دہلی، مغربی بنگال، گجرات، بہار، جھارکھنڈ، تمل ناڈو، تلنگانہ، کرناٹک،آسام اور منی پور میں مظاہرے، قومی راجدھانی میں پولیس کا فلیگ مارچ، یو پی کے تمام اضلاع میں پولیس ہائی الرٹ، ڈرون سے نگرانی
EPAPER
Updated: April 04, 2025, 11:30 PM IST | Mumbai
دہلی، مغربی بنگال، گجرات، بہار، جھارکھنڈ، تمل ناڈو، تلنگانہ، کرناٹک،آسام اور منی پور میں مظاہرے، قومی راجدھانی میں پولیس کا فلیگ مارچ، یو پی کے تمام اضلاع میں پولیس ہائی الرٹ، ڈرون سے نگرانی
وقف ترمیمی بل کے خلاف تمام دلائل کو مسترد کرتے ہوئے، مسلمانوں کے اعتراضات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اور اپوزیشن کے مشوروں کو نظر انداز کرتے ہوئے لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں آناً فاناً وقف ترمیمی بل کی منظوری پر مسلمانوں میں شدید غم وغصہ پھیل گیا ہے۔ مسلم نوجوانوں نے اس بل کی منظوری کے خلاف جمعہ کو ملک کی کم از کم ۱۰؍ ریاستوں احتجاج کیا جبکہ خود کو سیکولر کہنے اور مسلمانوں کے ووٹوں پر دعویٰ پیش کرنے والے لیڈروں نتیش کمار،چندرا بابو نائیڈو، جینت چودھری، چراغ پاسوان اور اجیت پوار پر سخت برہمی کااظہار کیا جنہوں نے بی جےپی کے ساتھ اس بل کی حمایت میں ووٹنگ کی اور جن کی حمایت کے بغیر مودی حکومت یہ بل منظور نہیں کروا سکتی تھی۔
نتیش اور نائیڈو پر سخت برہمی
نتیش کمار اور چندرا بابو نائیڈو کے خلاف برہمی سب سےزیادہ نظر آئی۔ معروف سماجی کارکن اور حقوق انسانی کے علمبردار اپوروانند نے خود کو سیکولر باور کرانے والے مذکورہ لیڈروں کو نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ’’جے ڈی یو، ٹی ڈی پی اور ایل جے پی نے اپنے مسلم ووٹروں کی پیٹھ پر نہیں سینے پر چھرا گھوپنا ہے۔‘‘ڈی ایم کے ترجمان سروانند انّا دُرئی نے کہا کہ ’’چندرا بابو نائیڈو اور نتیش کمار وقف بل کے تعلق سے کیا جواز پیش کریں گے؟ تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔‘‘ معروف صحافی ر وہنی سنگھ نے چندرا بابو نائیڈو کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’ٹی ڈی پی کے ایم پی اقلیتوں کی فلاح و بہبود کیلئے پابند عہد ہونے کا کتنا ہی دعویٰ کریں، وقف بل کی حمایت کرکے پارٹی نے مسلمانوں کو ہمیشہ کیلئے خود سے دور کرلیا ہے۔ نائیڈو کو چاہئے کہ اب وہ صرف (تروپتی مندر) کے لڈوؤں پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں۔‘‘
جامعہ ملیہ کے طلبہ کا احتجاج
نئی دہلی میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے باہر طلبہ نے وقف ترمیمی بل کے خلاف احتجاج درج کیا اور حکومت سے اس کالے قانون کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئیسا)،مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن(ایم ایس ایف) سمیت دیگر طلبہ تنظیموں کی قیادت میں طلبہ جامعہ کے گیٹ نمبر۷؍ کے باہر جمع ہوگئے اور اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا کر حکومت کے خلاف نعرہ بازی کرنے لگے اور علامتی مزاحمت کے طور پر وقف ترمیمی بل کو نذر آتش بھی کیا گیا۔ اس دوران جامعہ کے باہر پولیس اور پیرا ملٹری فورس کا دستہ بھی تعینات تھا، حالانکہ کسی طالب علم کو حراست میں لینے کی کوئی خبر نہیں ملی ہے۔دوران احتجاج مظاہرین نے وقف ترمیمی بل کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف اپنی تحریک کو مزید مضبوط کرنے کے عزم ظاہر کیا۔
کئی ریاستوں میں احتجاج
جمعہ کو نماز کےبعد جن ریاستوں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے ان میںمہاراشٹر،مغربی بنگال، گجرات، آسام،منی پور،تلنگانہ، تمل ناڈو، بہار، جھارکھنڈ اور کرناٹک شامل ہیں۔ منی پور جو پہلے ہی تشددکی زد پر ہے، کے مسلمانوں نے وقف ترمیمی بل کے خلاف امپھال ضلع میں اکٹھا ہوکر مظاہرہ کیا۔ مغربی امپھال میں واقع وسنتھیل عیدگاہ میں کم وبیش ۲۰۰؍ مظاہرین نے مرکزی حکومت کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی۔ اطلاعات کے مطابق اسی طرح کے مظاہرے مشرقی امپھال میں بھی منعقد کئے گئے۔
اُتر پردیش میں مظاہروںکو روکنے کیلئے تمام ۷۵؍ اضلاع میں پولیس کو الرٹ کردیا گیا ہے اور جگہ جگہ فلیگ مارچ کیا گیا۔ اس کے علاوہ یہاں درگاؤں اور مساجد کی گزشتہ ہفتہ کی طرح ڈرون سے نگرانی کی گئی۔
گجرات میں سیکڑوں مسلمانوں نے سڑکوں پر اتر کر وقف بل کے خلاف احتجاج کیا۔اس دوران پولیس نے ۵۰؍ مظاہرین کو حراست میں لیا۔ جنہیں حراست میں لیا گیا ان میں خواتین بھی شامل ہیں۔ مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکاتا میں پارک سرکس کراسنگ پر احتجاج میں ہزاروں افراد نے شرکت کی اور وقف بل کو منسوخ کرو کے نعرے لگائے۔ رانچی میں بڑی تعداد میں مسلمانوں نے مودی سرکار کے بل کی مخالفت میں احتجاج کیا۔ آسام ، کرناٹک اور تلنگانہ میں احتجاج میں خواتین بھی پیش پیش رہیں۔