روس کا یوکرین میں اضافی فوج بھیجنے کا فیصلہ

Updated: September 22, 2022, 11:58 AM IST | Agency | Moscow

روسی صدر ولادیمیر پوتن کا قوم سے خطاب ، کہا :مادر وطن کی حفاظت کیلئے روس وہ سب کچھ کرے گا جو ضروری ہے، مغربی ممالک دھوکے میں نہ رہیں۔ یوکرین کے کچھ حصوں کو روس میں ضم کرنے سے متعلق ریفرنڈم کا اعلان ، مغربی ممالک کا نتائج تسلیم کرنے سے انکار

Russian President Vladimir Putin speaking. .Picture:AP/PTI
روسی صدر ولادیمیر پوتن  خطاب کرتےہوئے۔ تصویر: اےپی/ پی ٹی آئی

روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے بدھ کو یوکرین میں لڑنے کیلئے ۳؍ لاکھ اضافی فوجیوں کو بھیجنے کاحکم دیا  اور یوکرین کے’ماسکو کے زیر قبضہ علاقوں‘ میں اچانک ریفرنڈم کا بھی اعلان کیا  ، حالانکہ  ریفرنڈم سے متعلق امریکہ، جرمنی اور فرانس وغیرہ نے واضح کر دیا ہے کہ اگر روس کی طرف سے ایسا کچھ کیا گیا تو اسے قبول نہیں کیا جائے گا۔ میڈیارپورٹس کے مطابق بدھ کو روسی صدر ولادیمیر پوتن نے قوم سے ٹی وی پر خطاب کیا۔ اس موقع پر انہوں نے روس کو جوہری ہتھیاروں کی دھمکی دینے والے مغربی ممالک کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ اس طرح کی دھمکیاں دے رہے ہیں، انہیں یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ مادر وطن کی حفاظت کیلئےروس وہ سب کچھ کرے گا  جو  اس   کیلئے ضروری ہے۔  ان کے بقول: مغربی ممالک دھوکے میں نہ رہیں۔ ہمیں جوہری ہتھیاروں کی دھمکیاں دینے والوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ ہوا کا رخ کسی بھی وقت بدل سکتا ہے۔ ہم  مادر وطن اور عوام کے تحفظ کیلئے جو بھی ضروری ہو گا، کریں گے۔ اپنی آزادی کے دفاع کیلئے میں  ایک بار پھر کہتاہوں ہوں کہ ہم وہ  سب کچھ کریں گے  جو ضروری  ہوگا۔ پوتن نے کہا کہ اگر ہمارے ملک کی علاقائی سالمیت کو خطرہ لاحق ہوا تو ہم تمام دستیاب وسائل کا استعمال کریں گے۔ روس کے پاس جواب دینے کیلئے بہت سے ہتھیار موجود ہیںاور اس دعوے میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔کچھ عرصے سے مغربی ممالک ایسا  ظاہر کر رہے ہیں کہ وہ روس کو تباہ کرنا چاہتے ہیں اور اس کیلئے وہ یوکرین کے عوام کو جنگ میں ’بلی کا بکرا‘ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہمارا مقصد ڈونباس کے علاقے کو آزاد کرانا ہے۔ اس سلسلے میں نے یوکرین کے آزاد علاقوں میں مزید فوجی بھیجنے کیلئے محکمہ دفاع سے بھی بات چیت کی ہے۔ اس سے متعلق حکم نامے پر دستخط ہو چکے ہیں اورجلد ہی فوج بھیجنے کا سلسلہ شروع ہوجائے گا ۔ دریں اثناء روسی وزیر دفاع سرگئی شوئیگو نے اس کی تصدیق کرتےہوئے بتایا کہ صدر پوتن کے حکم کے تحت یوکرین کے محاذ پر روس کی فوجی مہم میں خدمات انجام دینے کیلئے۳؍ لاکھ اضافی فوجی اہلکاروں کو طلب کیا گیا ہے۔  واضح رہےکہ یوکرین اور مغربی ممالک روسی افواج کے زیر انتظام یوکرین کے تمام حصوں پر قبضے کو غیر قانونی سمجھتے ہیں۔روس اب ڈونیٹسک کے تقریباً ۶۰؍ فیصد حصے پر قابض ہے اور کئی ماہ کی شدید لڑائی کے دوران سست پیش رفت کے بعد جولائی تک لوہانسک کے تقریباً مکمل حصے پر قبضہ کر چکا ہے لیکن روسی افواج کی یہ کامیابیاں اس وقت خطرے میں نظر آئیں جب انہیں رواں ماہ پڑوسی صوبے خارکیف سے کھدیڑ دیا گیا، اس کے نتیجے میں روسی افواج نے ڈونیٹسک اور لوہانسک کیلئے اپنی اہم سپلائی لائنوں کا کنٹرول کھو دیا۔  پوتن نے اپنے خطاب میں ریفرنڈ م سے متعلق  کہا،’’ میں آپ کی حمایت پر بھروسہ کرتا ہوں۔ یوکرین کے باشندے جو روس کے قبضے میں ہیں وہ نئے نازی ازم کے چنگل میں نہیں پھنسنا چاہتے، ایسی رپورٹیں تمام بین الاقوامی میڈیا میں ہیں۔ ان علاقوں میں لوہانسک، ڈونیٹسک، اورزاپوریزیا میں ریفرنڈم کرایا جائے گا اور ہم ان کے ساتھ ہیں جو یوکرین کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے۔ ان علاقوں کے انتظامیہ نے کہا کہ ریفرنڈم جمعہ کو شروع کیا جائے گا۔‘‘ منگل کو یوکرین کے ماسکو کے زیر قبضہ علاقوں میں علاحدگی پسند حکام نے روس کے ساتھ الحاق پر فوری  ریفرنڈم کا اعلان کیا تھا۔واشنگٹن، برلن اور پیرس نے اس کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری کسی صورت میں ریفرنڈم کے نتائج  تسلیم نہیں کرے گی۔کیف میں برطانیہ کے سفیر کا کہنا ہے کہ پوتن اب بھی یوکرین کو سمجھنے سے انکار کررہےہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK