وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ اس وقت تک مذاکرات نہیں ہوسکتے جب تک کچھ تبدیلیاں نہیں آتیں۔
EPAPER
Updated: March 24, 2025, 11:32 AM IST | Tehran
وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ اس وقت تک مذاکرات نہیں ہوسکتے جب تک کچھ تبدیلیاں نہیں آتیں۔
خطے میں بڑھتی کشیدگی اور ایران کو امریکی انتباہات کے درمیان نئے جوہری معاہدہ پر بات چیت کے مطالبہ کے باوجود ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے زور دے کر کہا ہے کہ ان کا ملک امریکہ کے ساتھ اس وقت تک بات چیت نہیں کر سکتا جب تک کہ کچھ تبدیلیاں نہیں آتیں۔انہوں نے اتوار کو ایران کی خبر آن لائن نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے مزید کہا کہ واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات سے انکار ضد نہیں بلکہ تاریخ اور تجربے کا نتیجہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: حیدرآباد بمقابلہ راجستھان: رنوں کی بارش
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ۲۰۱۵ء کے جوہری معاہدہ کو اس کی موجودہ شکل میں بحال نہیں کیا جا سکتا لیکن اسے ایک ماڈل کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے ملک کی جوہری صورتحال میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ امریکی فریق کے ساتھ کسی بھی مذاکرات کا سب سے اہم مقصد پابندیوں کو ہٹانا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ جنگ سے گریز کیا ہے اور اس کا خواہاں نہیں ہے لیکن ساتھ ہی اس بات پر زور دیا کہ وہ اس کیلئے تیار ہے اور اس سے خوفزدہ نہیں ہے۔عراقچی نے حال ہی میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی طرف سے عمان کے راستے تہران کو بھیجے گئے پیغام کو اس کے جوہری پروگرام سے زیادہ خطرہ قرار دیا۔اس دوران ایک امریکی اہلکار اور دو دیگر باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ٹرمپ کے ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو لکھے گئے خط میں نئے جوہری معاہدے تک پہنچنے کیلئے دو ماہ کی ڈیڈ لائن بھی شامل ہے۔تاہم خامنہ ای نے گزشتہ جمعہ کو اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکی دھمکیوں کا کوئی فائدہ نہیں۔ تہران نے کسی بھی فوجی کارروائی کے سنگین نتائج سے بھی خبردار کیا ہے ۔۷؍ مارچ کو امریکی صدر نے کہا تھا کہ ایران کےساتھ جوہری جنگ بندی پر بات چیت ان کی ترجیح لیکن ساتھ ہی انہوں نے فوجی تصادم کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا۔