Inquilab Logo Happiest Places to Work

ووٹر کارڈ تنازع کا دباؤ، منگل کو اعلیٰ سطحی میٹنگ

Updated: March 16, 2025, 9:40 AM IST | Ahmedullah Siddiqui | New Delhi

آدھار کو ووٹر لسٹ سے جوڑ کر اپوزیشن کا منہ بند کرنے کی کوشش، الیکشن کمیشن نے داخلہ سیکریٹری اور آدھار اتھاریٹی کے سربراہ کی میٹنگ طلب کی۔

Maintaining the credibility of the commission among the public has become a major challenge for Chief Election Commissioner Gyanesh Kumar. Photo: INN
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کیلئے عوام میں  کمیشن کے اعتبار کو برقرار رکھنا بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ تصویر: آئی این این۔

ووٹر لسٹ پر اٹھنےوالے سوالات اور ایک ہی نمبر کے الگ الگ ریاستوں  میں  کئی کئی شناختی کارڈ کا معاملہ اٹھنے کے بعد الیکشن کمیشن کووقار کے تحفظ کامسئلہ درپیش ہے۔ یہ تاثر دینےکیلئے کہ ووٹرلسٹ میں  کسی طرح  کی کوئی ہیرا پھیری نہیں  ہے، چیف الیکشن کمشنر نے انتخابی فہرست کو آدھار کارڈ سے جوڑنے کے مشن پر کام تیز کرنے کااشارہ دیا ہے۔ اس کیلئے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے ۱۸؍ مارچ کو داخلہ سکریٹری، قانون سازی محکمہ کے سکریٹری اور آدھار کے سی ای او کی میٹنگ طلب کرلی ہے۔ 
ٹی ایم سی نے اسے اپنی کامیابی قرار دیا
واضح رہے کہ انتخابی فہرست میں  دھاندلی اوراس کے سہارے بی جےپی کی راہ ہموار کرنے کا شبہ سب سے پہلے راہل گاندھی نے اٹھایا تھا۔ حال ہی میں  ٹی ایم سی نےا س معاملے کو پوری شدت سے اٹھایا اور انکشاف کیا کہ الیکشن کمیشن کی تیار کردہ مختلف ریاستوں  کی ووٹرلسٹ میں  ایک ہی نمبر کے کئی کئی ووٹر کارڈ ہیں۔ ٹی ایم سی کا الزام ہے کہ آئندہ سال اسمبلی الیکشن سے قبل مغربی بنگال میں گجرات، ہریانہ اور بی جےپی کے اقتدار والی دیگر ریاستوں  کے رائے دہندگان کو مغربی بنگال کی انتخابی فہرست میں  شامل کرکے بی جےپی فتح حاصل کرنے کی سازش رچ رہی ہے۔ ٹی ایم سی کے اس معاملے کے پوری شدت اور دلائل کے ساتھ اٹھانے کی وجہ سے پہلے الیکشن کمیشن نے زبانی صفائی پیش کی اوراب اعلیٰ سطحی میٹنگ طلب کرلی گئی ہے۔ ممتا بنرجی کی پارٹی نےا سے اپنی بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ 
تمام پارٹیوں سے تجاویز طلب
دوسری طرف الیکشن کمیشن آف انڈیا نے تمام قومی اور ریاستی سیاسی جماعتوں سے ۳۰؍ اپریل تک تجاویز طلب کی ہیں تاکہ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسرز(ای آر او)، ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسرز (ڈی ای او) یا چیف الیکٹورل آفیسرز(سی ای او)کی سطح پر حل نہ ہونے والے انتخابی مسائل کو حل کیا جا سکے۔ اس سے پہلے الیکشن کمیشن نے مغربی بنگال میں  ڈپلیکیٹ ووٹر ز کارڈ کی غلطی تسلیم کرتے ہوئے اس کو ایک پرانا مسئلہ قراریا تھا، تاہم کمیشن کا دعویٰ تھا کہ ڈپلیکیٹ ووٹرز آئی کارڈ کا مطلب فرضی ووٹرز نہیں، لیکن اس نے اس مسئلہ کو اٹھانے والی ترنمول کانگریس کو یقین دہانی کرائی تھی کہ ایک جیسے ای پی آئی سی نمبر کے مسئلہ کو تین ماہ کے اندر حل کرلیا جائے گا۔ 
معاملہ پارلیمنٹ میں بھی گونجا
ووٹر لسٹ میں ہیرا پھیری کا معاملہ پارلیمنٹ میں  بھی پہنچ چکا ہےجہاں  اپوزیشن اس پر بحث کا پرزور مطالبہ کررہی ہے۔ گزشتہ دنوں راہل گاندھی نےووٹر لسٹ پر تفصیلی بحث کا مطالبہ کرتے ہوئے مہاراشٹر کی ووٹر لسٹ میں بے ضابطگیوں کا معاملہ بھی اٹھایاتھا۔ انہوں نے کہا کہ تھا کہ ہم نے الیکشن کمیشن سے شفافیت کے حوالے سے جو مطالبات کیے تھے وہ ابھی تک پورے نہیں ہوئے۔ سوالات آج بھی وہی ہیں۔ اب ووٹر لسٹ میں ڈپلیکیٹ ناموں کے نئے شواہد سامنے آئے ہیں جس سے اور بھی نئے اور سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔ جمہوریت اور آئین کی اقدار کے تحفظ کیلئے اس پر بحث کراناضروری ہے۔ ٹی ایم سی ایم پی سوگتا رائے نے مغربی بنگال اور ہریانہ میں ایک جیسے ووٹرلسٹ کو ایک سنگین خامی قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ الیکشن کمیشن ووٹر لسٹ کی مکمل نظر ثانی کرے۔ سنجے سنگھ اور دیگر نے بھی پر زور آواز بلند کی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK