قطب مینارکی زمین پر دعوے کی عرضی خارج

Updated: September 21, 2022, 10:05 AM IST | new Delhi

عرضی گزارکنور مہندر دھوج نے نہ صرف قطب مینار بلکہ نصف دہلی کی زمین پر دعویٰ کیا تھا، عدالت نےمحکمۂ آثار قدیمہ کے دلائل کو قبول کرتے ہوئےاسے خارج کردیا

The claim on the land of Qutb Minar has been dismissed, but the decision on the claim of Hindutva organizations for worship is still pending.
قطب مینار کی زمین پر دعویٰ تو خارج ہو گیا لیکن ہندوتوا تنظیموں کے پوجا کرنے کے دعوے پر فیصلہ باقی ہے

: دہلی ہائی کورٹ نے ملک کی اہم تاریخی  نشانی   قطب مینار کی زمین سمیت   نصف دہلی ،آگرہ ، میرٹھ ،علی گڑھ  ،بلند شہراور گڑگائوں کی زمینوں پردعوے کرنے والی کنور مہندر دھوج کی پٹیشن کو خارج کردیا۔ کنور مہندر نے مداخلت کار  اور مسجد قوت الاسلام  کے معاملے میں تیسرا فریق بننے کی اپیل کی تھی۔ عدالت نے اس معاملے میں ۱۳؍ ستمبر کو فیصلے محفوظ رکھ لیا تھا اور منگل کو  فیصلہ سناتے ہوئے بالکل واضح انداز میں کہا کہ اس پٹیشن میں کوئی میرٹ نہیں ہے اس لئے اسے قانون کے مطابق خارج کیا جاتا ہے۔ 
معاملہ کیا ہے ؟
 واضح رہے کہ کنور مہندر دھوج جو اپنے آپ کو شاہی خاندان کا وارث قرار دیتے  ہیں ،نے دہلی ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کی تھی کہ قطب مینار کی زمین ان کے حوالے کی جائے کیوں کہ یہ زمین اور آدھی دہلی جس میں جنوبی دہلی کا زیادہ حصہ ہے ، آگرہ ، میرٹھ اور اطراف کے شہر ان کے شاہی خاندان کی ملکیت ہیں۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ شاہجہاں کے انتقال کے بعد دہلی اور آگرہ کی مشترکہ سلطنت پر ان کے آباو اجداد راجا روہنی رمن دھوج پرساد سنگھ کی حکومت آگئی تھی اور اس کے ان کے پاس تمام کاغذات موجود ہیں۔ جب ہندوستان آزاد ہوا تو حکومت ہند نے ان  کے خاندان  سے نہ کوئی معاہدہ  اور نہ ان کی ریاست کو باقاعدہ ہندوستانی وفاق میں شامل ہونے کی دعوت دی۔ اسی وجہ سے وہ ریاست اب بھی برقرار ہے اور وہ اس کے موجودہ راجا ہیں۔ اس لحاظ سے قطب مینا ر کی زمین اور اطراف کا علاقہ ان کی ملکیت ہے۔  اس زمین کو ان کے حوالے کیا جائے اس کے بعد وہ غور کریں گے کہ اس کا کیا کرنا ہے۔ اس سے مقدمے میں نیا موڑ آگیا تھا ۔
محکمہ آثار قدیمہ نے کیا کہا ؟
 محکمہ آثار قدیمہ نے کنور مہندر دھوج کی اپیل کی مخالفت کرتے ہوئے اسے فوری طور پر خارج کرنے کا مطالبہ کیا تھا ۔ محکمہ کے مطابق ماضی میں بھی اس طرح کے کئی راجا سامنے آئے ہیں جنہوں نے الگ الگ زمینات پر اپنا حق ہونے کا دعویٰ کیا ہے لیکن ان کا محکمے یا حکومت کے دیگر کسی محکمے میں کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔ محکمہ آثار قدیمہ کے وکیل نے یہ دلیل بھی دی کہ اگر مختلف ریاستوں میں موجود زمین ان کے شاہی خاندان کی ملکیت ہے تو وہ گزشتہ ۱۵۰؍ سال سے کیا کررہے تھے ؟  تب انہوں نے عدالت سے یا حکومت سے رجوع کیوں نہیں کیا ؟  محکمے کے مطابق ایسے معاملات عام طو رپر سستی شہرت حاصل کرنے کے لئے دائر کئے جاتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ انہیں فوری طور پر خارج کیا جائے اورعرضی گزار پر بھاری جرمانہ بھی عائد کیا جائے تاکہ وہ دوبارہ ایسی کوئی حرکت نہ کرے۔ محکمہ آثار قدیمہ کے وکیل نے اپنی دلیل میں سلطانہ بیگم کے کیس کا بھی حوالہ دیا جنہوں نے دہلی کے لال قلعہ پر دعویٰ کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ آخری مغل بادشاہ  کے پڑپوتے کی بیوہ ہیں اس لئے لال قلعہ اور دہلی کی بہت سی زمین ان کے حوالے کی جائے۔ عدالت نے اس پٹیشن کو بھی  خارج کردیا تھا ۔ اسی کی بنیاد پر اب محکمہ آثار قدیمہ نے یہ پٹیشن خارج کرنے کا مطالبہ کیا۔
اس فیصلے کا کیا مطلب ہو گا ؟
 عدالت  میں اس معاملے کی سماعت مکمل ہونے کے بعد ۱۳؍ ستمبر کو فیصلہ محفوظ رکھ لیا گیا تھا جسے منگل کو سنایا گیا اور پٹیشن خارج کردی گئی ۔ یہ فیصلہ تو ہو گیا لیکن اس کی وجہ سے قطب مینار کے احاطے میں واقع مسجد قوت الاسلام                                                                                          کے تعلق سے ہندوتوا وادی تنظیموں کی جانب سے دائر کئے گئے مقدمات پر شنوائی شروع ہونے کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔ ہندوتوا تنظیموں نےدعویٰ کیا ہے کہ قطب مینار کی مسجد کی تعمیر ہندو اور جین مندروں کے باقیات کے اوپر کی گئی ہے اس لئے اس مسجد کو ہٹایا جائے اور وہاں مندروں کو دوبارہ بناکر ہندوئوں اور جینوں کو پوجا کرنے کی اجازت دی جائے۔ اس معاملے میں کورٹ نے مذکورہ بالا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ  اس  معاملے کی شنوائی ۱۹؍ اکتوبر کو ہو گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK