Updated: April 02, 2025, 10:12 AM IST
| Akola
بالا پور، تیلہارااور آکوٹ تحصیل کے تقریباً ۶۰؍ گاؤں پانی کی قلت سے دوچار ہیں، یہاں کے باشندے مجبوراً بورویل کا کھارا پانی پینےپر مجبور ہیں، جس کی وجہ سے گردے کے عارضہ سمیت مختلف امراض سے متاثر ہورہے ہیں، مقامی رکن اسمبلی نے الزام لگایا کہ حکومت بدلنے پر پانی فراہمی اسکیم روک دی گئی تھی۔
اپنےگھر کے باہر لگے بورویل سے نکلتے کھارے پانی کو تکتے ہوئے ایک مقامی خاتون دیکھی جاسکتی ہیں۔ تصویر: آئی این این
اکولہ ضلع کے بالا پور، تیلہارا اور آکوٹ تحصیل کےتقریباً۶۰؍گاؤں پینے کے پانی کی قلت کے سنگین مسئلےسے دوچار ہیں۔ یہاں لوگ بورویل کا کھارا پانی پینے پر مجبور ہیں، جس کی وجہ سے گردے کی ناکامی سمیت مختلف بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں۔
معاملہ کیا ہے؟
انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق بالا تعلقے کے ساور پاٹی گاؤں میں لوگ برسوں سے کھارا پانی پی رہے ہیں۔ اس وجہ سے گاؤں کے کئی افراد کے گردے خراب ہوچکے ہیں۔ان ہی میں سے ایک پرشانت کالے بھی ہیں۔ جن کے گردے خراب ہوچکے ہیں۔ اب تک اس کے علاج میں وہ بارہ لاکھ روپے جھونک چکے ہیں۔ اس بیماری نے پرشانت کو شدید مالی بحران سے دوچار کردیا ہے۔ علاج کے لئے پرشانت کو اپنا کھیت بھی بیچناپڑاہے لیکن اب تک ان کی صحت بہتر نہیں ہوئی ہے۔
اسی گاؤں کے میور وِروکر بھی بورویل کا کھارا پانی پینے کے سبب پتھری کے مرض میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ صرف ساور پاٹی ہی نہیں بالا پور تحصیل کے نیم کردا ٹاکلی گاؤں میں بھی کھارا پانی لوگوں کیلئے زہر ثابت ہورہا ہے۔شوبھا سابلے نے ایک سال کے اندر اپنے بیٹے پرکاش اور شوہر گجانن کو کھودیا ہے۔ ان دونوں ہی کی موت گردے کی خرابی کے سبب ہوئی ہے۔ سابلے نے انڈیا ٹوڈے سے بات چیت میں کہا کہ ’’گاؤں کا پانی کھارا ہے، جس کی سے میرے بیٹے اور شوہر دونوں کی کڈنی خراب ہوگئی۔ علاج کے دوران ان کی موت ہوگئی۔ ہمیں گاؤں میں پینے کیلئے میٹھا پانی نہیں ملتا۔ مجبوراً بورویل کا پانی پینا پڑرہا ہے۔‘‘
’’پانی کے حصول کیلئے ۱۵؍سے ۲۰؍کلومیٹر دور جانا پڑتا ہے‘‘
ساور پاٹی گاؤں کے باشندوں کی شکایت ہے کہ انتظامیہ برسوں سے صرف وعدے کررہا ہے ، لیکن حالات جوں کے توں ہیں۔ میٹھے پانی کے لئے لوگ ۱۵؍ سے ۲۰؍ کلومیٹر دور جاکر پانی لاتے ہیں۔ یا پھر مہنگے داموں پر خریدنے پر مجبور ہیں۔ مقامی شخص پرشوتم گھوگھرے نے کہا کہ’’پانی اتنا کھارا ہے کہ پیتے ہی منہ سوکھ جاتا ہے۔ گاؤں کے لوگ بیمار ہورہے ہیں، لیکن انتظامیہ کچھ نہیں کررہا ہے۔‘‘ اس معاملے میں مقامی صحافی دیوآنند پاٹل نے انتظامیہ پر تساہل و لاپروائی کا الزام عائد کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ’’ہر سرکار وعدہ کرتی ہے لیکن اقتدار میں آتے ہی اس مسئلے کو بھول جاتی ہے۔ گاؤں والوں کی حالت بدسے بدتر ہوتی جارہی ہے۔‘‘ بالاپور پنچایت سمیتی کے ایڈیشنل بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر ونود کالے نے اس معاملے میں گاؤں میں میڈیکل چیک اپ کرانے کا تیقن دیا ہے۔ انہوں نے گاؤں کا دورہ کیا تو مقامی افراد نے انہیں پانی پلایا جو بے حد کھارا تھا، جسے انہوں نے پیتے ہی فوراً تھوک دیا۔ بالاپور بی ڈی او ونود کالے نے آج تک سے کہا کہ ’’جلد ہی میڈیکل کیمپ لگاکر گردہ کے عارضے میں مبتلا افراد کی جانچ کی جائے گی۔ پانی کے معیار کی بھی جانچ کرائی جائے گی۔‘‘
مقامی رکن اسمبلی نے کیا کہا؟
بالا پور ودھان سبھا سیٹ سے شیوسینا(یوبی ٹی) کے رکن اسمبلی نتن دیشمکھ نے الزام لگایا کہ’’ ریاست میں اقتدار بدلنے کے سبب پانی فراہمی اسکیم کو روک دیا گیا ، جس سے یہ مسئلہ مزید سنگین ہو گیا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ’’ جب ہم(مہاوکاس اگھاڑی) اقتدار میں تھے توہم نے ۶۹؍ گاؤں میں پانی فراہمی اسکیم کے پروجیکٹ کی منظوری حاصل کرکےاس ضمن میں کام شروع کردیا تھا، لیکن سرکار بدلنے کے بعد یہ کام رک گیا تھا ۔ اس جانب توجہ دلانےپر اب دوبارہ اسے شروع کردیا ہے، اگلے چار سے پانچ ماہ میں لوگوں کو میٹھا پانی ملنے لگے گا۔‘‘