Inquilab Logo Happiest Places to Work

متھرا کی شاہی عیدگاہ میں نماز پر اعتراض، مسلم فریق سپریم کورٹ سے رجوع

Updated: April 04, 2025, 11:32 PM IST | New Delhi

ہندو فریق نے محکمہ آثار قدیمہ کے ماتحت ہونے کا حوالہ دیکرنماز کی مخالفت کی، یہ دلیل بھی دی کہ اس پر پلیس آف ورشپ ایکٹ کا اطلاق نہیں ہوگا

The saffron party is trying to change the face of the Shahi Eidgah Mosque case.
بھگوا فریق شاہی عیدگاہ مسجد کے مقدمہ کے رُخ کو ہی تبدیل کردینے کی کوشش کررہاہے

 متھرا کی شاہی عیدگاہ  کے تنازع  میںنیاموڑ آگیا ہے۔ ہندو فریق جو اس پر کرشن کی جنم بھومی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، نے   الہ آباد ہائی کورٹ میں اب یہ دلیل دی ہے کہ عیدگاہ چونکہ محکمہ آثار قدیمہ کے ماتحت محفوظ عمارتوں میں  شامل ہے ، اس لئےاس میں نماز کی ادائیگی نہیں  ہوسکتی۔اس کے ساتھ ہی  یہ دعویٰ  بھی کیا ہے کہ  محکمہ آثار قدیمہ کے تحت محفوظ ڈھانچہ ہے  ہونے کی وجہ سے شاہی عیدگاہ پر پلیس آف ورشپ ایکٹ کا اطلاق اس پر نہیں ہوتا۔ اس کیلئے اس نے   الہ آباد ہائی کورٹ میں اپنے بنیادی پٹیشن میں تبدیلی کی درخواست کرتے ہوئے محکمہ آثار قدیمہ کو بھی فریق بنانے کی عرضی دی ہے جسے ہائی کورٹ نے قبول بھی کرلیا ہے۔ 
   اس کے خلاف مسلم  فریق  نےجمعہ کو سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ سپریم کورٹ نے  معاملے کو سماعت کیلئے قبول کرلیا ہے۔ چیف جسٹس سنجیو کھنہ اور جسٹس پی وی سنجے کمار  نے ہندو فریق کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’جہاں  تک یہ نکتہ ہے کہ محکمہ آثار قدیمہ کے ماتحت محفوظ    عمارت کو مسجد کے طور پر استعمال کیا جاسکتاہے یا نہیں، تو یہ معاملہ ہمارے سامنے زیر التوا ہے۔ ہم نے کہا ہے کہ اس تعلق سے کوئی عبوری حکم جاری  نہیں کیا جاسکتا ۔‘‘ا س کے ساتھ ہی کورٹ نے کہا کہ ہندو فریق کو پٹیشن میں ترمیم کی اجازت دینے کا الہ آباد ہائی کورٹ کافیصلہ بادی النظر میں مناسب ہے۔ اس کے ساتھ ہی کورٹ نے اس معاملے کی اگلی شنوائی ۸؍ اپریل کو کرنے کافیصلہ کیا ہے۔  ہندو فریق نے الہ آباد ہائی کورٹ میں اپنے دعویٰ میں جو اضافہ کیا ہےاس کے مطابق شاہی عیدگاہ مسجد کو ۱۹۲۰ء میں یونائٹیڈ پرووِنس (موجودہ اتر پردیش) کے لیفٹیننٹ گورنر نے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعہ محکمہ آ ثار قدیمہ کے تحت محفوظ عمارت قرار دیا تھا۔ یہ نوٹیفکیشن  آثار قدیمہ کے تحفظ سے متعلق قانون کے سیکشن  ۳؍  کے تحت جاری کیاگیاتھا اس لئے  ۱۹۹۱ء میں پاس ہونےوالاپلیس آف ورشپ ایکٹ کا اس  پر اطلاق نہیں ہوگااور اس جگہ کو بطور مسجد استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ 
  مسلم فریق نے الہ آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت پٹیشن میں ہندو فریق کے ذریعہ اس تبدیلی  کی اس بنیا د پر مخالفت کی ہے کہ اس سے مسلمانوں  کے ذریعہ دفاعی کے بنیادی مرکز ( پلیس آف ورشپ ایکٹ) کی ہی نفی ہوجاتی ہے۔ مسلم فریق نے  واضح طو رپر اپنی اپیل میں کہا ہے کہ ’’مجوزہ ترمیم سے ظاہر ہے کہ مدعیان اس بات کی کوشش کررہا ہے کہ وہ مدعا علیہ کے ذریعہ اختیار کئے گئے دفاع کے بنیادی نکتہ کو ہی بے معنی کردے اور ایک نیا  ہی کیس تیار کردے۔ مدعیان (ہندو فریق) اپنے  اپنےدعویٰ میں ترمیم اس لئے کر رہے ہیں تاکہ وہ  مدعا علیہ کے اس دفاع سے بچ کر نکل سکیں کہ ان کا دعویٰ  پلیس آف ورشپ ایکٹ کے تحت قابل سماعت ہی نہیں ہے۔ ‘‘

mathura Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK