امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا نیا دور

Updated: November 25, 2021, 8:46 AM IST | Washington

آئندہ ہفتے دوحہ میں ہونے والی ملاقات کے دوران داعش پر قدغن، افغانستان میں جاری معاشی بحران اور غیر ملکیوں کا محفوظ انخلا گفتگو کا اہم موضوع ہوں گے۔ طالبان کی جانب سے منجمد اثاثوں کو ریلیز کرنے کا معاملہ اٹھایا جائے گا

Many Taliban leaders are currently in Doha (file photo)
طالبان کے کئی لیڈران اس وقت دوحہ ہی میں ہیں( فائل فوٹو)

۳؍ سال مسلسل مذاکرات کرنے کے بعدافغانستان سے اپنی فوج واپس بلانے والے امریکہ اور افغانستان کے اقتدار میں لوٹنے والے طالبان کے درمیان ایک بار پھر مذاکرات کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔ اب کی بار  یہ ملاقاتیں جنگ اور امن کے تعلق سے نہیں بلکہ افغانستان میں جاری معاشی اور دفاعی صورتحال پر گفتگو کیلئے کی جا رہی ہیں۔ 
  امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے  آئندہ ہفتے سے شروع ہونے والے ان مذاکرات کے تعلق سے اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ گفتگو کا یہ سلسلہ ۲؍ ہفتوں تک جاری رہے گا۔  نیڈ پرائس کے مطابق ان مذاکرات میں افغانستان میں داعش کی سرگرمیوں  پر قدغن لگانے اور  ملک میں جاری معاشی بحران سے نپٹنے کے علاوہ وہاں موجود غیر ملکی باشندوں اور انخلا کے خواہش مند افغان باشندوں کی بحفاظت روانگی کو یقینی بنانے جیسے معاملات پر بات ہوگی۔  یاد رہے کہ یہ مذاکرات  ایسے وقت میں شروع ہو رہے ہیں جب حال ہی میں افغانستان  کے نئے وزیر خارجہ امیراللہ خان متقی نے امریکہ کے نام ایک کھلا خط لکھ کر افغان حکومت کے ۹؍ ارب ڈالر کے اثاثوں کو ریلیز کرنے کا مطالبہ کیا تھا جسے امریکہ نے مسترد کر دیا تھا۔ 
  اطلاع کے مطابق امریکہ کی جانب سے زلمے خلیل زاد کی جگہ پر فائز کئے گئے خصوصی نمائندہ برائے افغان امور ٹام ویسٹ امریکی وفد کی قیادت کریں گے۔  نیڈ پرائس نے کہا  ہےکہ’’ `ہم نے مسلسل کہا ہے کہ ہم طالبان کے ساتھ عملی بنیادوں پر گفتگوکیلئے تیار ہیں۔ بلاشبہ اس امر کو یقینی بنانا کہ افغانستان دوبارہ کبھی بین الاقوامی حملوں کیلئے بطور لانچ پیڈ استعمال نہ ہو، امریکہ کے بنیادی قومی مفاد کا معاملہ ہے۔‘‘امریکی محکمہ خارجہ کی بریفنگ کے دوران ان سے یہ سوال بھی کیا گیا کہ آیا امریکہ کو ان مذاکرات میں کوئی کامیابی حاصل ہوئی جن کے تحت افغانستان میں انسداد دہشت گردی کیلئے  آپریشن میں افغانستان کے ہمسایہ ممالک سے تعاون حاصل ہونا تھا تاہم نیڈ پرائس نے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔ان کا کہنا تھا کہ امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان ٹام ویسٹ دوحہ میں افغان طالبان کے ساتھ ان تمام امور پر بات چیت کریں گے جو امریکہ کیلئے اہم ہیں۔ `افغانستان میں جاری معاشی اور انسانی بحران بھی ان مذاکرات کا ایک اہم حصہ ہو گا۔
 نیڈ پرائس کا کہنا تھا کہ امریکہ افغان باشندوں کی مدد کیلئے ۴۷۴؍ ملین ڈالر کی امداد کا اعلان کر چکا ہے جس کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے کہ زمین پر امداد ضرورت مندوں تک پہنچ سکے جس کیلئے افغانستان کے ہمسایہ ممالک سے بھی رابطہ رکھا جا رہا ہے۔
 واضح رہے کہ ٹام ویسٹ اس سے پہلے پاکستان میں بھی  طالبان لیڈروں سے مذاکرات میں حصہ لے چکے ہیں لیکن اب تک امریکہ کی جانب سے  طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا گیا۔
افغان طالبان امریکہ سے کیا چاہتے ہیں؟
  ادھر افغانستان میں طالبان حکومت کیلئے اس وقت سب سے بڑا چیلنج معاشی بحران ہے۔ اسی لئے طالبان  حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے امریکی کانگریس کو ایک کھلا خط لکھا تھا جس میں افغانستان کے منجمد  اثاثوں کو جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔اس خط میں امیر خان متقی نے تنبیہ کی تھی کہ اگر امریکہ نے ۹؍ ارب ڈالر مالیت کے اثاثے جاری نہیں کئے اور معاشی پابندیاں ختم نہیں کی گئیں تو انسانی بحران شدت اختیار کر سکتا ہے۔ انہوں نے لکھا تھا کہ `ان کی حکومت نے ملک میں سیاسی استحکام پیدا کیا ہے اور امن قائم کیا ہے لیکن بڑھتی ہوئی معاشی مشکلات پہلے سے موجود انسانی بحران میں اضافہ کر رہی ہیں۔اس معاشی بحران کی جڑ امریکہ کی جانب سے ان اثاثوں کو منجمد کرنا ہے جو ہمارے عوام کے ہیں۔ امیر خان متقی کے مطابق موجودہ صورتحال میں طالبان اور افغان عوام کی مشکلات میں اضافہ ہو گا جس کی وجہ سے خطے اور دنیا میں بڑی تعداد میں لوگ نقل مکانی کریں گے۔  یاد رہے کہ امریکہ نے طالبان کے ساتھ معاہدہ تو کیا لیکن اس کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے جس کی وجہ سے انہیں سفارتی مشکلات پیش آ رہی ہیں  جو ان مذاکرات کے دوران دور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ 

taliban Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK