الزام ہے کہ دینا ناتھ منگیشکر اسپتال نے خاتون کے علاج کیلئے ۱۰؍لاکھ روپے جمع نہ کرانے پر اسے ایڈمٹ نہیں کیاتھا، دوسرے اسپتال میں زچگی ہوئی اورخاتون نے دم توڑدیا،اسپتال کے باہراہل خانہ ورشتہ داروں کے ساتھ سیاسی کارکنان کاشدید مظاہرہ
EPAPER
Updated: April 04, 2025, 10:58 PM IST | Pune
الزام ہے کہ دینا ناتھ منگیشکر اسپتال نے خاتون کے علاج کیلئے ۱۰؍لاکھ روپے جمع نہ کرانے پر اسے ایڈمٹ نہیں کیاتھا، دوسرے اسپتال میں زچگی ہوئی اورخاتون نے دم توڑدیا،اسپتال کے باہراہل خانہ ورشتہ داروں کے ساتھ سیاسی کارکنان کاشدید مظاہرہ
یہاں ایک حاملہ خاتون کے علاج سے انکار کےمبینہ معاملے پر دینا ناتھ منگیشکر اسپتال انتظامیہ کے خلاف شدید ناراضگی کاماحول ہے۔ اس معاملے میں جمعرات اور جمعہ کو شیوسینا کے دونوں گروپوں اور کانگریس این سی پی کے کارکنان نے اسپتال کے باہر زبردست احتجاج کیا۔ الزا م ہے کہ دینا ناتھ منگیشکر اسپتال میں ایک حاملہ خاتون کو مطلوبہ فیس نہ جمع کرانے پر داخل کرنے سے منع کردیا گیا تھا۔ اہل خانہ ،مریضہ کو لے کردوسرے اسپتال گئے جہاں خاتون کی ’سی سیکشن ‘ کے ذریعہ زچگی ہوئی لیکن طبی پیچیدگیوں کے سبب اس نے دم توڑدیا۔ اس معاملے میں پونے کے ڈی ایم جتندر ڈوڈی نے کہا کہ ہم اس افسوسناک معاملے کی جانچ کررہے ہیں۔
معاملہ کیا ہے؟
اے بی پی ماجھا کی رپورٹ کے مطابق تنشیا بھِسے نامی حاملہ خاتون کومارچ کے آخری ہفتے میں دینا ناتھ منگیشکر اسپتال لایا گیاتھا۔ خاتون ۷؍ماہ کے حمل سے تھی اور شدید درد سے اس کا حال برا تھا۔ اہل خانہ کا الزا م ہے کہ اسپتال میں موجود ڈاکٹر نے بتایا کہ معاملہ نازک ہوگیا ہے۔ علاج کا خرچ تقریباً ۱۰؍لاکھ روپے تک ہوگا ۔ اہل خانہ نے ڈیڑھ لاکھ روپے جمع کرانے پر آمادگی ظاہر کی ۔ تاہم انتظامیہ نے پوری رقم جمع کرانے پر اسپتال داخل کرنے کی بات کہی۔جب منت سماجت کے باوجود کام نہ بناتو اہل خانہ مجبوراً خاتون کو لے کر واکڑ میں واقع دوسرے اسپتال لے گئے۔جہاں خاتون نے’سی سیکشن‘ ڈلیوری کے ذریعہ جڑواں بچوں کو جنم دیا۔ اس دوران طبی پیچیدگیوں کے سبب اس نے دم توڑدیا۔اس طرح کی شکایت بی جے پی کے ایم ایل سی امیت گورکھے نے پولیس میںدرج کرائی ہے۔بتایا جارہا ہے کہ متوفی ،گورکھے کے پرسنل اسسٹنٹ کی بیوی تھیں۔ اس معاملے کے خلاف سیاسی پارٹیوں نے بھی شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق این سی پی ، کانگریس، شیوسینا (یوبی ٹی) اور شیوسینا (شندے) کے کارکنان نے دینا ناتھ منگیشکر اسپتال انتظامیہ کے خلاف مظاہرہ شروع کردیا ہے۔ علاج کے لئے پیسوں کو اولیت دینے کےمبینہ رویہ سے ناراض مظاہرین نے اسپتال کے ڈاکٹروں پر ریزگاری پھینکی اور جم کر نعرے بازی کی۔ اتنا ہی نہیں اسپتال کے بورڈ پر کالک بھی پوت دی گئی۔
اسپتال انتظامیہ نے کیا کہا؟
دیناناتھ منگیشکر اسپتال کے رابطہ عامہ کے ذمہ دار روی پالیکر نے کہا کہ اس معاملے کی مکمل جانچ کی جائے گی اور رپورٹ حکومت کو سونپی جائے گی۔ اسپتال انتظامیہ نے الزامات کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ خاتون کو پیشگی رقم کی عدم ادائیگی پر داخلے سے انکار نہیں کیا گیا تھا۔ اسپتال کے مطابق، خاتون کا حمل ہائی رسک کیٹیگری میں تھا، اور جڑواں بچوں سمیت نوزائیدہ انتہائی نگہداشت یونٹ (این آئی سی یو) میں طویل علاج کی ضرورت تھی، جس پر۱۰؍ سے۲۰؍ لاکھ روپے خرچ متوقع تھا۔ فنڈز کی کمی کے باعث خاندان کو سسون جنرل اسپتال سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔
جانچ اور آڈٹ کیلئے کمیٹی تشکیل دی گئی
سکال کی رپورٹ کے مطابق اس معاملے میں شکایت موصول ہونے پر محکمہ صحت نے دیناناتھ منگیشکراسپتال کے آڈٹ کیلئے محکمہ صحت کے اعلیٰ افسران پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی ہے۔جس میں ڈاکٹر رادھا کرشن پوار(ڈپٹی ڈائریکٹر،محکمہ صحت)، ڈاکٹر پرشانت واڈیکر (معاون ڈائریکٹر،محکمہ صحت)، ڈاکٹر ناگ ناتھ یمپلے(ڈسٹرکٹ سرجن)، ڈاکٹر نینا بوروڈے(چیف میڈیکل آفیسر،پی ایم سی) اور ڈاکٹر کلپنا کامبلے(میڈیکل آفیسر،ماہر امراض نسواں) شامل ہیں۔