یہ عرضی الہ آبادہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف تھی جس میں مسجد کے بیرونی حصہ پر سفیدپینٹ کرنے کا حکم دیا گیا تھا
EPAPER
Updated: April 02, 2025, 11:34 PM IST | Sambhal
یہ عرضی الہ آبادہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف تھی جس میں مسجد کے بیرونی حصہ پر سفیدپینٹ کرنے کا حکم دیا گیا تھا
سپریم کورٹ نے منگل کو سنبھل جامع مسجد سے متعلق دائر درخواست پر سماعت کرنے سے انکار کر دیا جس میں الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ گزشتہ ماہ ہائی کورٹ نے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کو مسجد کی بیرونی دیواروں کو صاف اور سفید پینٹ کرنے کا حکم دیا تھا ۔ لائیو لا کی رپورٹ کے مطابق ہائی کورٹ کے حکم کے بعد اتر پردیش میں سنبھل شاہی مسجد کے بیرونی حصہ کو سفید رنگ سے رنگنے کا کام ۱۶؍ مارچ کو شروع ہوا تھا ۔ ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے کہا گیا کہ عدالت کی جانب سے یہ حکم دینا غلط ہے۔ یہ معاملہ منگل کو چیف جسٹس سنجیو کھنہ اور جسٹس سنجے کمار کے سامنے رکھا گیا تھا۔
چیف جسٹس سنجیو کھنہ نے ہائی کورٹ کے فیصلے میں مداخلت سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ `ہم اس درخواست پر غور کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں، اس لئے درخواست کو خارج کیا جاتا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ ماہ ہائی کورٹ نے محکمہ آثار قدیمہ کو مسجد انتظامیہ کمیٹی اور اے ایس آئی کے درمیان ۱۹۲۷ء میں کئے گئے معاہدہ کے مطابق مسجد کو پینٹ کرنے کا حکم دیا تھا۔۲۵؍ فروری کو مسلم فریق نے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس میں رمضان سے قبل مسجد کی صفائی اوررنگ وروغن کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ درخواست کی سماعت ۲۷؍ فر وری کو ہوئی اور تین رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کی اور۱۲؍ مارچ کو ہائی کورٹ نے اے ایس آئی کو مسجد کو پینٹ کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے اپنے حکم میں صرف ان حصوں کی پینٹنگ کی ہدایت دی تھی جہاں ضروری تھی، اس کے خلاف ستیش اگروال نے یہ عرضی داخل کی تھی اور کہا تھا کہ اس سے مسجد کی موجودہ حالت متاثرہوگی ۔
۱۲؍ مارچ کو وہائٹ واشنگ کا حکم دیتے ہوئے عدالت نے ایک ہفتے کا وقت دیا تھا۔ عدالت نے محکمۂ آثار قدیمہ سے کہا ہےکہ رنگ روغن کے اخراجات وہ برداشت کرے اور بعد میں مسجد انتظامیہ کمیٹی سے وصول کرے ۔