ناگپور تشدد ،اورنگ زیب ، وقف ترمیمی بل اور منی پور کے مسئلہ پر ہنگامہ آرائی ،بی جے پی نے کرناٹک میں سرکاری ٹھیکوں میں مسلمانوں کور یزرویشن دیئے جانے کی مخالفت کی، اسپیکر اوم برلا نے تحریک التواء کی سنجیدگی کو برقرار رکھنے پر زور دیا
EPAPER
Updated: March 20, 2025, 9:20 AM IST | New Delhi
ناگپور تشدد ،اورنگ زیب ، وقف ترمیمی بل اور منی پور کے مسئلہ پر ہنگامہ آرائی ،بی جے پی نے کرناٹک میں سرکاری ٹھیکوں میں مسلمانوں کور یزرویشن دیئے جانے کی مخالفت کی، اسپیکر اوم برلا نے تحریک التواء کی سنجیدگی کو برقرار رکھنے پر زور دیا
پارلیمنٹ میں بدھ کو ناگپور تشدد،اورنگ زیب، وقف ترمیمی بل اور منی پور کے مسئلہ پر خوب ہنگامہ ہوا۔اپوزیشن لیڈروں نے مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا،جبکہ بی جے پی کے اراکین نے کرناٹک میں سرکاری ٹھیکوں میں مسلمانوں کور یزرویشن دیئے جانے کی مخالفت کی اور ایکٹ کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔دوسری طرف لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے اراکین پر زور دیا کہ وہ صرف سنگین مسائل پر تحریک التواء کا نوٹس دیں اور کہا کہ وہ عام مسائل اور ریاستوں سے متعلق معاملات پر نوٹس دے کر اس کی سنجیدگی کو کم نہ کریں۔
اوم برلا نے وقفہ ٔ سوالات کے بعد کئی اپوزیشن اراکین کے تحریک التواء کے نوٹس کو مسترد کرتے ہوئے اس خیال کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ نوٹس کو ایوان میں آنے سے پہلے میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے اس کی عوامی سطح پر تشہیر نہ کریں ۔ انہوں نے کہا کہ تحریک التواء ایک بہت ہی غیر معمولی شق ہے جو حکومت کی فوری توجہ عوامی اہمیت کے معاملات کی طرف مبذول کرانے کیلئے لائی گئی ہے۔ اس میں شامل معاملہ فوری اور عوامی اہمیت کا ہونا چاہئے۔
بی جے پی کے اراکین پارلیمنٹ نے کرناٹک حکومت کے ذریعہ سرکاری ٹھیکوں میں مسلمانوں کو ۴؍ فیصد ریزرویشن دینے کی مخالفت کی اور مذکورہ ایکٹ کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ وقفہ ٔ صفر کے دوران بی جے پی رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے نے مذکورہ ایکٹ کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ ذات پر مبنی مردم شماری کے مطالبہ کو آگے بڑھاکر اور مذہب کے نام پر سرکاری ٹھیکے دے کر کانگریس ووٹ بینک کی خاطر ملک کو پھر سےتقسیم کرنا چاہتی ہے۔ کرناٹک اور تلنگانہ کی کانگریس حکومتیں اوبی سی کوٹہ کے ریزرویشن میں کٹوتی کرکے مسلمانوں کو دے رہی ہیں۔ دونوں حکومتیں ملک کی ہم آہنگی کو ختم کرنا چاہتی ہیں۔ پارلیمانی امور کے وزیر مملکت ارجن میگھوال نے کہاکہ بی جے پی کا یہ مطالبہ جائز ہے۔وہیں بی جے پی کے رکن تیجسوی سوریہ سرکاری ٹھیکوں میں مسلمانوں کو ریزرویشن دینے والے قانون کے ذریعہ تبدیلیٔ مذہب کو فروغ دینے کا الزام لگا یا۔
ایوان میں شام کو راجیہ سبھا میں وزارت داخلہ پر بحث ہوئی۔وزیر صحت جے پی نڈا نے کہاکہ ٹٹنیس ،پولیو اور ٹی بی کی دوا آنے میں پہلے بیس سال لگتے تھےلیکن مودی کی قیادت میں یہ کام تیز رفتار سے ہورہے ہیں، نو ماہ کے اندر ہم نے کووڈ کے دو ویکسین بناکر دیئے۔انہوںنے کہاکہ طبی مراکز میں ۱۴؍اقسام کی جانچ کی جاتی ہے۔ ہم لوگ اس پر پورا خرچ کرتے ہیں ، جوچاہے جاکر دیکھ لے۔ اس کے علاوہ کئی طرح کی بیماریوں کی جانچ کی جاتی ہے۔ سبھی ضلع اسپتالوں میں ۱۱۱؍طرح کی بیماریوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ ہر سینٹر میں مناسب مقدار میں دوائیں مہیا کرائی گئی ہیں۔ا س دوران وزیر داخلہ پر ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ ساکیت گوکھلے نے طنز کیا جس پر امیت شاہ ناراض ہوگئے اور کہاکہ میں یہاں کسی کی مہربانی سے نہیں آیابلکہ ۷؍ بار جیت کر آیا ہوں، میں کسی سے نہیں ڈرتا ۔ساکیت گوکھلے نے کہا کہ وزارت داخلہ یعنی ہوم منسٹری کا مطلب یہ نہیںہےکہ گھر بیٹھ کر وزارت چلائی جائے۔اس دوران ایوان میں خوب ہنگامہ بھی ہوا۔
بی جے پی کے رکن سدھانشوترویدی نے کہاکہ پہلے ٹرین ، بس وغیرہ میں دھماکے ہوتے تھے ، اب نہیں ہوتے۔ کشمیر میں اب پوری طرح امن ہے ، راہل گاندھی اپنی بہن کے ساتھ وہاں گئے تھے اور وہ برف سے کھیلے تھے لیکن انہوںنے نہیں سوچا کہ یہ حالات کیسے بدل گئے ۔ترویدی نے سی اے اے کی حمایت کی۔