے۔ آخر کار عدالت نے ۲۷؍ میں سے ۴؍ ملزمین کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا جبکہ باقی ملزمین میں سے کچھ کو علاج کیلئے سرکاری اسپتال اور کچھ ملزمین کو ۱۴؍ دنوں کیلئے پولیس کی تحویل میں بھیجا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ناگپور شہر کے ۳۵ ؍سے زائد معروف وکلاء کی ٹیم ایف آئی آر میں نامزد کیے گئے نوجوانوں کی عدالت میں پیروی کررہی ہے۔
حساس مقامات پر سیکوریٹی بڑھائی گئی
دریں اثنا، پیر کو محل علاقے میں پھوٹ پڑے فسادات کے بعد محل، مومن پورہ کے علاوہ شہر کے گیارہ انتہائی حساس اور دیگر ۱۹؍ مقامات پر پولیس کی ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔ علاقے میں ۲۴؍ گھنٹے مسلح پولیس گشت کر رہی ہے۔ گلیوں میں سنّاٹا ہے اور پولیس فسادیوں کو گرفتار کر رہی ہے۔ ناگپور پولیس نے تشدد کے سلسلے میں پانچ ایف آئی آر درج کی ہیں۔ جس میں ۵۱؍ نامزد اور پانچ سے ۶۰۰؍ نامعلوم افراد کو ملزم بنایا گیا ہے، جن میں نابالغ بھی شامل ہیں۔
پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج اور سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیو کی بنیاد پر کئی مشتبہ ملزمین کو گرفتار کیا ہے۔ اب تک کوتوالی، گنیش پیٹھ اور تحصیل پولیس تھانوں میں کل ۱۲۵۰؍ مشتبہ ملزمین کے خلاف کیس درج کیے گئے ہیں۔ ان میں سے پولیس ۲۰۰؍ ملزمین کی شناخت کرنے میں کامیاب رہی اور ان میں سے ۶۰؍کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ نامزد ملزمین سے پوچھ تاچھ کی جا رہی ہے۔ پولیس فساد زدہ علاقے کے تقریباً ۱۰۰ سی سی ٹی وی کیمروں کے فوٹیج چیک کررہی ہے۔ پولیس نے وہاں دیکھے گئے مشتبہ افراد کے بارے میں معلومات اکٹھی کی ہے۔ اب تک ۶۰؍ ملزمین کو حراست میں لیا ہے جن میں کم عمر بچے اور وہ افراد بھی شامل ہیں جو کشیدگی کے وقت اپنے گھر لوٹ رہے تھے۔
وی ایچ پی کے ۸؍کارکنان ضمانت پر رہا
وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کے احتجاج میں اورنگ زیب کی علامتی قبر پر سبز چادر چڑھا کر جلانے کی وجہ سے ہنگامہ برپا ہوا اور یہ معاملہ فساد کی صورت اختیار کرگیا۔ اس معاملے میں گنیش پیٹھ پولیس نے وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل عہدیداروں کے خلاف کیس درج کیا تھا۔ وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کے ۸؍ کارکنوں نے بدھ ۱۹؍ مارچ کو شام چار بجے کوتوالی پولیس اسٹیشن میں خودسپردگی کی۔ پولیس انہیں حراست میں لے کر عدالت میں پیش کیا۔ جہاں عدالت سے انہیں ضمانت پر رہا کردیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کی جانب سے راہول پرمود نارنورے (منتظم) نے محل میں گاندھی گیٹ کے سامنے چھترپتی شیواجی مہاراج کے یوم پیدائش پر پروگرام منعقد کرنے کی پیشگی اجازت لی تھی۔
ہندتواوادی تنظیموں کیخلاف کارروائی کیلئے ایم آئی ایم نے میمورنڈم دیا
بتادیں کہ اورنگ زیب کی قبر کو ہٹانے کیلئے احتجاج کرنے والی ہندو تنظیموں کے خلاف پولیس نے جو ایف آئی آر درج کی ہے اس میں صرف بجرنگ دل اور وشوہندو پریشد کے۸؍ افراد کو ہی نامزد کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ناگپور ایم آئی ایم اکائی کے صدر شکیل پٹیل نے ڈویژنل کمشنر سے ملاقات کی اور انہیں میمورنڈم دے کر مطالبہ کیا کہ جس اشتعال انگیز احتجاج کے سبب تشدد پھوٹ پڑا اسکے خاطیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ اس ضمن میں ڈپٹی پولیس کمشنر زون ۳ ؍ اورہندوتواوادی تنظیم کے امول ٹھاکرے، شیلیش بانڈے اور کمل ہریانوی اور ۲۰۰؍ سے زائد افراد پر ایف آئی آر درج کی جائے۔